جنگ دراصل انسانوں کا نہیں حیوانوں کا کام ہے۔ جنگ تباہی ہے ۔ جنگ رسوائی ہے ۔ جنگ ذلت کا ذریعہ ہے۔ افلاس جنگ کا منطقی نتیجہ ہے ۔ یوں انسان ‘ انسان ہو تو کبھی بھی جنگ کا متمنی نہیں ہوسکتا ۔ یہ انسان نما وحشی ہیںجو جنگ کی خواہش کرتے اور جنگ چھیڑتے ہیں ۔ پھر اگر انسان مسلمان بھی ہو تو وہ تو کبھی بھی ‘ کسی بھی صورت جنگ کا آرزومند نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ مسلمان جس مذہب کا پیروکار ہے ‘ وہ امن و سلامتی کا مذہب ہے ۔ وہ جس رب کو رب کائنات مانتا ہے ‘ اس رب نے ایک انسان کے بے گناہ قتل کو پوری انسانیت کی قتل سے تعبیر کیا ہے ۔ وہ جس ہستیﷺ کو اپنا نبی مانتا ہے ‘ وہ ہستی رحمت اللعالمین ہے ۔ اس ہستیﷺ نے اپنے پیروکار کی تعریف یہ بیان کی ہے کہ وہ پوری انسانیت کا خیرخواہ ہوگا ۔ اس ہستیﷺ نے اپنے لائے ہوئے دین کو ’’النصیحۃ‘‘ یعنی خیرخواہی کا نام دیا ہے ۔ اس ہستیﷺ کی پوری زندگی جنگ اور فساد سے اعراض سے عبارت ہے ۔ اس ہستیﷺ نے جنگ ٹا لنے کی خاطر صلح حدیبیہ جیسے بظاہر شکست پر مبنی معاہدے دل پر پتھر رکھ کر قبول کئے اور یہ ہدایت دی کہ مجبوری کے عالم میں جنگ کرنا بھی پڑ جائے تو اس میں غیرمتحارب یعنی بچوں ‘ بوڑھوں ‘ عورتوں ‘ جانوروں حتیٰ کہ پودوں تک کے تحفظ کی کوشش کی جائے گی ۔ یوں جنگ اور فساد سے نفرت اس نبیﷺ پر ایمان رکھنے والے ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ بن جاتا ہے ۔
الحمد للہ میں ا نسان بھی ہوں اور مسلمان بھی ۔ ان دو حیثیتوں میں ‘ میں کبھی بھی جنگ کا متمنی نہیں بن سکتا ۔ پھر میں پختون بھی ہوں اور ایک قبائلی بھی ۔ میں جنگ کی تباہ کاریوں کو اپنی نظروں سے بار بار دیکھ چکا ہوں ۔ جب میرا میٹرک کا رزلٹ آرہاتھا تو میں افغانستان کے صوبہ کونڑ کی بلندوبالا پہاڑوں میں افغان جنگ کے حصے کے طور پر اس کا نظارہ کرنے میں مصروف تھا۔ ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کے خلاف جنگ ہو‘ مجاہدین کی آپس کی لڑائیاں ہوں ‘ طالبان اور شمالی اتحاد کا معرکہ ہو‘ افغانستان پر نیٹو افواج کی یلغار ہویا پھر اس کے بعد اس کے خلاف طالبان اور حکمت یار کے حامیوں کی مزاحمت ‘ ہر دور میں افغانستان آنا جانا اور حالات کو قریب سے دیکھنا میرا معمول رہا ۔ میں قریب سے دیکھ چکا ہوں کہ جنگ کیا تباہیاں لاتی ہے اور ہجرت کی سختیاں کیا ہوتی ہیں؟ ۔ گذشتہ پانچ سال سے تو یہ جنگ میرے گھر میں گھس آئی ہے ۔ وزیرستان ‘ باجوڑ اور سوات کی تباہیوں کا مجھ سے بڑھ کر شاید ہی کوئی شاہد ہو۔ اب تو میرا آبائی علاقہ مہمند ایجنسی بھی میدان جنگ بنا ہوا ہے اب کے بار تو ہجرت کرنے والوں اور بموں کا نشانہ بننے والوں میں میرے ہم قبیلہ بھی شامل ہوگئے ہیں۔ میں سینکڑوں کی تعداد میں وہ سی ڈیز دیکھ چکا ہوں جس میں ایک پختون کو دوسرے پختون کو ذبح کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔ میں دیکھ چکا ہوں کہ کس طرح غریب ‘ معصوم اور ان پڑھ قبائلیوں کے تعلیمی ادارے اور گھر ملبے کے ڈھیر بن گئے ۔ میں اپنی نظروں سے دیکھ چکا کہ جنگ کے نتیجے میں کس طرح پاکستان کے سویٹزرلینڈ کا لقب پانے والا سوات اجڑ گیا اور کس طرح پورے ملک میں غربت کے حوالے سے سرفہرست صوبہ سرحد کا انفراسٹرکچر تباہ ہ برباد ہوکر رہ گیا۔ جنگ اور فساد ہی کا نتیجہ ہے کہ پختون قوم ‘ قوم نہیں رہی ‘ انسانوںکا ریوڑ بن گئی ۔ اس کے عالم شہید کئے گئے ۔ اس کے لیڈر مارے گئے ‘ گھروں میں بٹھا دئے گئے یا پھر جھوٹ اور غلط بیانی پر مجبور ہورہے ہیں ۔اس کے صاحبان دولت سرمایے سمیت بھاگ گئے ۔ اس کے شاعر ‘ ادیب اور صحافیوں کی زباںبندی کرادی گئی ہے ۔ اس کی ثقافت تباہ ہوگئی اور اس کے استاد ذہنی مریض بن گئے ۔ اس صوبے کے باسی پختون کے لئے آج اپنی زمین جہنم بن گئی ہے اور اس مٹی کی خاطر ہمہ وقت جان کی قربانی کے لئے تیار پختون کی اس مٹی سے محبت ختم ہورہی ہے ۔
الغرض میں ایک ایساانسا ن ہوں جو ہوش سنبھالتے ہی جنگ کی تباہ کاریوں کا بنظر خود مشاہدہ کررہا ہے اور جس کا گھر اس وقت جنگ کی آگ کی لپیٹ میں ہے ۔ جس کے کئی عزیز اس آگ سے متاثر ہوئے اور جس کے کئی دوست اس آگ میں جل کر راکھ ہوگئے ۔ یوں ایک انسان ‘ مسلمان ‘ پختون اور قبائلی ہونے کے ناطے جنگ سے نفرت کرنے والوں میں مجھے سرفہرست ہونا چاہئیے ۔ مجھے ہر وقت اور ہر شکل میں جنگ کی مذمت کرنی چاہئیے اور اس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئیے لیکن آپ حیران ہوں گے کہ ان سب کچھ کے باوجود میری خواہش ہے کہ ہندوستان سے جنگ چھڑ جائے ۔ میری دعا ہے کہ اس کے ساتھ ایک مختصر سی جنگ کا نظارہ ہمیں ضرور دیکھنا پڑے ۔ میں ہندوستانی لیڈروں کے مزید اشتعال کا متمنی ہوں اور اس وقت کا شدت سے انتظار کررہا ہوں کہ جب ہندوستان اور پاکستان کے مابین طبل جنگ بج جائے ۔ وجہ صاف ظاہر ہے ۔ میں نے دیکھ لیا کہ یہ جنگ ابھی چھڑی نہیں اور صرف اس کے خطرے نے قاضی حسین احمد ‘ مولانافضل الرحمان ‘ ڈاکٹر فاروق ستار ‘ میاں نواز شریف ‘ محمود خان اچکزئی ‘ حاجی محمد عدیل اور یوسف رضاگیلانی جیسے مختلف سمتوں میں گامزن لیڈروں کوایک ساتھ بیٹھنے پر مجبور کردیا ۔ میں نے دیکھ لیا کہ اس جنگ کے خطرے کے پیش نظر میرے گھر کے اندر لگی آگ کے ٹھنڈے ہونے کے آثار پیدا ہوگئے ۔ میں نے دیکھ لیا کہ ابھی جنگ چھڑی نہیں لیکن عسکری قیادت نے قبائلی علاقوں سے فوج نکالنے کا عندیہ ظاہر کرتے ہوئے بیت اللہ محسود اور مولانا فضل اللہ کو محب وطن قرار دیا ۔ میں نے دیکھ لیا کہ اس جنگ کے خطرے کے پیش نظر تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان حاجی محمد عمر نے پاک فوج کو جنگ بندی کی پیش کش کرتے ہوئے ہندوستان کے ساتھ جنگ کی صورت میں اپنی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کا اعلان کیا ۔ مجھے خبر ہوئی ہے کہ جنگ کے خطرے کے مزید بڑھ جانے کے صورت میں پاکستانی طالبان کے تمام گروہوں کے قائدین مشترکہ پریس کانفرنس اور اپنی فوج کی حمایت کا اعلان کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں جبکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ پاکستانی میڈیا بھانت بھانت کی بولی بولنے کی بجائے پہلی مرتبہ یک زبان ہوگیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس جنگ کے چھڑ جانے کی متمنی ہوں ۔ اس جنگ کی صورت میں مجھے اپنے گھر کے اندر برپا ہوئی جنگ کا خاتمہ نظر آرہا ہے ۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ اس جنگ کی صورت میں انسانوں کے ہجوم کی صورت اختیار کرنے والے پاکستانی قوم ایک بار پھر قوم بن سکتی ہے ۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ اس جنگ کی صورت میں قاضی حسین احمد ‘ اسفندیار ولی خان اور آصف علی زرداری جیسے حریف ایک صف میں کھڑے ہوسکتے ہیں اور میں دیکھ رہا ہوں کہ اس جنگ کے نتیجے میں جنرل اشفاق پرویز کیانی ‘ بیت اللہ محسود ‘ مولانا فقیر محمد اور مولانا فضل اللہ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ملک کے دشمن کو للکاریں گے ۔پاکستان کے مغربی حصے میں برپا موجودہ جنگ میں مسلمان ‘ مسلمان کے ہاتھوں ‘ پاکستانی پاکستانی کے ہاتھوں اور پختون پختون کے ہاتھوں مررہا ہے ۔ جبکہَاس جنگ میں ایک طرف ہندوستانی اور دوسری طرف پاکستانی مسلمان ہوگا ۔ مزہ اس جنگ کا آئے گا ۔ یوں میرے نزدیک موجودہ جنگ بڑی برائی اور وہ جنگ چھوٹی برائی ہے ۔ یوں میں اَس جنگ کا آرزو مند ہوں اور یہی وجہ ہے کہ ہمہ وقت میری لبوں پر یہی آرزو کہ کاش ہندوستان کے ساتھ جنگ چھڑ جائے کیونکہ مزہ اس جنگ کا آئے گا۔
Cortesy: Daily Jinnah
Recent Comments