اردو کے بے مثل ادیب مظفر علی سید کا ایک قطعہ کچھ یوں تھا کہ
میں شمع سرطور کا رکھوالا ہوں
میں چشم زمانہ کو یدبیضا ہوں
یہ دور کچھ ایسا ہے کہ لاکھوں ڈھب سے
فرعون یہ کہتا ہے کہ میں موسیٰ ہوں
پورے یقین سے تو نہیں کہا جا سکتا کہ اس قطعہ کی وجہ نزول کیا تھی۔ مرحوم نے یہ قطعہ تحریک پاکستان کی سرتوڑ مخالفت کے بعد ”نظریہ پاکستان “ تخلیق کرنے والوں کے بارے میں لکھا تھا یا مذہب کے نام پر سیاست کا کاروبار چمکانے اور اپنی ”اسلام پسندی “ کو ”عسکریت پسندی“ تک لے جانے والوں کے بارے میں لکھا تھا ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حب الوطنی کے بہروپ میں اپنا ملک توڑنے والوں کے بارے میں لکھا گیاہو یا ”چراغ مصطفوی “اور ”شرار بولہبی “ میں فرق ، تمیز یا فاصلہ مٹانے کی جسارت کرنے والوں کے بارے میں کہا گیا ہومگر اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا وہ اگر موسیٰ ہونے کا دعویٰ کرتے تو شائد جعلی پیغمبری کو نقلی خدائی سے زیادہ پذیرائی حاصل ہو جاتی ۔
پاکستان کے بہت سے حلقوں میں نازی جرمنی کی پراپیگنڈہ مشنری کی تقلید میں یہ سوچ پھیلائی جا رہی ہے اور اسے پذیرائی بھی مل رہی ہے کہ پاکستان کی سول حکومت اور پاک فوج اس وقت اپنے ملک کی بقاء، سلامتی اور حاکمیت کی جنگ نہیں لڑ رہی سامراجی طاقتوں کے خلاف اسلامی دہشت گردوں کے جہاد کے خلاف امریکہ کی جنگ لڑ رہی ہے ۔ گویا افغانستان میں سوشلزم نافذ کرنے والی روسی فوجوں کے خلاف مرد مومن مرد حق کی سربراہی اور سرکردگی میں ہونے والی جنگ امریکہ کی جنگ نہیں تھی ،شرکت اسلام کی جنگ تھی کیونکہ اس جنگ کے دوران ”اسلام پسندوں“ کے حجروں پر امریکی ڈالروں کی بارش ہو رہی تھی اور ان کے صحن میں کھڑی بائیسکل پجارو میں تبدیل ہو رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی وطن عزیز میں ہیروئن کی معیشت اور کلاشنکوف کی تہذیب بھی سمگل ہو رہی تھی۔ بے نظیر بھٹو شہید نے کہا تھا کہ ”جمہوریت بہترین انتقام “ اور ان کے جواب میں دہشت گردی کو تحریک پاکستان کا بدترین انتقام ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔
سال 2009ء کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں اور خودکش حملوں کے نئے ریکارڈ قائم کئے گئے ہیں اور پاکستان کو دنیا کے سب سے زیادہ خطرناک ملکوں کی صف میں نمایاں جگہ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ دہشت گردی کی ان وارداتوں کی شدت اور نقصانات کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سال 2008ء میں اگر پورے ملک میں ایسی وارداتوں میں مارے جانے والوں کی تعداد نو سو کے قریب تھی تو سال 2009ء کے دوران صرف صوبہ سرحد میں دہشت گردی کی وارداتوں میں نو سو سے زیادہ بے گناہ، پرامن، شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے ۔
سال 2009ء میں خودکش حملوں کے ذریعے اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں دو ہزار تین سو سے زیادہ لوگ مارے گئے ۔ ایک ہزار سے زیادہ سرکاری اہلکار اس آپریشن میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تھے اور آٹھ ہزار ایک سو 35دہشت گردوں اور تخریب کاروں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایا گیا۔
اس عرصے میں پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں خودکش حملوں کی تعداد بارہ تھی جن میں 129شہری اور سرکاری اہلکار شہید ہوئے 679شدید زخمی ہوئے سینکڑوں لوگ زندگی بھر کے لئے معذور اور اپاہج بنا دیئے گئے ۔
علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کے سب سے بڑے قومی مرکز لاہور میں دہشت گردوں کی سب سے زیادہ توجہ پولیس کے اداروں اور مراکز پر رہی اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ملک کی نئی نسل تھی جس کا پورا تعلیمی سال تقریباً ضائع ہو گیا ہے ۔سال 2009ء کی دہشت گردیوں کا آغاز ماہ جنوری میں لاہور کے تھیٹروں کے باہر پانچ دھماکوں سے کیا گیا جن میں درجنوں لوگ زخمی ہوئے ۔ تین مارچ کو سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملہ کیا گیا جس میں مہمان ٹیم کو بچانے کی کوشش میں چھ سرکاری اہلکار اور ایک شہری زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 30مارچ کو مناواں پولیس سنٹر پر دھاوا بولا گیا۔ 27مئی کو لاہور میں پولیس کے دو اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ 12جون کو سرفراز نعیمی خودکش حملے کی زد میں آکر شہید ہوئے، سال کا آخری اور سب سے زیادہ خوفناک دھماکہ لاہور کی مون مارکیٹ میں کیا گیا جس میں ساٹھ کے قریب شہری، خواتین اور معصوم بچے مارے گئے ۔ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دینے والی واردات دسویں محرم الحرام کو کراچی میں عاشور کے مرکزی جلوس پر حملے کی صورت میں تھی اور نئے سال کی پہلی خوفناک واردات لکی مروت کے قریب والی بال کے مقابلے میں شریک ہونے والے عام شہریوں میں سے ایک سو شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والی ہے اور آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
یہ صداقت پوری دنیا پر واضح ہونے میں اب کچھ زیادہ وقت نہیں لے گی کہ امریکہ کی جنگ پاکستان کی سول حکومت اور پاک فوج نہیں لڑ رہی۔ امریکہ کی جنگ گیارہ ستمبر 2001ء کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر خودکش حملہ آور بھیجنے والی القاعدہ تنظیم لڑ رہی ہے جس نے پوری دنیا میں مسلمانوں کی زندگی کو شکوک وشبہات کی اذیت سے دوچار کر دیا ہے ۔پوری دنیا کی محنت کی منڈیوں میں روزگار کمانے والے مسلمان محنت کشوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے ۔ دنیا بھر کے مسلمان ملکوں کی عبادت گاہوں پر پہرے بٹھا دیئے ہیں ۔ مسلمان ملکوں کے بچوں کو ان کے تعلیمی اداروں کے اندر خوفزدہ کر دیا ہے پوری دنیا میں سب سے زیادہ نقصان مسلمان ملکوں کی معیشت اور معاشرت کو پہنچایا ہے ۔ چنانچہ عالم اسلام کی سامراجیوں اور ”یہودوہنود“ بھی بڑی بلکہ سب سے بڑی دشمن تنظیم القاعدہ ہے جس کے حامی اپنے شہریوں اور بچوں کو دہشت گردوں کی دستبرد سے محفوظ رکھتے اور بچانے کی جنگ لڑنے والوں کو امریکہ کی جنگ لڑنے والے قرار دیتے ہیں اور لاہور کی مون مارکیٹ کو جلا کر راکھ کر دینے والے دہشت گردوں، عاشور کے مرکزی جلوس پر حملہ کرنے والے ظالموں اور لکی مروت کے والی بال میچ کو دیکھنے والوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والوں کو سامراج کے خلاف مقدس جہاد میں مصروف قرار دیتے ہیں۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=399616

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. مستقبل قریب کا ہندوستان….گریبان … منوبھائی
  2. دال سے درخت- منوبھائی
  3. ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں …گریبان … منوبھائی
  4. اندیشہ ہائے دور و دراز- منوبھائی
  5. سال 2009ء کی صف ماتم – منوبھائی

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha