میں پچاس برس بعد ان گلیوں اور بازاروں میں گم اس آٹھ سالہ لڑکے کو ڈھونڈ رہا تھا جو سونف کے کھیتوں میں بھاگا پھرتا، برف خانے سے نکلی برف کی سلوں پر ”سکیٹنگ“ کرتا اور اپنے سکول کے درمیان سے گزرتی ندی میں تختیاں دھوتے ہوئے تختیاں لڑانے کے مقابلے میں کبھی جیت جاتا کبھی ہار جاتا۔ وہ لڑکا اور اس کے ساتھی بندروں جیسی برق رفتاری کے ساتھ درختوں پر چڑھنے اترنے میں ماہر تھے۔ 
میں نے تنگ آ کر گھر فون کیا اور کہا کہ جاوید بھائی کو لائل پور فون کر کے کہیں کہ مجھ سے رابطہ کریں۔ چند منٹ بعد ہی ان کا فون آ گیا تو میں نے بتایا کہ … ”بھائی جان! میں میاں چنوں میں اپنا گھر ڈھونڈ رہا تھا سوچا آپ سے گائیڈنس لے لوں لیکن اسی دوران ایک صاحب مل گئے جو آپ کو جانتے اور بچپن میں ہمارے گھر بھی آیا کرتے تھے۔ جاوید بھائی نے بے ساختہ کہا ”یہ میرا دوست الیاس ہو گا“ میں نے جملہ دوہرایا تو وہ مہربان رہبر بولا … ”میں الیاس کا چھوٹا بھائی ہوں“
میں حیرت، حسرت، محبت اور عقیدت سے اس خوبصورت سہہ منزلہ مکان کو دیکھ رہا تھا جس میں میرے دادا نے میری علمی بنیاد رکھی تھی۔ موجودہ مالکان کو بتایا گیا کہ ایک مسافر بوڑھا اس مکان میں اپنا بچپن ڈھونڈنے اور اپنے دادا مرحوم کی پرچھائیوں سے ملنے آیا ہے تو گھر کے دروازے کھل گئے۔ صرف ایک بڑی تبدیلی تھی کہ اوپری منزلوں کے صحن کے درمیان میں لوہے کے جنگلوں اور فرش سے محفوظ کیا گیا جو خلاء ہوتا تھا، جس سے گراؤنڈ فلور بھی دکھائی دیتا … وہ پر کر دیا گیا تھا ورنہ سب کچھ تقریباً جوں کا توں تھا صرف دنیا بدل چکی تھی … نہ دادا جان باقی تھے نہ وہ 8 سالہ لڑکا۔ مین روڈ پر آئے تو کچھ لوگ منتظر تھے میں نے بچپن کے دو سکول فیلوز کا نام لیا تو بولے … دونوں فوت ہو چکے مجید بھی جعفری بھی۔ میں نے پوچھا ”کچھ فاصلے پر ”اپنا کتاب گھر“ نام کی ایک دکان ہوتی تھی جہاں سے ہم کہانیوں کی کتابیں اور تصویریں خریدا کرتے تھے۔“ ”وہ دکان ویسے ہی موجود ہے“ کسی نے کہا تو میں بے اختیار کھنچتا چلا گیا۔
چلو کہ چل کے چراغاں کریں دیار حبیب
اجڑ گئے ہیں پرانی محبتوں کے مزار
آنسوؤں سے چراغاں کے بعد ہم اصل منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ مستند، معروف، مقبول اور محبوب ترین عالم و مبلغ حضرت مولانا طارق جمیل کے تلمبہ کی طرف کہ شیر شاہ سوری کے زمانہ میں ان کے بزرگ اس علاقہ کے حکمران تھے آج مولانا طارق جمیل دلوں پر حکومت کرتے ہیں کیونکہ ہم جیسے گنہگاروں سے بھی محبت کرتے ہیں۔ کیسے بختوں والے بزرگ تھے جن کے دونوں بیٹے خلق خدا کے لئے روشنی کے مینار ہیں۔ مولانا طارق جمیل نے زندگی دین میں رہنمائی کے لئے وقف کر دی اور چھوٹے بھائی ڈاکٹر طاہر جمیل (ہارٹ سپیشلسٹ) نے اپنی زندگی مسیحائی کے لئے وقف کر دی ہے کہ تلمبہ سے لاہور تک بے وسیلہ لوگوں کا لاڈلا سرجن ہے۔ ڈاکٹر طاہر لاہور ہوتے ہیں اور مولانا طارق جمیل انتھک تبلیغی دوروں پر لیکن غیر موجودگی میں بھی خلق خدا سے محبت کرنے والے مہمان نواز بزرگوں کا یہ ڈیرہ اور لنگر آباد رہتا ہے۔ ذات، برادری، رنگ، نسل، طبقہ، فرقہ کوئی نہیں پوچھتا کہ مہمان صرف مہمان اور ہر مہمان وی آئی پی کہ ان کے بزرگ بھی مہمانوں کے بغیر دستر خوانوں کو ویرانوں سے زیادہ کچھ نہ جانتے تھے۔ دوستوں کی ”ہیر“ ڈاکٹر فیاض رانجھا کی قیادت میں یہ خاکسار، یار غار صلاح الدین درانی صلو، ممتاز ترین سرجن ڈاکٹر خالد گوندل، عزیزی نور رانجھا، امریکہ پلٹ منشاء، رانا گلزار، ٹیپو اور اطہر عرف روغنی نان پر مشتمل یہ قافلہ جب شام ڈھلے تلمبہ پہنچا تو مولانا طارق جمیل کی آرام بخش اور صبح صادق جیسی مسکراہٹ ہماری منتظر تھی۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=398875

روحانی سفر کی روداد -…حسن نثار

One thought on “روحانی سفر کی روداد -…حسن نثار

  • 06/05/2013 at 8:13 pm
    Permalink

    I NEED TAREKHI MUKAM KAY SAFAR KI RODAD

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.

%d bloggers like this: