میں طویل عرصے سے اس مرد درویش کا عقیدت مند ہوں ،کیونکہ میرا مشاہدہ ہے کہ اس شخص کا باطن روشن ہے، یہ ولی اللہ ہے اور میں نے اکثر اس کے منہ سے نکلی ہوئی باتوں کو سچ ہوتے دیکھا ہے۔ اس شخص نے اپنے آپ کو چھپا رکھا ہے اور ظاہر کرنے سے کتراتا ہے، کبھی کبھی جب اس پر جذب کی کیفیت طاری ہوتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے اس کے باطن کا چراغ روشن ہوگیا ہے اور وہ دور تک دیکھ رہا ہے جہاں تک ہماری نظر نہیں پہنچ سکتی۔
کل میں اداس بیٹھا تھا اور مجھے یوں لگا جیسے وہ درویش مجھے اپنی جانب کھینچ رہا ہے، میرا جی ان سے ملنے کو چاہنے لگا چنانچہ میں نے سواری پکڑی اور ان کے پاس پہنچ گیا۔ میں وہاں پہنچا تو وہ اپنے گھر کے صحن میں لکڑیوں کے ڈھیر کو آگ لگائے زمین پر چوکڑی مارے بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے بابو جی آگئے، آج مجھے تمہارا انتظار تھا، آؤ ادھر میرے ساتھ دری پر بیٹھ جاؤ میں چوکڑی مار کر دری پر بیٹھ گیا تو انہوں نے آگ کی ایک طرف سے چھوٹی سی چائے دانی نکالی اور گرم گرم چائے پیالی میں انڈیل کر میری طرف سرکادی۔ ساتھ ہی حکم ہوا بابو جی چائے پیجئے۔ میں نے پیالی اپنے ٹھنڈے ہاتھوں میں دبوچ لی اور چائے پینے کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کو بھی گرم کرنے لگا۔
چند لمحے خاموشی سے گزر گئے۔ وہ مسلسل آگ کے شعلوں کو بھڑکاتے اور آگ کو جلتے دیکھتے رہے پھر بولے بابو جی میرا سیاست یادنیاداری سے کیا کام؟میں اخبار بہت کم پڑھتا ہوں ،کیونکہ مجھے سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں، البتہ میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ تم اخبارات میں لکھتے ہو اس لئے میں آج آپ کو بہت یادکررہا تھا۔ یہ کہہ کر وہ پھر خاموش ہوگئے اور خلاء میں گھورنے لگے پھر میری طرف غور سے دیکھا اور پوچھا”بابو جی آپ کو پتہ ہوگا کہ پنڈت نہرو جو ہندوستان کے وزیر اعظم تھے ان کی بیٹی کا کیا نام تھا؟“ میں نے ہولے سے جواب دیا”حضور اس کا نام اندرا گاندھی تھا اور وہ بھی ہندوستان کی وزیر اعظم تھی“۔انہوں پھر پوچھا”بابو جی اندرا کو کیا ہوا تھا؟“۔میں نے عرض کیا کہ اسے اس کے سکھ محافظوں نے اس وقت قتل کردیا تھا جب وہ ہندوستان کی وزیر اعظم تھی۔ سوال ہوا بابو جی اس کے کتنے بیٹے تھے اور ان کا کیا انجام ہوا؟ میں نے بلا سوچے سمجھے عرض کیا کہ اندرا کے دو بیٹے تھے، سنجے گاندھی ہوائی حادثے میں مارا گیا اور راجیو گاندھی جو وزیر اعظم بھی رہا تھا دہشتگردی کا نشانہ بنا۔میری بات سن کر وہ مسلسل آگ کے شعلوں کی طرف دیکھتے رہے اور آہستہ سے بولے گویا اس خاندان کی نرینہ اولاد بھی گئی۔ میں ان کی بات سن کر سوچ کی کشتی میں ہچکولے کھانے لگا اور وہ پھر خاموش ہوگئے، پھر وہ اچانک جذب کی حالت سے نکلے اور پوچھا”بابو جی تم تو کتابیں لکھتے اور کتابیں پڑھتے ہو۔ میں تو کم پڑھا ہوں بھلا بتائیے اندرا کے ساتھ ایسا کیوں ہوا میں ان کا سوال سن کر گہری سوچ میں ڈوب گیا اور مجھے یوں لگا جیسے الفاظ مجھ سے روٹھ گئے ہیں۔میں نے اپنی بکھری ہوئی سوچ کو اکٹھا کیا اور محض جواب دینے کے لئے کہا”حضور،اندرا نے سکھوں پر مظالم ڈھائے تھے،ان کے گوردوارے کے تقدس کو پامال کیا تھا اس لئے سکھوں نے اس سے انتقام لیا“ تو پھر سنجے اور راجیو سکھوں کی گولیوں کا نشانہ کیوں نہیں بنے؟ انہوں نے میری طرف دیکھتے ہوئے معنی خیز انداز میں پوچھا اور میں نے چپ سادھ لی ۔چند لمحے یونہی گزر گئے،پھر انہوں نے خود ہی خاموشی توڑی اور کہنے لگے ”بابو جی، تم کتابی لوگ یہ رمزیں کیا جانو؟“
