مختلف موضوعات پر بات کرتے ہیں۔ پروٹوکول کے اعتبار سے صدر مملکت کو سرفہرست ہونا چاہئے بلکہ یوں کہئے کہ ان کی حالیہ تقریر کو سرفہرست ہونا چاہئے جو کافی توبہ شکن اور زلزلہ انگیز تھی۔ اس تقریر پر لمبی لمبی تحریریں کھینچی گئیں، بڑے بڑے تجزیئے پیش ہوئے جو سب کے سب اپنی اپنی جگہ خوب تھے لیکن میری مختصر سی عرض یہ ہے کہ مجھے تو تقریر ایک ڈر ے ہوئے آدمی کی للکار محسوس ہوتی ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ ایک ایسے آدمی کی پکار جو شدید ترین قسم کے عدم تحفظ کا شکار ہو۔ تقریر سن کر ایک شعر یاد آیا جو تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ پیش خدمت ہے۔ ترمیم کا برا مت منائیں کہ یہ تقسیم شدہ قوم کا امتیازی نشان ہے جس کے بغیر ہمارا آئین بھی ادھورا ہے۔
میں سازشوں میں گھرا اک عجیب شہزادہ
یہیں کہیں کوئی خنجر مری تلاش میں ہے
صدر صاحب کو میڈیا سے بہت شکایت ہے تو ذرا حوصلہ رکھیں۔میں اپنے 30سالہ تجربہ کی بنیاد پر انہیں یقین دلاتا ہوں کہ اگر کوئی ”جانبداری“ سے کھیل رہا ہے تو سمجھیں اپنی جان اور ساکھ پر کھیل رہا ہے کیونکہ قارئین اور ناظرین ”ڈنڈی“ اور ”جانبداری“ پسند نہیں کرتے۔ اپنی کارکردگی پر توجہ فرمائیں کہ یہی اصل بات ہے جس کے بعد ہر بات ثانوی بلکہ بے معنی ہو جاتی ہے۔
آج کے ایجنڈے کا دوسرا آئٹم ہے وزیراعلیٰ پنجاب جس نے این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے جو تاریخی کرار ادا کیا اس کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ ”پلازہ شکن“ شہباز شریف کی پلازہ شکنی کو متنازع بنانے کی کوشش ہو رہی ہے حالانکہ اس حرکت پر اس شخص کی غیرمشروط حمایت کی جانی چاہئے۔ ہم کب تک قانون شکنی کی دلدل میں دھنسے رہیں گے؟ پورا ٹرائیکا مجرم ہے۔
غیرقانونی پلازے بنانے والے مافیاز بھی
ان کو درگزر کرنے او ر حرام کھانے والے سرکاری کل پرزے بھی
اور ان میں دکانیں، دفاتر خریدنے والے بھی
ہمارے ’تجاوزاتی رویئے“ اور ”کلچر“ میں تبدیلی کے لئے یہ جھٹکا بہت ضروری تھا۔ پاپولر فیصلے اور ڈرامے کرنا بہت آسان ہوتا ہے جبکہ لیڈر شپ کا اصل امتحان ہی اس وقت ہوتا ہے جب غیرمعمولی فیصلے کرنے پڑیں۔ آئندہ کسی پلازے میں دکان دفتر خریدتے وقت ہر کوئی ہزار بار سوچے گا کہ اس جرم میں شریک ہونے کی سزا دس بیس سال بعد بھی بھگتنی پڑ سکتی ہے جو بہت ہی مہاتڑ ہیں ان کی مدد ضرور کریں لیکن اوور آل یہ ایک زبردست فیصلہ اور عمل ہے کہ اصل لیڈر دراصل ٹیچر ہوتا ہے جو کچھ ہو رہا ہے، تجاوزات کلچر کے خاتمہ کے لئے موثر کریش کورس ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی برادر محترم سید منور حسن کو پیشگی مبارک ہو کہ ان کی صاحبزادی کے عقد کاایسا دعوت نامہ موصول ہوا کہ طبیعت خوش ہوگئی۔ سید صاحب کی سادگی پر فخر اورپیار محسوس ہوا۔ عام سے لیٹر ہیڈپر ہاتھ سے لکھا ہوا یہ پاکیزہ، باوقار اور بابرکت دعوت نامہ ان سب کیلئے آئینہ ہے جوشادیوں پرلاکھوں روپے دعوت ناموں پر لٹا دیتے ہیں جہاں سو پچاس ہزار کا جہیز بے شمار بچیوں کی زندگیاں نگل رہا ہو وہاں اسراف اور نمود و نمائش سے بڑی لعنت کیا ہوگی؟ اللہ پاک ہم سب کو سید منور حسن کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق، علم، عقل، حوصلہ اور ظرف عطا فرمائے۔
میں جمعرات کی رات ”چوراہا“ کی ریکارڈنگ سے فارغ ہو کر واپس ماڈل ٹاؤن جارہا تھا جب علامہ اقبال ٹاؤن کی مین روڈ پر چند نوجوانوں نے گاڑی کو گھیرا اور نئے سال کی آمد پر پھول پیش کیا اور ساتھ ایک پمفلٹ بھی جس پر لکھا تھا:
نیا سال مبارک
منجانب
میاں محمود الرشید صدر تحریک ِ انصاف لاہور
سعد بن اعظم ہاشمی صدر علامہ اقبال ٹاؤن
تھینک یو… کاش پھولوں اور خوشبوؤں کے یہ انداز عام ہو جائیں۔ اس خوبصورت سوچ اور انداز پر پوری تحریک ِ انصاف کو مبارک حتیٰ کہ عمران خان کو بھی۔
تازہ ترین خبر ہے کہ ہندوستان بیک وقت چین اور پاکستان پر حملہ کے لئے ”وار گیمز“ میں مصروف ہے۔ ضرورت سے زیادہ سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں کہ بیک وقت دو نیوکلیئر پاورز کے ساتھ پنگا پاگل پن ہے اور برہمن اتنا بیوقوف نہیں ہوتا… کاش اس خطہ کے حکمران ہوش مندی کا ثبوت دیں۔ خود کچھ سوچنے کے قابل نہیں تو ”یورپی یونین“ سے ہی کچھ سیکھ لیں۔ ان کی عقلوں پر رونا آتا ہے جو ہیلتھ اور ایجوکیشن پر تو پورے بجٹ کا پورا تین فیصد بھی خرچ نہیں کرتے لیکن بیش قیمت اسلحہ کی عیاشی جاری ہے۔
کب تک؟
اس خطہ کے نصیب میں اتنی دیوالیہ لیڈرشپ کب تک؟

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=399073

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha