محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری برسی کے موقع پر پرجوش خطاب کسی صدر پاکستان کا خطرناک ترین لیکن اپنی ذات کے لئے آصف علی زرداری کا ان کی زندگی کا بہترین خطاب تھا ۔ برسی محترمہ بے نظیر بھٹو کی تھی لیکن خطاب کا محور و مرکز آصف علی زرداری کی ذات تھا ۔ یقینا ایسا خطاب صدر پاکستان کو زیب نہیں دیتا لیکن جو فضا بنائی گئی ہے‘ اس میں آصف علی زرداری جیسی شخصیت سے ایسے ہی خطاب کی توقع کی سکتی ہے۔ڈکٹیٹر کو رخصت کرکے ایوان صدر میں جیالے کو لابٹھایا‘ سندھی خاتون کو سپیکر بنایا‘ بلوچستان پیکیج پیش کیا‘ اقوام متحدہ میں سرحد کو پختونخوا کے نام سے پکارا‘ سوات میں دہشت گردوں کو شکست دی‘ گلگت بلتستان میں الیکشن کروائے ‘ یہ اور اسی نوع کے دیگر اپنے کارناموں کو ”جرائم“ کا نام دے کر آصف علی زرداری نے تفصیل سے بیان کیا اور اپنے آپ کو بھٹو اور بے نظیر کا ہم پلہ قرار دیتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اسٹیبلشمنٹ ان ”جرائم“ کی بنیاد پر عدلیہ اور میڈیا کے ذریعے انہیں ”سیاسی شہادت“ سے ہمکنار کرنے کی کوشش کررہی ہے لیکن حیرت اس بات پر ہوئی کہ زرداری صاحب نے اس موقع پر اپنے ایک بھی ”کارنامے“ جو اب ان کے لئے پریشانی کا باعث بنے ہیں‘ کا ذکر نہیں کیا‘ چنانچہ ان ”کارناموں“ کی ایک جھلک سامنے لانے کا تلخ فریضہ اب ہم جیسوں کو سرانجام دینا پڑرہا ہے ۔
آصف علی زرداری کا ”کارنامہ“ یہ ہے کہ محترمہ کی شہادت کے بعد انہوں نے پارٹی اور پھر ملک کو صرف اور صرف اپنے چنگل میں بند کرنے کی کامیاب کوشش کرکے‘ مخدوم امین فہیم‘ صفدرعباسی‘رضاربانی اور اعتزاز احسن وغیرہ جو جتنا بے نظیر بھٹو کے قریب تھا‘ ان کو انہوں نے اس قدر دور کردیا اور تنخواہ کے عوض ماضی میں زرداری صاحب کی خدمت کرنے والے ابن الوقتوں کو اہم مناصب پر سرفراز کیا۔اس” کارنامے“ کو دیکھ لیجئے کہ پچھلے آٹھ سال میں ڈکٹیٹر کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کرنے والے فرحت اللہ بابر کی بجائے سینیٹ کے ٹکٹ کا مستحق وہ وقار احمد قرار پاتا ہے جو پچھلے سالوں میں پرویز مشرف کے تابعداروں کے حلقے میں شامل تھا ۔ پرویز مشرف اور چوہدری شجاعت کے منظور نظر وقار احمد خان اہم ترین وزارت لے کر ایوان صدر میں بیٹھتے ہیں جبکہ رضاربانی وزارت سے استعفٰی پر مجبور کردئے گئے ۔ ان کا ایک اور ”کارنامہ“ یہ ہے کہ وہ افتخار محمد چوہدری جس کے گھر پر چیف جسٹس کا پرچم لہرانے کا محترمہ نے وعدہ کیا تھا‘ کی بحالی میں لیت ولعل سے کام لیااور نتیجے کے طور پر آزاد عدلیہ اور اس سے محبت کرنے والے عوام کو ناراض کردیا۔ ڈکٹیٹر کو ایوان صدر سے رخصت کرنے کے ”جرم“ کا کریڈٹ وہ لینا چاہتے ہیں لیکن اگر وہ تنہا اس ”جرم“ کے مرتکب ہوئے ہیں تو پھر انہوں نے اس ڈکٹیٹر سے کسی طرح کا حساب نہ لینے کا ”کارنامہ“ کیوں سرانجام دیا۔ ہم یقینا زرداری صاحب کو ڈکٹیٹر کی رخصتی کے ”جرم“ کا مرتکب قرار دیتے لیکن اگر وہ اس ڈکٹیٹر کے آنکھ کے تارے سلمان تاثیر کے تاثیر میں گرفتار رہنے اور ان کے چہیتے طارق عزیز کو عزیز رکھنے کا ”کارنامہ“ سرانجام نہ دیتے ۔ کارنامے تو بہت ہیں لیکن اس کارنامے کی تو کوئی ثانی نہیں کہ بیوروکریسی‘ سیاست اور صحافت میں جوجتنا (سوائے چندکے) بدنام ہے ‘وہ اس قدر زرداری صاحب کے قرب کا مستحق ہے اور جو جتنا(سوائے چندکے) نیک نام ہے ‘ وہ اس سے اس قدر دور ہے۔ سترویں ترمیم کے خاتمے میں لیت ولعل اور میثاق جمہوریت سے انحراف بھی یقینا صدر محترم کے شاندار ”کارناموں“ سے ایک ہے۔ وعدہ خلافی کرتے کرتے میاں نواز شریف کو بے وقوف بنانے کی کوشش اور پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ کے شاندار ”کارنامے“ کے تذکرے پر نہ جانے کیوں زرداری صاحب شرماتے ہیں‘حالانکہ اس مقام تک پہنچانے میں اس کارنامے کا بھی بڑا حصہ ہے ۔ جمہوریت آزادی کا دوسرا نام ہے اورجتنی ”آزادی“ زرداری صاحب نے اپنے چہیتوں کودی ‘ اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔ پچھلے دو سالوں کے دوران مرکز اور صوبوں میں ہر صاحب اختیار کو لوٹ مار کی جوآزادی میسر رہی ‘ اسے بھی یقینا زرداری صاحب اور ان کے ساتھیوں کا ”قابل فخر کارنامہ“ قراردیا جاسکتا ہے ۔ سکینڈل پہ سکینڈل منظر عام پر آتے رہے اور زرداری صاحب خاموش رہنے کا ”کارنامہ“ سرانجام دیتے رہے ۔ غرض کارنامے ہی کارنامے ہیں لیکن نہ جانے کیوں ذوالفقار علی بھٹو کی وارث بے نظیر بھٹو صاحبہ کے وارث بن جانے والے زرداری صاحب نے ان کی برسی کے موقع پر ان ”کارناموں“ کا تذکرہ ضروری نہیں سمجھا۔
آصف علی زرداری صاحب نے اپنی تقریر کے دوران اپنے ”جرائم“ میں سے ایک ”جرم“ یہ بھی بیان کیا کہ بے نظیر بھٹو کی موت کے بعد انہوں نے ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگایالیکن انہوں نے اپنے اس ”کارنامے“ کا تذکرہ کرنے سے گریز کیا کہ اب انہی کی شہہ پر ڈاکٹر ذولفقار مرز ا جیسے لوگ ”پاکستان نہ کھپے“ کی دھمکیاں دینے کے ”کارنامے“ سرانجام دے رہے ہیں ۔ انہوں نے بھٹو خاندان کے ساتھ چند جرنیلوں کے ”احسانات“ کا ذکر ضروری سمجھا لیکن پاکستان اور پاکستانی عوام کے ان ”جرائم“ کا ذکر نہیں کیا جو وہ بھٹو خاندان کے حوالے سے تسلسل کے ساتھ کرتے چلے آہے ہیں۔ وہ یہ بھول گئے کہ یہ پنجاب ہی تھا جس نے بھٹو کو قومی لیڈر بنانے کے ”جرم“ میں پہل کی اور یہ کراچی نہیں بلکہ لاہور ہی تھا جس نے وطن واپسی پر بے نظیربھٹو کو یوں استقبال کیا کہ غیرپنجابی جنرل ضیاء الحق کے پاؤں اکھڑنے لگے ۔