یہ کہہ کر انہوں نے پاس پڑا ہوا لکڑی کا ایک اور ٹکڑا اٹھایا اور اسے آگ کے ڈھیر میں ڈال دیا اور پھر راکھ کو کریدتے ہوئے کہنے لگے”بابو جی، تم چند برس قبل بنگلہ دیش گئے تھے ، کیا ڈھاکہ میں شیخ مجیب کا گھر بھی دیکھنے کا موقع ملا؟“۔میں نے دھیمے سے کہا’ ’جی ہاں“ بولے”تم نے وہاں سیڑھیاں دیکھیں جن پر مجیب اور اس کے اہلخانہ کی لاشیں کئی گھنٹوں تک بے گور و کفن پڑی رہیں؟“۔میں نے جواب ہاں میں دیا تو کہنے لگے کہ مجیب بیچارے کے ساتھ ہی اس کی نرینہ اولاد بھی دنیا سے چلی گئی، تمہارا کیا خیال ہے ایسا کیوں ہوا؟ میں نے خانہ پری کے لئے عرض کیا کہ”حضور یہ بنگلہ دیش کے باغی فوجیوں کا کام تھا“۔ وہ دھیرے سے مسکرائے اور میری طرف دیکھ کر کہنے لگے کہ بھلا کبھی فوجی بھی اپنے ملک کے بابائے قوم اور بانی ملک کو گولی مارتے ہیں!!بابو جی کتابیں پڑھنے والے قدرت کی رمزیں کیا سمجھیں؟میرے عزیز تم اہل قلم ہو بس اتنی سی بات یاد رکھو کہ پاکستان کی بنیاد میں لاکھوں شہیدوں کا خون شامل ہے۔ پاکستان کا قیام رضائے الٰہی اور ہمارے پیارے نبی کریم کی دعا کا نتیجہ ہے اور اس وقت ہم جس ابتلاء اور خطرات سے گزررہے ہیں ان سے ہم بہتر اور زیادہ مضبوط قوم بن کر نکلیں گے ۔ چلوچھوڑوان باتوں کو تم یہ بتاؤ بابو جی کہ یہ سندھ کا وزیر ذوالفقار مرزا کون ہے جو پاکستان کو توڑنے کی بات کررہا ہے۔کبھی اسی طرح کی باتیں جی ایم سید بھی کرتا تھا؟ میں نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا”حضور ذوالفقار مرزا میرے بزرگ اور مہربان دوست قاضی عابد کے داماد ہیں اور قاضی عابد کا شمار تحریک پاکستان کے سپاہیوں میں ہوتا ہے اور وہ وفاقی وزیر بھی رہے۔ میری بات سن کر وہ چونکے ان کے چہرے پر اچانک خفگی چھا گئی اور کہنے لگے کہ کیا قاضی عابد کے داماد کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ پاکستان توڑنے کی باتیں کرے؟ بابو جی تم قلم کار ہو اور میرا پیغام پہنچا سکتے ہو۔ اپنے قلم کے ذریعے ان تمام لوگوں کو اندرا اور مجیب کا انجام دکھا دو جو اس ملک کو توڑنے کی باتیں کرتے ہیں ان سے کہو آنکھیں کھولو اور قدرت کی رمزیں سمجھنے کی کوشش کرو اور ذلت ور سوائی سے بچو۔ ان کو اس درویش کا یہ پیغام بھی پہنچا دو کہ پاکستان مشیت ایزدی سے معرض وجود میں آیا تھا اور یہ ملک قیامت تک قائم رہے گا جو اس ملک کی خدمت کریں گے وہ دنیا و آخرت دونوں میں سرخرو ہوں گے اور جو اسے توڑنے کے منصوبے بنائیں گے ان کا وہی انجام ہوگا جو اندرا ،مجیب اور ان جیسوں کا ہوا۔ ان جیسوں سے ان کی مراد کیا تھی اسے میں آپ کے تخیل پر چھوڑتا ہوں۔بہرحال میں نے اپنا وعدہ پورا کردیا، اپنا فرض ادا کردیا شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=398347

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. جو ڈر گیا وہ مر گیا–صبح بخیر-ڈاکٹر صفدر محمود
  2. قومی لیٹرے- ڈاکٹر صفدر محمود
  3. رونے سے لے کر ہنسنے تک – ڈاکٹر صفدر محمود
  4. ڈراؤنے خواب؟-ڈاکٹر صفدر محمود
  5. عیشی پٹھا-ڈاکٹر صفدر محمود

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha