زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم پوری تصویر کو بھلا کر صرف درخت گننے کے فن میں مہارت حاصل کرتے جا رہے ہیں۔ ہم چیزوں کو صرف ایک تناظر میں دیکھتے ہیں اور حقیقت کے دوسرے رخ کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے غلط نتائج نکلتے ہیں او ر پھر بڑے المیے کا آغاز ہوجاتا ہے۔ چلئے دلیل کی رو سے یہ فرض کرلیتے ہیں کہ ایک بد قسمت ملک کے بد قسمت صدر آصف علی زرداری ہی ملک میں موجود ہزاروں برائیوں کی وجہ ہیں اور اسلامی جمہوریہ کے لئے سب سے زیادہ نقصان دہ شخصیت ہیں ۔ لیکن یہ فیصلہ کرنے سے پہلے کہ وہ کس لائق ہیں ان کی حقیقی یا مفروضہ بدنامی کو تاریخ کے آئینے میں تولنا ضروری ہے۔ 
کیا زرداری نے کوئی ایسا کام کیا ہے جو 1965ء کی ناقابل شکست بے وقوفی کے قریب تر ہے؟ ہمیں اگر کسی چیز نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے تو وہ کشمیر پر قبضہ کے لئے ہمارا فوج کو بلانا ہے۔ تاشقند میں ہم نے مسئلہ کشمیر کی شدت کم کرنے کے عمل کو ختم کرڈالا تھا۔
کیا زرداری نے ایسے جرائم کئے ہیں جو اپنے دور میں پاکستان کو توڑنے والے جنرل یحیی خان کی بے وقوفی کے برابر ہوں۔ اگر تاریخ میں کبھی بڑی تصویر نے کسی کو جانے دیا ہے تو وہ محمد شاہ رنگیلا ہیں۔حالات ان کی سمجھ اور کنٹرول سے باہر چلے گئے تھے ۔بالکل اسی طرح جیسے آج ہم بلوچوں کی تمناؤں کو سمجھ نہیں پار ہے ہیں اس وقت بھی ہم مشرقی پاکستان کی آرزؤوں کو مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر رہے تھے ۔ 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف سڑکوں پر نکلنے والے غضبناک ہجوم نے ہی نظام مصطفی کی اسٹیبلشمنٹ کو دعوت دی تھی۔ بالکل آج کے اصلاحات کاروں کی طرح ،جن کا خیال ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف لڑ رہے ہیں ، 1977کے جوشیلوں کو بھی اس بات پر قائل کیا گیا تھا کہ کسی نہ کسی طرح برائی کے اس مجسمے بھٹو پر قابو پا لیا گیا تو وعدہ کردہ بادشاہت صرف ایک قدم کے فاصلے پر ہے۔
بھٹو کو نکال دیا گیا اور آخر کار پھانسی دے دی گئی لیکن عوام کا یہ جذباتی گروہ نظام مصطفی یا اس جیسے کسی نظام کی گرد کو بھی نا پاسکا۔ اس کے برعکس ان کے غموں میں مزید اضافے کے لئے انہیں جنرل ضیاء الحق اور ان کے طویل ظالمانہ دور کی تاریکی میں دھکیل دیا گیا۔ ضیاء نے پہلے اسلامائزیشن کے ہدف کے حصول کا دعوی کیا۔ پھر احتساب کا نام لیا گیا۔ لیکن درحقیقت یہ جمہوریت کو دبانے اور اپنی حکمرانی کو طول دینے کا ایک بہانہ تھا۔ ضیاء شاید پاکستان کے لئے سب سے زیادہ تباہ کن حکمران ثابت ہوئے ، ہم آج تک انہی کے اقدامات کے نتائج بھگت رہے ہیں۔
ہماری تاریخ میں ہمارے اچھی نیتوں کی معصومیت اور سادگی سے زیادہ کوئی چیز خطرناک نہیں رہی ہے۔ ان نیتوں کے گھوڑے پر سوار ہو کر ہم کسی دیر پاخوشی کے دروازے کے بجائے جہنم کے دروازے کے سامنے جا پہنچتے ہیں۔ اس کو بمشکل اتفاق قراردیا جائے گا کہ آجکل سپریم کورٹ کو اصلاحات کا وسیع ایجنڈا نافذ کرنے کی ترغیب دینے والوں میں سے اکثر مشرف حکومت کے حامی رہے ہیں ۔ اس قسم کے تضادات ہماری تاریخ کا حصہ رہے ہیں ۔ خان روئیداد خان نے مشرف کو ملک دشمنوں سے نجات دلانے والا مسیحا قرار دیا تھا۔ خان عمران خان اپنی مسلسل پریشان کن احساسات کے اجاگرہونے تک مشرف کو خوش آمدید کہنے والوں میں شامل رہے۔ کم از کم عمران کے پاس یہ ذوق ہے کہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ غلط تھے ۔ دوسرے تواتنی شرم بھی نہیں رکھتے ۔ یہ بات حقیقت ہے کہ آج اصلاحات کے نفاذ کا نعرہ لگانے والے اکثر میڈیا کے پنڈتوں نے در حقیقت مشرف کے نمائندے کا کردار ادا کیا تھا۔ ہمیں یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔
زرداری اس بات کے لائق ہیں کہ لغت میں موجود نا پسندیدگی کی تمام صفات کے ساتھ متصف کردیئے جائیں لیکن کیا وہ کارگل کی تباہی جیسے گنا ہ کبیرہ کے مرتکب ہوئے ہیں ؟ یہ مہم جوئی کشمیر میں دوبارہ اپنے مفادات پر قبضہ کے لئے شروع کی گئی۔ لیکن اس کا اختتام پاکستان پر غضبناک عالمی تنقید سے ہوا۔ اس مہم جوئی کی بدولت ”سرحد پار دہشت گردی“ کی نئی اصطلاح وجود میں آئی اور اسی اصطلاح کی لاٹھی سے ہمیں اب تک مسلسل پیٹا جارہا ہے۔ کیا ہم کارگل کی تفتیش کیلئے ،جیسا کہ ہمیں کرنا چاہئے ،کو ئی قومی کمیشن قائم کررہے ہیں ؟ نہیں ، اس کے بجائے ہم تو دوسری چیزوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ مشرف کی فوجی حکومت کی بات کریں تو جس وقت ہماری اعلی ترین قانونی اتھارٹی ٹرپل ون بریگیڈ نے 12اکتوبر1999ء کی شام ہمارے آئین کی دوبارہ تشریح کی تو ہماری عدلیہ موجودہ قیادت کا کردار کیاتھا؟ صرف کچھ جج ، جن میں چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کا نام ذہن میں آتا ہے، نے دو ماہ بعد جاری ہونے والے عبوری آئینی آرڈر (PCO) کے تحت حلف نہیں اٹھایاتھا۔ جہاں تک ہماری کمزور یادداشت ساتھ دیتی ہے جلد یا بدیربقیہ سب ججوں نے PCOکے تحت حلف اٹھا لیا تھا۔ نا صرف یہ بلکہ ان میں سے کچھ اس بنچ میں بھی شامل تھے جس نے مشرف کے حکومتی قبضے کو جائز قرارد یاتھا۔ عزت ماب چیف جسٹس سمیت کچھ جج صاحبان اس بنچ کا بھی حصہ تھے جس نے ظفر علی شاہ کیس (2005) میں دوسری مرتبہ مشرف کے حکومت پر قبضے کو جائز قرار دیا۔ بلاشبہ ہمیں پرانی دشمنیاں ختم کرکے حال میں رہنا چاہئے۔ لیکن یہ اصول سب کے لئے برابر ہونا چاہئے۔ ہمیں اپنی پسند کی یادوں یا منتخب رد پر یاد گاریں تعمیر نہیں کرنا چاہیں۔ اگر 2007ء کا PCOایک بری چیز ہے تو پھر 2000ء کے PCOکو کیا شمار کیا جائے گا؟ اور اگر اس حمام میں سب ننگے ہیں تواس سے تھوڑا ہی سہی ایک انکساری کا احساس پیدا ہونا چاہئے۔ اور اگر اس منطق کو تسلیم بھی کرلیا جائے کہ کچھ اشیاء کی فطرت میں تبدیلی ممکن ہے کہ کسی موقع پر مشکوک سرگرمیوں ملوث شخص دمشق کی راہ (یا کسی دوسرے راہ)پر بھی گامزن ہوسکتا ہے اور ایک انتہائی مشہور اور دلیر شخص بن سکتا ہے تو پھر شک کا فائدہ دیتے ہوئے اس اصول کو اس طرح کے کاموں میں ملوث ہونے والے کسی دوسرے تک بھی وسعت نہیں دینی چاہئے؟
جناب زرداری نے معاہدے کئے اوراس میدان میں اپنے ہنرکی بدولت کمیشن کمائی اور اس طرح مسٹر ٹین پرسینٹ کا خطاب پایا۔ آ پ جو بوتے ہیں وہ ہی کاتتے ہیں۔ لہذا اگر زرداری کو انکے ماضی کے بھوت تنگ کرتے ہیں اور انکا ماضی قومی مباحثوں اور مذاکروں میں سامنے آجاتا ہے تو اس پر انہیں اپنے آپ سے ہی گلہ کرنا چاہئے۔ لیکن ، چاہے ہم پسند کریں یا نہ کریں ، اب وہ محض اپنے ماضی کی نقل سے بڑھ کر بھی کچھ ہیں۔ وہ اس جمہوریہ کے آئینی طور پر منتخب صدر ہیں۔ بلاشبہ حکومت چلانے میں ناکامی، بطور صدر اپنی غلطیوں، اپنے نامناسب اقدامات اور ان پر لگائے جانے والے نا قابلیت کے الزامات کی وجہ سے ان کو شکنجے میں جکڑا جاسکتا ہے یا ان کا مذاق اڑایا جاسکتا ہے ۔ یہ جمہوریت اور سیاسی عمل کا ایک حصہ ہے۔ لیکن جب خفیہ طاقتیں اپنے خفیہ ایجنڈے کے ساتھ چیزوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کررہی ہوں، پیچھے بیٹھ کر رسی ہلا رہی ہوں ، اور میڈیا اور دیگر اہم عہدوں پر بیٹھی شخصیات بھی جانے انجانے میں اس کھیل کا حصہ بن گئی ہوں تو یہ اقدامات جمہوریت کی مضبوطی کے اقدامات نہیں بلکہ ایک دھوکہ اور سازش کہلائے گے۔ 2007کے PCO کے غیر قانونی ہونے کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ 31جولائی کو آیا۔ لیکن صدر زرداری کے خلاف بہت پہلے سے چھریاں تیز کر لی گئیں تھیں ۔ یہ بات حقیقت ہے کہ زرداری جس ٹیم کی سربراہی کررہے ہیں مجموعی طور پر ان میں نا اہلیت کی کمی نہیں ہے۔
ایک اوسط درجے کے ملک میں بظاہر یہ لوگ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ روشن ہیں۔ ( میں بھی اپنے لئے ڈاکٹر یٹ کی ڈگری کا آرزو مند ہوں اورابھی تک مونٹی سیلو یونیورسٹی سے اس تعلیمی نشست کو دریافت کرنے کی کوشش کررہا ہوں )
ہو سکتا ہے کہ صدر زرداری اپنے سب سے بڑے دشمن ہوں۔ نو ڈیرو پر بی بی کی دوسری برسی کے موقع پر ان کو ایسی تقریر کرنے کے لئے کس نے کہا تھا؟ اس تقریر میں کئی چیزیں ایسی تھیں کہ ان کا ذکر نہ کیا جانا ہی بہتر تھا۔ قسمت جن لوگوں کو تباہ کرنا چاہتی ہے تو پہلے ان سے ایسی تقاریر کرواتی ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ زرداری کو کونے میں لگایا گیا ہے اورزرداری کے اس مینڈیٹ کو جو قانونی طورپر ایک یادگار مینڈیٹ تھا ،دوسرے ذرائع سے ختم کرایا جارہا ہے۔
تمام معزز جج صاحبان بڑے باعزت اور سچائی کے علمبردار ہیں جو مشرف کی آمریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے او ر انہوں نے ملک میں امید کی نئی شمع روشن کی ۔ لیکن یہ ساری قیادت تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ اگر یہ ساری قیادت قابل احترام ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مساوات میں شریک ہر طاقت بھی اسی طرح کھیل رہی ہے۔
یہاں احتیاط اور ماضی اور حال میں فرق کرنے کی ضرورت ہے۔ آئیے اپنے ماضی کا مطالعہ کریں اور صحیح نتائج اخذ کریں ۔ لیکن ارادی یا غیر ارادی طور پر جمہوریت کو غیرمستحکم کرنے کا ذریعہ ہر گز نہ بنیں۔ قومی مجرموں کا صفایا ایک اچھا مقصد اور مقبول عام نعرہ ہے لیکن ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ حقائق یا نسبتی اہمیت کے ادراک کے بغیر اچھی نیتیں غیر مقصود نتائج کی حامل ہوتی ہیں ۔ جمہوریت کا محل ایک موت کا کنواں ہے ۔ یہاں پر ایک ستون کو گر ا کر بقیہ عمارت کے برقرار رہنے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا۔ یاد رہے اگر عمارت کی سلیبوں میں دراڑیں پڑنا شروع ہوگئیں تو ہارنے والے ہم ہی ہوں گے۔ اور ہمیشہ سایوں میں رہ کر کام کرنے والوں کے لئے یہ آخری قہقہہ لگا نے کا موقع ہوگا۔ لہذا نیا سال مبارک۔ ہمیشہ ڈرامائی صورتحال میں زندہ رہنا ہی ہماری سب سے بڑی لعنت ہے۔ دعا ہے کہ اس نئے آنے والے سال کی ہنگامہ خیزیاں پچھلے گزرے ہوئے سال سے کچھ کم ہوں

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=399062

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha