درویش نے میرا دلاسا دینے والا ہاتھ اپنے کاندھے سے ہٹایا اور سسکیاں لیتے ہوئے کہا”تم میری بدقسمتی کا ازالہ نہیں کرسکتے“ میری ساری زندگی محرومیوں سے اٹی پڑی ہے، تم محمودہ بیگم کو جانتے ہونا؟“ میں نے جواب دیا ”ہاں اچھی طرح جانتا ہوں!“ ،بولا”تمہیں یاد ہے نا میں اس کے لئے کتنی بڑی قربانی دینے کو تیار تھا“ میں نے کہا ”مجھے علم ہے!“ درویش نے اپنی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کی اور ایک دلدوز چیخ مارتے ہوئے کہا”میں عمر میں اس سے کم از کم پندرہ سال چھوٹا تھا، غیر شادی شدہ تھا جبکہ وہ بیوہ تھی اور اس کے چھ بچے تھے مگر میں نے اس کے باوجود خدا ترسی کے جذبے کے تحت اسے نکاح کا پیغام دیا اور اس نے رد کردیا،کیا اس دنیا میں مجھ سے زیادہ بدقسمت کوئی ا ور ہے؟“۔میں نے اس کی بدقسمتی کی تصدیق کی،درویش بولا ”محمودہ بیگم نے میرے بارے میں بدگمانی سے کام لیا اس کا خیال تھا شاید میری نظر اس کے ڈیڑھ سو مربع زمین پر ہے اور اس کے علاوہ اس کی کروڑوں کی جائیداد میرے نکاح کے پیغام کی محرک ہے، کیا تم بھی یہی سمجھتے ہو کہ میں ایسا ہوں؟“ میں نے انکار میں سرہلایا!
درویش نے کوٹ اتار کر ہینگر پر لٹادیا اور اپنی ٹائی بھی کھول دی ،پھر اس نے مجھے مخاطب کیا اور بولا”کیا تم سمجھتے ہو کہ ایک عالم کے لئے کوئی بہت بھاری بھرکم ڈگری ضروری ہے؟“ میں نے جواب دیا”ہرگز نہیں، نذیر ناجی کے پاس کسی یونیورسٹی کی ڈگری نہیں، لیکن وہ انتہائی پڑھا لکھا شخص ہے“،اس پر درویش نے ایک بار پھر زارو قطار رونا شروع کردیا، میں نے آگے بڑھ کر اس کے آنسو پونچھے اور کہا”صبر کرو میں تمہارا دکھ سمجھتا ہوں،اگر زمانے نے تمہاری قدر نہیں کی تو اس سے تمہارے مرتبے میں کوئی فرق نہیں پڑا“۔ درویش نے کہا”فرق تو پڑتا ہے مجھے آج تک گریڈ بائیس سے اوپر کی کوئی نوکری نہیں دی گئی، کیسے کیسے لوگ صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان بنتے رہے ہیں اور کبھی کسی کی نگاہ انتخاب مجھ پر نہیں پڑی، میں بھی ہمیشہ اپنی درویشی ہی میں گم رہا، چنانچہ مجھے ان مناصب کی خواہش بھی نہیں ہے لیکن دوسروں کو تو اس کا خیال ہونا چاہئے تھا“، میں نے جواب دیا ”تم صحیح کہتے ہو“
درویش نے کہا”تم جانتے ہو میں صرف عالم نہیں ہوں، میں شطرنج کا بھی بہت اچھا کھلاڑی ہوں، شاعری میں بھی میرا بہت مقام ہے، میرا مذہب کا مطالعہ بھی تمہارے علم میں ہے، تصوف تو میری” گھٹی “ میں پڑا ہے، میں ہر اس صوفی کے قدموں میں بیٹھا ہوں جہاں غریب اور بے نوا لوگوں کے علاوہ اعلیٰ مناصب کے فیصلے کرنے والے جرنیل اور بیوروکریٹ بھی آتے ہیں ،خدمت میرا مسلک ہے، چنانچہ میں جرنیلوں، بیوروکریٹوں ،قومی اور علاقائی رہنماؤں، مختلف مسالک کے بااثر لوگوں کی دل و جان سے خدمت کرتا ہوں، تصوف میں پہلی شرط اپنی ذات کی نفی ہے، چنانچہ میں ان سب لوگوں سے ملتے ہوئے اپنی عزت نفس کو کبھی درمیان میں نہیں لاتا، میرے اس رویے کو خوشامد کا نام بھی دیا جاتا ہے مگر میرا اللہ جانتا ہے کہ میں اس کے بندوں کے ذریعے خدا تک پہنچنا چاہتا ہوں اور خدا تک پہنچنے کے لئے اس کے بندوں کی خدمت کرنے کا خواہشمند ہوں اور یہ خدمت صدر پاکستان یا وزیر اعظم پاکستان بننے کی صورت ہی میں زیادہ سے زیادہ کی جاسکتی ہے۔ مجھے ان مناصب کی کوئی خواہش نہیں ہے لیکن میں درویش ہوں اور خدا تک رسائی ہی ایک درویش کی منزل ہوتی ہے“۔
یہ کہتے ہوئے درویش نے اپنی قمیض بھی اتاردی ، اب اس کے بدن پر صرف بنیان اور نچلے حصے میں پتلون رہ گئی تھی۔ اس پر میرے ذہن میں خدشات نے جنم لینا شروع کردیا مجھے ڈر تھا کہ یہ سلسلہ کہیں آگے نہ بڑھے، چنانچہ میں نے اس کا دھیان ہٹانے کے لئے اسے مولانا روم کے شعر سنانا شروع کردئیے جس پر اس نے اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارتے ہوئے کہا، میں رومی کا مرید ہوں لیکن اس نے بھی میرے لئے کچھ نہیں کیا” اور یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی بنیان بھی اتاردی ،باقی صرف پتلون رہ گئی تھی ، میں نے درویش کو مخاطب کیا اور کہا”یا اَخی،خدا کے لئے آپ اس کیفیت سے نکلیں آپ کے ملازم آپ کو عجیب نظروں سے دیکھ رہے ہیں“،درویش نے بے نیازی سے ایک نظر مجھ پر ڈالی اور بولے”لوگوں کی پروا دنیا داروں کو ہوتی ہو میں اس تمام سے بہت آگے گزر چکا ہوں“ اور یہ کہتے ہوئے درویش نے اپنی پتلون بھی اتاردی ۔اب اس کے بدن پر صرف انڈرویئر رہ گیا تھا۔ میں نے منہ دوسری طرف پھیر لیا مجھے درویش کی آواز سنائی دی”میں جانتا ہوں اندر سے تم بھی میری درویشی کے پوری طرح قائل نہیں ہو، مجھے یقین ہے آج تم قائل ہوگئے ہوگے ، دیکھ لو میرے تن پر اب کچھ بھی نہیں اور من میں جو کچھ ہے وہ تم جانتے ہی ہو“ لیکن میں نے درویش کی طرف دیکھنے کا رسک نہیں لیا کہ کہیں تن کے بارے میں اس نے جو کچھ کہا ہے وہ صحیح ہی نہ ہو۔
Recent Comments