وہ یہ بھول گئے کہ یہ اب صرف سندھی ذوالفقار مرزا نہیں بلکہ پنجابی سلمان تاثیر اور پنجابی راجہ ریاض بھی زرداری صاحب کی محبت میں آپے سے باہر ہوکر اپنے پنجابیوں کو ہاتھ کاٹنے کی دھمکیاں دینے کے ”کارناموں“ کی ایک ”شاندار“ تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں انہوں نے وفاق کی علامت کے طور پر سندھی آصف علی زرداری کو وفاق کی علامت کی کرسی پر بٹھانے کے سرحد ‘ بلوچستان اور بڑی حد تک پنجاب کے ”جرم“ کا ذکر نہیں کیا۔ این آر او کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے ”جرم“ کی طرف انہوں نے اشارے ضرور کئے لیکن یہ بھول گئے کہ اس سترہ رکنی بنچ کا حصہ ہوکر اس ”جرم“ میں تین سندھی‘ تین بلوچی اور چار پختون جج بھی شریک رہے ۔ یہ ”کارنامہ“ بھی صرف زرداری صاحب کے ذوالفقار مرزا جیسے ساتھی ہی سرانجام دے سکتے ہیں کہ اپنے اوپر ملک کے احسانات کو یاد کرنے کی بجائے وہ ملک کے اوپر احسان کرنے لگے ہیں لیکن یقینا پاکستان ”مجرم“ ہے جو ذولفقار مرزا جیسے لوگوں کو بھی وزارتوں اور ان کی بیگمات کو سپیکرشپ جیسے مناصب سے سرفراز کرتا ہے ۔ ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگانے کو پاکستان پر احسان قرار دینے والے یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ ان جیسے لوگ کسی اور ملک میں ہوتے تو شاید ڈاکو بھی انہیں اپنے کسی گینگ کا رکن منتخب نہ کرتے ۔آج کیا زرداری صاحب کے ”کارناموں“ کا ذمہ دار پاکستان ہے جو چند طالع آزما ڈکٹیٹروں کے ”سیاہ کارناموں“ یا بھٹو خاندان کے خلاف مظالم کا غصہ پاکستان پر نکالا جارہا ہے ۔ کیا پاکستان پرویز مشرف یا بیت اللہ محسود(زرداری صاحب کا نامزد کردہ وزیراعظم دعویٰ کررہے ہیں کہ محترمہ کو بیت اللہ محسود نے قتل کیا) کی جاگیر ہے یا پھر کیا سندھ ذوالفقار مرزا کی جاگیر ہے جو وہ سانحہ راولپنڈی کے بعد ”پاکستان نہ کھپے“ کا نعرہ لگانا چاہتے تھے۔
کارنامہ تو ایک سے بڑھ کر ایک ہے لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ نہ آصف علی زرداری صاحب اپنے اصل ”کارنامے“ کا ذکر کرتے ہیں اور نہ زبان پر قابو نہ رکھنے والے ان کے چہیتے سلمان تاثیر ‘ راجہ ریاض اور ذوالفقار مرزا اسے بیان کرنے کی ہمت کرسکتے ہیں ۔ ان کا اصل ”کارنامہ“جس نے انہیں آج اس پریشانی سے دوچار کرکے بندگلی میں لاکھڑا کیا ہے‘ یہ ہے کہ اپنی قوت کا صحیح اندازہ لگائے اور مناسب تیاری کئے بغیر انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کیا۔ انہوں نے یا پھر ان کے بعض کارندوں نے ان ایریاز میں گھسنے کی کوشش کی جنہیں اسٹیبلشمنٹ نے سیاستدانوں کے لئے نوگوایریاز بنا دیا ہے ۔ ان نوگوایریاز میں جانا اور حقیقی معنوں میں قومی مفادات سے ہم آہنگ پالیسی بنانا ‘ان کا حق بلکہ شاید فرض تھا لیکن اس کام کے لئے جس اخلاقی قوت کی ضرورت تھی ‘ اپنے آپ کو انہوں نے اس قوت سے لیس نہیں کیا۔ یہ کام تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ ملا کر ہی کیا جاسکتا تھا لیکن انہوں نے میاں نواز شریف اور علاقائی سیاسی قوتوں و کو ناراض کرکے اپنے آپ کو سیاسی تنہائی سے دوچار کردیا۔ اسٹیبلشمنٹ کے بے مہار گھوڑے کو قابو کرنے کے لئے سیاسی حکومت کے لئے غیرمعمولی عوامی حمایت درکار ہوتی ہے لیکن ناقص طرز حکمرانی کے ذریعے انہوں نے اپنے آپ کو درکار عوامی حمایت سے بھی محروم کیا۔ اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی کی وجوہات وہ نہیں جو عوام کی ناراضگی کی ہیں ۔ زرداری صاحب نے ہندوستان سے متعلق جو اپروچ اختیار کیا‘ جس طرح حامد کرزئی صاحب کے قریب جانے کی کوشش کی اور سب سے بڑھ کر جس طرح امریکہ کے قرب کے حصول کی کوشش کرکے امریکہ ہی کے ذریعے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو اپنے زیردام لانے کے جتن کئے ‘ یہ سب اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی کے باعث بنے ہیں ۔ وہ اگر امریکہ پر انحصار کی بجائے عوام اور سیاسی قوتوں کو مطمئن رکھتے تو آج امریکہ ان کا کچھ بگاڑ سکتا تھا اور نہ اسٹیبلشمنٹ ان کی راہ میں مزاحم ہوسکتی تھی لیکن افسوس انہوں نے ان امریکیوں پر تکیے کا ”کارنامہ“ سرانجام دیا ‘جن کی ضرورت پاکستانی سیاستدانوں سے زیادہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ہے اور جو بے وفائی کے عالمی ریکارڈ کب کے قائم کرچکے ہیں۔ حد سے زیادہ امریکی قرب اور تابعداری پر اسٹیبلشمنٹ ناراض ہوئی اور آج جب وہ ناراضگی اپنا رنگ دکھانے لگی ہے تو امریکی کہنے لگے ہیں کہ زرداری صاحب جانے ‘ پاکستانی عدالتیں جانیں اور اسٹیبلشمنٹ جانے ۔ ناراض اسٹیلشمنٹ ہے ‘ بے وفائی امریکی کررہے ہیں لیکن زرداری صاحب اپنے ساتھیوں کے ذریعے غصہ پاکستان پر نکالتے ہوئے اس کے باسیوں کو سندھ کارڈ سے ڈرا رہے ہیں ۔ یقینا ان کا اور ان کے ساتھیوں کا یہ ”کارنامہ“ تاریخ میں” سنہرے“ حروف سے لکھاجائے گا۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=398344

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. یہ ملک کیسے چل رہا ہے؟ ۔۔۔۔ سلیم صافی
  2. طالبان کی کامیابی اور حکومت کی ناکامی کے چند اسباب (2)۔۔۔۔ سلیم صافی
  3. سوات کا المیہ ۔ اندر کی ایک کہانی ۔۔۔۔ سلیم صافی
  4. بے نظیر بھٹو کے ”بے نظیر“ قاتل…سلیم صافی
  5. طالبان کی کامیابی اور حکومت کی ناکامی کے چند اسباب (1)۔۔۔۔ سلیم صافی

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha