اصل موضوع تو فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی طالبات کا احتجاج اور احتجاجی خط ہے لیکن کیا کروں کہ ابھی تک نئے نئے نظر آنے والے امیر جماعت اسلامی منور حسن کے ”اقوال زریں“ پر تبصرہ کئے بغیر آگے نکل جانا میرے نزدیک ”مجرمانہ غفلت“ سے کم نہیں۔ منور حسن فرماتے ہیں کہ مسلمان دھماکے نہیں کر سکتے۔ مطلب یہ کہ مسلمان مسلمان بھائیوں کا قتل عام نہیں کر سکتا۔ حکم بھی یہی ہے اور مفروضہ بھی اچھا ہے لیکن بدقسمتی سے حقائق ذرا مختلف ہیں۔ برا ہو تاریخ کا جو ہمیں خون کے دریاؤں، جلتے ہوئے شہروں، کھوپڑیوں کے میناروں، کٹی ہوئی گردنوں جیسے ہولناک مناظر دکھاتی ہے۔ مکہ المکرمہ سے لے کر مدینہ منورہ پر ابتدائی لشکر کشیاں کس نے کیں؟ بنو امیہ کی اپنوں کے ساتھ تاریخ کن کے خون سے تر ہے؟ بنو امیہ کی اپنوں کے ساتھ تاریخ کن کے خون سے تر ہے؟ بنو عباس کی کہانی میں کس کے بلکہ کس کس کے لہو سے رنگ بھرا ہے؟ کبھی عظیم سلطنت عثمانیہ کے اندرونی قتال و جدال پر غور نہیں فرمایا تو اپنے پیارے مغلیہ خاندان کی بیرحم اخوت پر یہی ایک نظر ڈال لی ہوتی۔ ایران کے صفویوں اور سلاطین دہلی سے فرصت ملتی تو اندلس میں ”اپنوں“ کی سازشوں، غداریوں، مخبریوں اور سفاکیت سے استفادہ کر لیا ہوتا تو حضور کو کچھ نہ کچھ اندازہ ضرور ہو جاتا کہ اقتدار، اختیار اور درہم و دینار کی ہوس کے سامنے ہر رشتہ ہیچ ہوتا ہے اور ”پاور پلے“ میں بھائی چارے کا کوئی گزر نہیں ہوتا۔
مٹھی بھر انگریز بھی اتنے وسیع و عریض برصغیر میں اسی لئے قدم جما سکے کہ ہمارے اپنے اندر کرائے کے قاتلوں کی کمی نہ تھی جو مناسب اجرت کے عوض کچھ بھی کر سکتے اور کرتے رہے۔ بکسر کی جنگ میں شاہ عالم کے خلاف انگریز فوج کے جنگجوؤں کی اکثریت کن کی تھی؟ سلطان ٹیپو اور نواب سراج الدولہ کے اصل قاتل کون تھے؟ یہ سب فرنگیوں کے نہیں در حقیقت اپنے انہی کرائے کے قاتلوں کے کارنامے ہیں کہ کلہاڑی کے ساتھ لکڑی کا دستہ شامل نہ ہو تو کلہاڑی کبھی لکڑی نہیں کاٹ سکتی۔ جب تک مہذب نہ ہو جائیں اور … Rule Of Law پوری طرح راسخ نہ ہو جائے، انسانی تاریخ ایسی ہی ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں ایسے محاورے جنم لیتے ہیں کہ
“Kingship Knows No Kinship”
مختصراً اور اشارتاً اتنا ہی کافی سمجھیں، عوام الناس پر رحم کھائیں اور ہوائی قسم کے جوش جذبات میں تاریخ مسخ اور عوام کو کنفیوژ کرنے کی کوشش نہ کریں کہ اس وقت عوام اور افواج کے اتحاد، یکجہتی اور جڑت پر خراش تک قابل قبول نہیں کیونکہ قوم و ملک اپنی تاریخ کے فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہے ہیں۔
اب چلئے اس خط کی طرف جس کا حوالہ میں نے کالم کے شروع میں دیا۔
”محترم حسن نثار صاحب!
السلام علیکم
ہم نے گزشتہ سال پاکستان کے مایہ ناز میڈیکل کالج یعنی فاطمہ جناح میڈیکل کالج میں سو فیصد میرٹ پر داخلے لئے۔ انٹرمیڈیٹ (پری میڈیکل) اور اینٹری ٹیسٹ کے پل صراط سے گزر کر ہم بظاہر اپنی منزل پر پہنچ گئے لیکن پھر کیا ہوا؟
اس سال نومبر کے مہینے میں ہمارا پہلا سال مکمل ہوا ہی تھا کہ ہمیں یہ منحوس خبر سنائی گئی کہ ہمارے کالج کو ”یونیورسٹی آف ہیلتھ سائینسز“ کے ساتھ نتھی کر دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب ہم کو پنجاب یونیورسٹی کی بجائے ایک ایسی یونیورسٹی کی ڈگری ملنے والی ہے جو ابھی نوزائیدہ اور بے نام ہے اور جس کے تحت پیسے کے بل بوتے پر چلنے والے تمام میڈیکل کالج آتے ہیں اور جو ابھی صحیح طریقے سے امتحان لینے کے قابل بھی نہیں ہے۔
فاطمہ جناح میڈیکل کالج جیسی باوقار درسگاہ کو ایسی گمنام یونیورسٹی کے نیچے دینا طالبات اور تاریخ کے ساتھ زیادتی ہی نہیں، ظلم عظیم بھی ہے۔ کیا ہم نے دن رات صرف اسی لئے ایک کئے تھے کہ اس جمعہ جمعہ 8 دن کی یونیورسٹی کی وہ ڈگری حاصل کریں جس کی کوئی پہچان ہی نہیں؟ کیا ابھی یہ یونیورسٹی اس قابل ہے کہ ہماری ذہانت، محنت اور قابلیت کے ساتھ انصاف کر سکے؟ اور کیا فقط پیسے کے بل بوتے پر بڑھنے والے اور شدید محنت پر یقین رکھنے والے ایک ہی صف میں کھڑے ہوں گے؟ اور کیا یونیورسٹی آف ہیلتھ سائینسز کی ڈگری عظیم و قدیم پنجاب یونیورسٹی کی ڈگری کا متبادل ہو سکتی ہے؟ کہ پنجاب یونیورسٹی کی ڈگری تو دنیا بھر میں مانی جاتی ہے اور اس کا تو ابھی نام تک کوئی نہیں جانتا۔
آپ ہمارے فیورٹ اور نامور کالم نگار ہیں اور پنجاب یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ پر بھی ہیں اس لئے گزارش ہے کہ خواتین کے واحد میڈیکل کالج کو جو مادر ملت کے نام سے منسوب ہے … تباہی سے بچانے میں ہمارا ساتھ دیں اور ہمارا احتجاج اوپر تک پہنچائیں کہ ہم میں سے کوئی بھی اس فیصلے کو قبول نہیں کر رہا اور نہ کرے گا۔“
نوٹ:۔ اس خط پر متعدد طالبات کے دستخط ہیں لیکن ان کی خواہش کے احترام میں انہیں شائع نہیں کیا جا رہا۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=395150

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. لائلپور المعروف فیصل آباد تک- حسن نثار
  2. پاکستان کی جوہری تنصیبات3 بار القاعدہ اور طالبان کے حملوں کا نشانہ بنیں،برطانوی پروفیسر

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha