سیاسی رونے تو روتے ہی رہتے ہیں، کبھی کبھی اپنے رویوں پر بھی غور کر لینا چاہئے۔ ہمارے نہ کرتوت سیدھے نہ قریے کوچے کسی ترتیب میں ،نہ قبروں میں کوئی تنظیم اور سلیقہ۔ فاتحہ کے بعد قبرستان میں کھڑا بدنظمی پر کڑھ رہا تھا کہ ساتھی نے کہا ”کیوں خون جلاتے ہو اپناجو زندہ حالت میں سلیقے قرینے اور نظم و ضبط سے محروم ہوں وہ مرنے کے بعد منظم کیسے ہو سکتے ہیں؟ جن کی گلیاں گندی اور محلے مکروہات کے شہکار ہوں ان کے قبرستانوں میں نفاست کہاں سے آئے گی؟ تب مجھے دیار غیر میں ”کفار“ کے وہ قبرستان یاد آئے جن کی خوبصورتی، صفائی ستھرائی، پاکیزگی اور ہریالی دیکھ کر بے ساختہ عین موقعہ پر فی البدیہہ مر جانے کو جی چاہتا ہے۔
ہمارا ”رامٹیریل “ درست نہیں کوئی ڈیزائن ڈیفیکٹ ہے یا کوئی جینیاتی کجی، کمی اور ڈس آرڈر کہ ہم ہر چیز میں بدصورتی کا شکار ہیں اور شرم بھی نہیں آتی۔ کہاں غلاظت کے ڈھیروں پر مشتمل گندی بستیاں اور اندرون شہر کے دہلا دینے والے مناظر، کہاں ڈیفنس کے گھر، مین بلیوارڈز کے فوارے اور جیل روڈ کے نظارےڈوب مرنے کا مقام ہے لیکن حرام جو حکام نامی کسی شے کے کسی پرزے یا عضو پر کچھ رینگتا دکھائی دے یا بے شرمی یا ڈھٹائی یا بے غیرتی ترا آسرا سوچتا ہوں چلو خیر ہے کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں مہذب دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے لیکن اس سوال کا کیا جواب کہ جہاں عقل شکل، مال منال اور ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں ہم لوگ وہاں بھی ہارے ہوئے، پچھاڑے ہوئے، پسماندہ اور راندہ درگاہ۔ ذرا سوچئے تو سہی کہ دنیا کی پہلی ایمبولینس اور فائربریگیڈ کیسے معرض وجود میں آئے؟ کسی علم عقل کا اس سے کوئی تعلق نہ تھا صرف سوچ اور رویے کی بات تھی ورنہ دنیا کی پہلی ایمبولینس اور فائربریگیڈ بگھیوں پر بنائی گئی تاکہ آگ بجھانے اور مریض کو معالج تک پہنچانے میں کم سے کم وقت لگے یہ اور ایسے بہت سے دوسرے خوبصورت خیال ہم جیسوں کو کیوں نہ سوجھے؟ اوپر سے ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل جھوٹ۔ غیور، باشعور ، زندہ لوگ؟ بھلا ایسے ہوتے ہیں غیور، باشعور اور زندہ لوگ جو اپنے قاتلوں کو کندھوں پر اٹھائے پھریں؟ ذرا اپنے ڈاکٹر کو دیکھو جو ایک ہی پرچی پر ڈھیر سارے ٹیسٹ بھی لکھ دے گا اور دوائیاں بھی۔ بندہ پوچھے کہ حضور! اگر تشخیص کر لی ہے تو ٹیسٹ کیوں لکھ رہے ہو اور اگر تشخیص نہیں کر سکے تو دوائیاں کیسے تجویز کرتے ہو؟ لیکن ہم جیسے معاشروں میں سب چلتا ہے اور یہ معاشرہ کیسا ہے؟
ایک ایسے چہرے کی مانند جہاں آنکھوں کی جگہ نتھے ہیں، کانوں کی جگہ آنکھیں لگی ہیں، ہونٹوں کی جگہ ابرو فٹ ہیں اور دانتوں کی جگہ پلکیں ، علیٰ ھذا القیاس۔ مجھے سکاٹ لینڈ کی سرد سڑکوں کے کنارے نصب وہ لاتعداد بینچ آج تک کبھی فیسی نیٹ کرتے ہیں کبھی ہانٹ کرتے ہیں جن پر اس قسم کی تحریریں ہوتی ہیں۔
”پیار ی ماں کی یاد میں جان مارکر 1710“
”وفادار جولیٹ کو خراج تحسین ٹیری سلاکس 1608“
”مرحومہ شریک حیات کے نام جم گونسکی 1850“
وغیرہ وغیرہ وغیرہ ۔
اور کمال یہ ہے کہ نہ کوئی ان بنچوں سے پیتل اکھاڑ کر بیچتا ہے نہ کوئی اس کی لکڑی کا ایندھن بناتا ہے اور نہ کوئی اس کا لوہا چراتا ہے لیکن وہ کون ہیں جو مین ہولوں کے ڈھکن بیچ کر معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں؟ یا بجلی اور فون کی تاریں کاٹ لے جاتے ہیں
یہ غیور، باشعور اور زندہ کون ہیں؟
دکھ یہ نہیں کہ حکمران اور نام نہاد اشرافیہ نہیں سنتی۔
دکھ تو یہ ہے کہ وہ بھی نہیں سنتے جو دکھی ہیں اور ان بیشمار ذلتوں، اذیتوں اور دکھوں سے نجات کے شدید خواہش مند بھی۔
لوگ ان جان لیوا ناپاک دلدلوں سے نکلنے کی خواہش تو رکھتے ہیں لیکن کوشش پر آمادہ نہیں۔
پوری کائنات پل پل ہماری رہنمائی کر رہی ہے، ہمارے پر خیال کا جواب دے رہی ہے، مکمل فیڈ بیک فراہم کر رہی ہے ۔ خوبصورت جذبات و احساسات و خیالات کا مطلب ہے خوبصورتی اور برے احساسات کا مطلب ہے کہ کائنات تمہیں تبدیلی کی طرف متوجہ کر رہی ہے ضرورت ہے تو صرف اس بات کی کہ خود کو اس Cosmic کمیونی کیشن کے ساتھ ہم آہنگ کر لیا جائے ہم تنہا نہیں پوری کائنات ہمارے ساتھ ہماری سمت درست کرنے میں ہماری معاونت کے لئے تیار ہے۔ صرف اسے سننے سمجھنے کی ضرورت ہے اور یہ جان لینے کی کہ کوئی مسیحا نہیں آئے گا اور اگر تبدیلی کی خواہش ہے تو کوشش بھی ضروری ہو گی۔
اپنے لیے نہ سہی
اپنی آئندہ نسلوں کو تو اس ناپاک فضا اور ماحول سے بچالیں۔
کوشش کے بغیر خواہش روح کے بغیر جسم اور پانی کے بغیر دریا سے زیادہ کچھ بھی نہیں
Dec 282009
Recent Comments