سال 2009ء کے دوران عالمی سیاست، معیشت اور معاشرت کو متاثر کرنے والے لوگوں میں سے جو لوگ اس دنیا ئے فانی سے رخصت ہوئے ان میں سے رابرٹ میکن مارا، کورا زون اکینو، مائیکل جیکسن، جان اُپ ڈاٹک، ایڈورڈ کینڈی، بیت اللہ محسود اور ندا آغا سلطان نے سب سے زیادہ مثبت یا منفی شہرت حاصل کی۔ 
رابرٹ میکن مارا کے قریبی حلقوں کے خیال میں وہ اپنی آخری زندگی عالمی بینک کے صدر کی شہرت کے ساتھ گزارنا چاہتے تھے لیکن وہ امریکی صدر جان ایف کینڈی کے وزیر دفاع اور فورڈ موٹر کمپنی کے صدر بھی رہے تھے لیکن یہ فیصلہ ابھی پوری طرح نہیں ہوا کہ وہ امریکہ کے تشدد پسندوں میں شمار کئے جاتے ہیں یا امن پسندوں میں گنے جائیں گے۔ وہ 1916ء میں پیدا ہوئے تھے۔
مسز اکینو 1933ء میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے شوہر Benignoفلپائن کے صدر مارکوس کے خلاف صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی تیاری کر رہے تھے کہ قتل کر دیئے گئے کورازون نے بادل ناخواستہ مارکوس سے شادی کرلی۔ ”سیدھی سادی خاتون خانہ“ کہلوانے کا شوق رکھنے والی مسز مارکوس اپنے ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ دخل دینے والی خاتون ثابت ہوئیں اور اپنے شوہر کی بددیانتی کے تحت سیاسی ذلت و رسوائی کی بھی برابر کی ذمہ دار قرار دی جاتی تھیں۔ 1986ء میں خو د فلپائن کی صدر بننے میں کامیاب ہوئیں اور سات سال تک صدارتی فرائض سر انجام دیئے۔
1958ء میں پیدا ہونے والے دنیا کے مشہور ترین رقاص مائیکل جیکسن بہت ہی دردناک بچپن سے گزر کر عالمی شہرت کو پہنچے۔ ان کی بے پناہ شہرت پر بدنامیوں کے حملے بھی ہوتے رہے۔ یہ فیصلہ نہیں ہوسکا انہیں گورا ہونے کا شوق زیادہ تھا یا سیاہ فام ہونے سے زیادہ نفرت تھی۔ جان اُپ ڈائیک نے 77سال کی عمر میں وفات پائی وہ اپنے دور کے مشہور مصنفین میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ طنز، سماجی، حقیقت نگاری، خیال افروزی اور تاریخی ناول نگاری کی شہرت رکھتے تھے۔ ایڈورڈ کینڈی امریکی صدر جان ایف کینڈی کے چھوٹے بھائی تھے جو 1932ء میں پیدا ہوئے۔ اپنے بھائی کے قتل کے بعد دوسرے بھائی کے قتل کے دوہرے المناک تجربے سے گزرنے والے ایڈورڈ امریکہ کے مشہور ترین قانون سازوں میں شمار ہوتے تھے کیونکہ انہوں نے تقریباً تین سو قوانین کو ضبط تحریر میں لانے اور منظور کروانے کا کارنامہ کر دکھایا۔
پاکستانی طالبان کے لیڈر بیت اللہ محسود 1974ء میں پیدا ہوئے تھے ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے مختلف ”وارلارڈز“ کے تعاون سے پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان کو ”القاعدہ “ تنظیم کے تربیتی مرکز میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ وہ میزائل کے حملے میں مارے گئے مگر قبائلی علاقوں میں ان کے اثرات کو ختم کرنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔
ندا آغا سلطان 1982ء میں پیدا ہونے والی ایک ایرانی طالبہ تھیں۔ وہ فلاسفی کی تعلیم مکمل کرکے دنیا کے ملکوں کی سیاحت کا شوق رکھتی تھیں مگر جون کی بیس تاریخ کو وہ ایران کے صدارتی انتخابات میں محموداحمدی نژاد کی جیت کے خلاف لاکھوں طلباء اور طالبات کے جلوس میں شریک تھیں کہ ایک گولی ان کے سینے میں لگی اور وہ ایران کے حزب اختلاف کی ایک نمایاں علامت بن گئیں۔
اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کا آخری صفحہ الٹنے والے سال 2009ء کے دوران وطن عزیز کی ادبی، ثقافتی، علمی اور معاشرتی زندگی کو چھوڑ جانے والوں میں ممتاز سندھی انقلابی شاعر شیخ ایاز کی بیوہ اقبال بیگم نے جو کہ افسانے لکھتی تھیں سب سے زیادہ پہل کی اور 14جنوری کو وفات پاگئیں وہ 71سال عمر کی تھیں۔ ان کے بعد صحافت کے شعبہ کے استاد مسکین علی حجازی 17جنوری کو اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ 26جنوری کو عالمی شہر ت کے مورخ اور تاریخ دان، احمد حسن دانی 88سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ 5فروری کو ممتاز انگریزی کالم نگار اور مقبول ترین صحافی خالد حسن ہمیں چھوڑ گئے۔ 17فروری کو شبنم رومانی 21سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے اور 13مارچ کو اردو کے استاد اور ادیب سہیل احمد خاں لاہور کی ثقافتی محفلوں کو اداس کر گئے۔
21مارچ کو پشتو ادیب محمد اقبال اقبال 63سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ 31مارچ کو علم و ادب کی دنیا سے زوار حسین زیدی81سال کی عمر میں رخصت ہوئے۔ 7اپریل کو عبد العزیز جافرانی، 4مئی کو افسانہ نگار قمر شہباز اور 14مئی کو شاعر اور استاد خیال امروہوی79سال کی عمر میں اس دنیا ئے رنگ و بو سے رخصت ہوئے۔ 25جون کو انگریزی زبان کے سکالر اور ادیب حکیم عمر اور 15جولائی کو قومی ادب کی تاریخ کو اپنی تحریروں میں یاد کرنے اور کرانے والے خورشید کمال عزیز 81سال کی عمر میں ادبی تاریخ کا حصہ بن گئے۔ ان کا لاہور کے ادیبوں اور دانشووں کے لئے ”کافی ہاؤس لاہور“ کے عنوان سے تحریری تحفہ یاد رہے گا۔ 18اکتوبر کو پاکستان کے علم اور ادب کی ایک نامور شخصیت وحید قریشی کے نام سے ہمیں داغ مفارقت دے گئی۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=398357

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. قصہ یک درویش۔ ماڈل 2009ء-عطاء الحق قاسمی
  2. مستقبل قریب کا ہندوستان….گریبان … منوبھائی
  3. امریکہ کی جنگ کون لڑ رہا ہے – منوبھائی
  4. کیا بددیانتی میں جرأت ہوتی ہے؟,,,,گریبان …منوبھائی
  5. دستی فون اور اخبارات کی ترقی کی رفتار ….گریبان …منوبھائی

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha