سچ پوچھیں تو مجھے صدر آصف علی زرداری سے ہمدردی سی پیدا ہوگئی ہے۔ انہیں بہت عرصے سے آدھا زمین میں گاڑھ کر سنگسار کیا جا رہا ہے بلکہ میرے ایسے بہت سے نو آموز بھی ان پر اپنے نشانے ”پکا“ رہے ہیں، جس کا جی چاہتا ہے وہ راہ چلتے انہیں ایک ٹھاپ لگا دیتا ہے چنانچہ ان کی نو ڈیرو کی تقریر، تقریر نہیں دردوکرب میں ڈوبی ہوئی وہ چیخ تھی جو اس صورتحال میں روح کی گہرائیوں سے بلند ہوتی ہے وہ جمہوری طریقے سے صدر پاکستان منتخب ہوئے ہیں، پارلیمینٹ میں ان کی پارٹی کی اکثریت ہے چنانچہ انہیں سنگسار کرنے والے پارلیمینٹ کے باہر کھڑے ہو کر چیخ و پکار کر رہے ہیں کہ اس شخص کو صدر پاکستان نہیں رہنا چاہئے۔ ان کی تقریر کے مختلف نکات سے یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ اور امریکہ کو للکارا ہے مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہمیں اسٹیبلشمنٹ اور امریکہ سے اتنی ہمدردی کیوں پیدا ہوگئی ہے کہ ہم اسے آصف زرداری کے ایک جرم کے طور پر پیش کر رہے ہیں تاہم اسے زرداری صاحب کی بدقسمتی ہی سمجھیں کہ ان کی دلدوز چیخ نما تقریر دلوں میں ان کے لئے عمومی طور پر وہ جگہ پیدا نہیں کرسکی جو عام حالات میں پیدا کرسکتی تھی، اس کی وجہ اس کے سوا ا ور کیا ہے کہ ان کے پاس ذوالفقار علی بھٹو جیسی Followingنہیں ہے اور نہ ہی وہ ان ایسے پاور فل خطیب ہیں، اپنے دور صدارت میں انہوں نے دور آمریت کے نقش کہن مٹانے کی بھی کوئی نمایاں کوشش نہیں کی، کوئی ایسے بڑے کام بھی نہیں کئے جنہیں لوگ یاد کرکے ان کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے، لوگوں کے دلوں میں ان کی کریڈیبلٹی بھی شک و شبہ سے بالا نہیں اور انہوں نے اپنی ماضی کی شہرت کو بہتر بنانے کے لئے بھی کچھ نہیں کیا بلکہ اپنی ٹیم میں بدنام زمانہ لوگوں کو شامل کیا، ان سب باتوں کے باوجود میں برادرم ایاز امیر کی اس دلیل سے متفق ہوں کہ جارج بش امریکہ اور ٹونی بلیئر برطانیہ کو پوری دنیا میں بدنام کرنے کا باعث بنے اس کے باوجود انہوں نے اپنی ٹرم پوری کی اور ان کی قوم نے جمہوری طریقے سے ان بلاؤں کو اپنے سروں سے ٹالا، ہم بھی اگر انپے جمہوری نظام کوبچانا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی جمہوری طریقے سے قیادت کی تبدیلی کی کوشش کرنا چاہئے، اس کے علاوہ جو بھی دوسرا راستہ ہم ا ختیار کریں گے، وہ ہمیں صرف پاکستان کی تباہی اور بربادی ہی کی طرف لے جانے کا باعث بنے گا۔
صدر آصف علی زرداری نے ابھی تک جو بلنڈرز کئے ہیں ۔ ان کے سبب میں بھی ان کی قیادت سے مطمئن نہیں ہوں، مگر میری بے اطمینانی کو صحیح راستہ ملنا چاہئے، اسی طرح صدر زرداری کو بھی کبھی تنہائی میں بیٹھ کر ضرور سوچنا چاہئے کہ ابھی تک ان سے کیا غلطیاں ہوئی ہیں اور وہ ان کی تلافی کیسے کرسکتے ہیں، اس نقطے سے تھوڑی دیر کے لئے ادھر ادھر ہوتے ہوئے میں ایک بات یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ وہ ”پاکستان کھپے“ کے نعرے کو پاکستانی قوم پر ایک احسان عظیم قرار دینا چھوڑ دیں، پاکستان کا صدر اور”چاروں صوبوں کی زنجیر“ والی پارٹی کا چیئرمین اگر پاکستان کو نہیں بچائے گا تو اور کون بچائے گا؟ یہ ان کا فرض منصبی ہے اور فرض منصبی کی ادائیگی کوئی احسان نہیں ہوتی کہ اسے بار بار جتایا جائے۔ اسی طرح سندھ کے وزیر داخلہ اور صدر مملکت کے مشیر خاص ذوالفقار مرزا صاحب کا یہ بیان کہ ہم نے تو پاکستان توڑنے کا ارادہ کر لیا تھا، مگر صدر صاحب نے ”پاکستان کھپے“کا نعرہ لگا کر ہمارے ارادوں کے آگے بندھ باندھ دیا۔ موصوف کے بیان میں کس درجہ خوش فہمی پائی جاتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان کسی بٹن سے آن یا آف ہوتا ہے، بس انہوں نے ہاتھ بڑھا کر یہ بٹن آف کرنا تھا اور پاکستان ٹوٹ جانا تھا، صدر صاحب! مرزا صاحب ایسے بقراطوں کو بھی سمجھائیں کہ پاکستان کو ابتلاؤں میں گھرا دیکھ کر وہ خوش نہ ہوں اور اس خام خیالی سے بھی دلوں کو پاک کرلیں کہ یہ صورتحال زیادہ دیر قائم رہے گی۔ ہم انشاء اللہ اس گرداب سے نکلیں گے، پاکستان ایک مضبوط، مستحکم اور خود مختار ملک کے طور پر اقوام عالم میں خود کو منوائے گا اور یوں ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکے گی کہ ہندو ساہو کار ایک دفعہ پھر ان کی زمینوں کو اپنے پاس گروی رکھ لیں۔
معافی چاہتا ہوں ”برسبیل تذکرہ“ والی بات قدرے طویل ہوگئی۔ میں کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ صدر آصف علی زرداری اپنی غلطیوں کا جائزہ لیں، ان کی تلافی کریں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دور آمریت کے سیاہ اقدامات کو جمہوری قوتوں کی مدد سے تختی پر لکھے ہوئے حرف مکرر کی طرح مٹا ڈالیں۔ اس حوالے سے پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) اور اس کی قیادت ان کے ساتھ ہر طرح کے تعاون کے لئے تیار نظر آتی ہے۔ آصف علی زرداری اپنی اس خوش قسمتی سے فائدہ اٹھائیں کہ مسلم لیگ کے قائد نواز شریف انہیں سیاسی منظر سے ہٹانا نہیں چاہتے کہ وہ خود بھی ایسے اقدامات کے ڈسے ہوئے ہیں، وہ پوری نیک نیتی سے پی پی پی کو میثاق جمہوریت پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دیتے رہے ہیں، جمہوریت کی مضبوطی کے لئے ان کے اس تعاون کی وجہ سے انہیں اپنوں اور غیروں کے طعنے بھی سننا پڑ رہے ہیں لیکن وہ پوری ثابت قدمی سے جمہوری نظام کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ وہ یہ تک کہہ چکے ہیں کہ اس نظام کو تباہ کرنے کے خواہش مندوں کی راہ میں وہ رکاوٹ بنیں گے۔ اس وقت نواز شریف کی ”اک نکی جئی ہاں“ ایوان اقتدار میں بہت کچھ اوپر نیچے کر سکتی ہے لیکن کوئی بھی ترغیب انہیں جمہوری منزل سے دور لے جانے کا باعث نہیں بن رہی۔ ”اغیار“ کے علاوہ میاں صاحب کے پیروکار بھی ان کے اس رویے سے خوش نہیں ہیں لیکن پاکستان سے محبت کرنے والا یہ رہنما پاکستان کے استحکام کے لئے اپنی مقبولیت کو بھی داؤ پر لگائے ہوئے ہے۔ صدر زرداری کو اس سوچ کا بہت آگے بڑھ کر خیر مقدم کرنا چاہئے۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ان پر سنگ باری کرنے والوں کے ہاتھوں میں موجود پتھر بھی ان پر برسنے سے انکار کر دیں گے اور مجھے ان کی تقریر میں جو دکھ اور کرب محسوس ہوا تھا اور جس نے مجھے بے چین کر دیا تھا نہ صرف یہ کہ اس کی طفیل وہ خود بھی اس آزار سے نکل جائیں گے بلکہ میرے ایسے لوگ بھی سکھ کا سانس لیں گے۔ جب وہ دیکھیں گے کہ ان کا صدر اب واقعی کچھ اپنا اپنا سا لگتا ہے!
آخر میں استادانِ فن سے مشورہ کے لئے اپنی ایک کچی پکی تازہ غزل کے چند اشعار جو حالیہ سفر کی دین ہیں:
چہرہ وہ ایک بار ہی دیکھا ہوا ہوں میں
اور اس کے بعد سویا نہ جاگا ہوا ہوں میں
میرے دل و دماغ میں کچھ کشمکش سی ہے
ہنستا بھی ہوں تو لگتا ہے رویا ہوا ہوں میں
کانوں میں اک صدا ہے کہ رس گھولتی ہوئی
کن بے سروں میں عمر بھر ز ندہ رہا ہوں میں
آنا تھا جس نے آکے چلا بھی گیا ہے وہ
اب کس کے انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں میں
منزل کی نارسائی کا دکھ ہے مجھے مگر
منزل کدھر تھی اور کہاں چلتا رہا ہوں میں
اک دن حقیقتوں سے بھی ہو جائے گا نباہ
خوابوں کے درمیان سے جاگا ہوا ہوں میں
مجھ پر عطا# یہ قادر مطلق کا ہے کرم
بنجر زمیں پہ بھی گلِ تازہ رہا ہوں میں

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=398575

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha