| ی کارروائیاں کیں، برطانوی اخبار گارڈین نے اپنی تازہ اشاعت میں یہ انکشاف کیا ہے ،اخبار کے مطابق امریکہ کی خفیہ فورسز نے پچھلے 6 سال میں پاکستان کے اندر 4خفیہ زمینی کارروائیاں کیں جن میں امریکی فوجی رات کے اندھیرے میں بذریعہ ہیلی کاپٹر قبائلی علاقوں میں اترتے رہے اور پاکستانی حکومت کو ان کارروائیوں سے بالکل بے خبر رکھا گیا، اخبار کے مطابق ان 4میں سے صرف ایک کارروائی منظر عام پر آسکی جس پر پاکستان کی حکومت نے شدید الفاظ میں احتجاج ریکارڈ کرایااور اس کی مذمت کی ۔ برطانوی اخبار گارڈین نے اپنی ویب سائٹ پر جاری رپورٹ میں صورتحال سے مکمل آگاہی رکھنے والے ایک سابق نیٹو افسر کے حوالے سے کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی سپیشل فورسز کے دستوں نے 2003ء سے 2008ء کے درمیان 4مرتبہ ہیلی کاپٹروں میں سوارہوکرپاکستانی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی اور قبائلی علاقوں کے اندر گھس کر زمینی کارروائیاں کیں۔ان میں سے2 کارروائیاں سرحد کے قریب القاعدہ اور طالبان کے ہائی ویلیو ٹارگٹس کو پکڑنے کیلئے کی گئیں جن میں سے ایک کامیاب ہوئی اور دوسری ناکام رہی جبکہ تیسری کارروائی کا مقصد ایک کریش ہونے والے ڈرون طیارے کو قبضے میں لینا تھا کیونکہ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ پاکستانی حکام اس طیارے کے پرزے اپنے پاس رکھ لیں گے اور ریورس انجینئرنگ کے ذریعے انہیں خود تیار کرلیں گے۔چوتھی کارروائی ستمبر 2008ء میں ہوئی جس کا پاکستانی حکومت کو پتہ چل گیا اور پاکستانی دفتر خارجہ نے اسے ایک سنگین اشتعال انگیز اقدام قرار دیا جبکہ پاک فوج نے جوابی کارروائی کی دھمکی بھی دی۔ اخبار نے مذکورہ نیٹو آفسر کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ ایسا معاملہ تھا جس کی ہم نے کبھی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی۔ |
|
کارروائیاں کیں، برطانوی اخبار گارڈین نے اپنی تازہ اشاعت میں یہ انکشاف کیا ہے ،اخبار کے مطابق امریکہ کی خفیہ فورسز نے پچھلے 6 سال میں پاکستان کے اندر 4خفیہ زمینی کارروائیاں کیں جن میں امریکی فوجی رات کے اندھیرے میں بذریعہ ہیلی کاپٹر قبائلی علاقوں میں اترتے رہے اور پاکستانی حکومت کو ان کارروائیوں سے بالکل بے خبر رکھا گیا، اخبار کے مطابق ان 4میں سے صرف ایک کارروائی منظر عام پر آسکی جس پر پاکستان کی حکومت نے شدید الفاظ میں احتجاج ریکارڈ کرایااور اس کی مذمت کی ۔ برطانوی اخبار گارڈین نے اپنی ویب سائٹ پر جاری رپورٹ میں صورتحال سے مکمل آگاہی رکھنے والے ایک سابق نیٹو افسر کے حوالے سے کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی سپیشل فورسز کے دستوں نے 2003ء سے 2008ء کے درمیان 4مرتبہ ہیلی کاپٹروں میں سوارہوکرپاکستانی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی اور قبائلی علاقوں کے اندر گھس کر زمینی کارروائیاں کیں۔ان میں سے2 کارروائیاں سرحد کے قریب القاعدہ اور طالبان کے ہائی ویلیو ٹارگٹس کو پکڑنے کیلئے کی گئیں جن میں سے ایک کامیاب ہوئی اور دوسری ناکام رہی جبکہ تیسری کارروائی کا مقصد ایک کریش ہونے والے ڈرون طیارے کو قبضے میں لینا تھا کیونکہ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ پاکستانی حکام اس طیارے کے پرزے اپنے پاس رکھ لیں گے اور ریورس انجینئرنگ کے ذریعے انہیں خود تیار کرلیں گے۔چوتھی کارروائی ستمبر 2008ء میں ہوئی جس کا پاکستانی حکومت کو پتہ چل گیا اور پاکستانی دفتر خارجہ نے اسے ایک سنگین اشتعال انگیز اقدام قرار دیا جبکہ پاک فوج نے جوابی کارروائی کی دھمکی بھی دی۔ اخبار نے مذکورہ نیٹو آفسر کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ ایسا معاملہ تھا جس کی ہم نے کبھی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی۔
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=396932
Recent Comments