ایک ہوتے ہیں قومی ہیرو جو زندگی کے مختلف شعبوں میں ملک و قوم کی خدمت کرکے نام پیدا کرتے ،عزت کماتے اور تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ لوگ ان کی وفات کے بعد بھی ان کو یاد کرتے، ان کے لئے دعائیں مانگتے اور ان کی قبروں پر پھول سجاتے ہیں۔ ان کی آئندہ نسلیں بھی معاشرے میں قابل احترام شخصیات کا درجہ پاتیں اور اپنے حسب نسب پر فخر کرتی ہیں۔ مثالیں دینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ قومی ہیرو لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے اور ان کی یادوں کو مہکاتے ہیں۔ دوسرے ہوتے ہیں قومی لیٹرے جو ہر وقت قومی خزانے کی چوری اور قومی وسائل میں نقب لگانے کی ترکیبیں سوچتے رہتے ہیں۔ قومی خزانہ قوم کا مقدس ٹرسٹ ہوتا ہے جس میں قوم کا ہر فرد اپنی محنت اور آمدنی کا حصہ ڈالتا ہے۔ گویاوہ لوگ جو قومی خزانہ لوٹتے ہیں یاملکی وسائل چوری کرتے ہیں ان کا ہاتھ قوم کے ہر شہری کی جیب میں ہوتا ہے ا ور وہ بڑی سنگدلی سے ہر جیب کو کاٹ لیتے ہیں ممکن ہے آپ انہیں قومی جیب کترے کہیں لیکن میں انہیں قومی لیٹرے کہتا ہوں۔
این آر او کے راز سے پردہ اٹھا تو میں یہ خبر پڑھ کر صدمے سے تقریباً نڈھال ہوگیا کہ قومی لیٹروں اور قومی چوروں نے میرے ملک کے غریب خزانے اور وسائل سے ایک کھرب65ارب روپے لوٹ لئے۔ آپ جانتے ہیں کھرب کیا ہوتا ہے؟کھرب ہزار ارب کے برابر ہوتا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ یہ فہرست بھی مکمل نہیں تھی، اگر اسے ایمانداری سے بنایا جائے تو شاید چوری شدہ رقم اس سے بھی زیادہ نکلے۔ میں یہ خبر پڑھ کر سوچتا رہا کہ ان ظالموں نے کروڑوں غریبوں کے منہ سے نوالہ چھین لیا، کیونکہ اگر یہ رقم چوری ہونے کی بجائے ملک و قوم پر خرچ ہوتی تو کروڑوں شہریوں کی غربت کا علاج کرسکتی تھی اور ملکی ترقی کے لئے استعمال ہوسکتی تھی۔ عام طور پر اس طرح کی چوری ملک سے باہر چلی جاتی ہے اور چور حضرات اس سے امریکہ، انگلستان ،فرانس ،سپین،یو اے ای اور دوسرے یورپی ممالک میں جائیدادیں خرید کر اپنے آپ کو محفوظ کرلیتے ہیں۔ یوں اپنا ملک غریب سے غریب تر اور دوسرے ممالک امیر سے امیر تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر مستقبل میں اس طوفان کے سامنے بند باندھنے کا انتظام نہ کیا گیا ،اس وباء پر قابو نہ پایا گیا تو میرے غریب ملک کا خزانہ یونہی لٹتا رہے گا اور پاکستان کے شہریوں کی جیبیں اسی طرح کٹتی رہیں گی۔ سوال یہ ہے کہ کرپشن کے اس سیلاب کو کیسے روکا جائے۔ میری رائے میں اول تو ان حضرات سے لوٹی گئی دولت واپس لی جائے ، دوم ان حضرات کو سزائیں دے کر عبرت کی مثالیں قائم کی جائیں، سوم آئندہ کے لئے اس طرح کا نظام وضح کیا جائے کہ خزانہ چوروں کی دست برد سے محفوظ رہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کام کون کرے؟میری رائے میں اس کا آغاز سپریم کورٹ کو کرنا چاہئے اور حکومت کو یہ اقدامات اٹھانے پر مجبور کرنا چاہئے۔ سیاسی سطح پر اس مہم کا آغاز کرنے کے لئے این آر اوزدہ وزراء،مشیران ،بیوروکریٹس اور حکومتی عہدیداروں کو فوری طور پر اپنے عہدوں سے ہٹادینا چاہئے اور ان کو اس وقت تک واپس نہیں لینا چاہئے جب تک وہ دامن صاف نہ کرلیں۔ حکومت شاید ایسا نہ کرسکے، چنانچہ اس جہاد کا بیڑا سپریم کورٹ کو اٹھانا پڑے گا۔ تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ معاملہ سیدھا سادا سا ہے، اگر یہ سانحہ کسی اور ملک میں ہوا ہوتا تو اب تک عوامی دباؤ اور عوامی غصے کے خوف سے حکمرانوں کے درودیوار کانپ رہے ہوتے لیکن نہ جانے کیوں ہم پر ایک بے حسی طاری ہے،ہم نہ قومی خزانہ لٹنے پر ٹس سے مس ہوتے ہیں، نہ حکمرانو ں کی بداعمالیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں اور نہ ہی فوجی مداخلت کا راستہ روکتے ہیں؟ چند کالموں اور چند ٹی وی کے تبصروں سے احتجاج ریکارڈ نہیں ہوتا۔ موٴثر احتجاج وہ ہوتا ہے جو قومی سطح پر ہو، چنانچہ ہماری قومی بے رخی اور سرد مہری نے ان تمام طبقوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔
قومی لیٹروں کا دوسرا گروہ وہ ہے جس نے پاکستانی بینکوں سے قرضے لئے اور پھر معاف کروالئے۔ بینکوں میں کس کا روپیہ اور کس کے کھاتے ہوتے ہیں؟ظاہر ہے کہ یہ رقم عام شہریوں کی ہوتی ہے جن سے بینک قرضے دے کر سود کماتے ہیں۔ سود کو اللہ تعالی نے اللہ کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔ قرض لینے کو میں جرم نہیں سمجھتا ،البتہ قرض بلا جواز معاف کروانا قومی جرم ہے، جن حضرات نے قانون کے مطابق قرض لیا اور اثر و رسوخ استعمال کئے بغیر سچی بنیادوں پر قرض معاف کروایا انہیں تو معاف کیا جاسکتا ہے لیکن وہ حضرات جو قرض لے کر ہڑپ کرگئے وہ قومی مجرم ہیں۔1985سے لے کر1999تک30ارب قرضے معاف ہوئے جبکہ1999سے لے کر 2007 تک 125 ارب کے قرضے معاف کئے گئے۔ اس کارروائی اور طریقہ واردات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ان میں اکثر قرضے سیاسی بنیادوں پر دئیے گئے اور سیاسی بنیادوں پر معاف ہوئے۔ ایسے قرضے لینے والے اور انہیں معاف کرنے والے دونوں قومی مجرم ہیں اور دونوں کا احتساب ضروری ہے۔ اول تو کہا جارہا ہے کہ حکومت کی فراہم کردہ فہرست نامکمل ہے۔دوم قرضوں کے ذریعے قومی خزانہ لوٹا گیا ہے۔ میرے نزدیک اس قومی چوری اور لوٹ کا احتساب بھی صرف سپریم کورٹ کرسکتی ہے جسے چاہئے کہ وہ انفرادی جرائم اور بے انصافیوں کا نوٹس لینے کی بجائے قومی جرائم کا نوٹس لے ۔ بینکوں سے مکمل فہرستیں منگوائے اور قومی خزانہ لوٹنے والوں سے بمعہ مارک اپ رقمیں واپس کروائے۔ قومی چوروں کی تیسری قسم شوگر، آٹا اور گیس مافیا ہے۔ اب تو یہ راز کوئی راز نہیں رہا کہ شوگر انڈسٹری پر سیاسی خاندانوں کا قبضہ ہے۔ کل 80 شوگر ملوں میں سے اکثریت سیاسی خانوادوں کی ملکیت ہیں جو مصنوعی قلت پیدا کرکے اور ملی بھگت سے اربوں روپے کمارہے ہیں۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کے بیان کے مطابق انہیں چینی38/40روپے فی کلو پڑتی ہے جبکہ مارکیٹ میں ساٹھ سے ستر روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے۔ یہ ناجائز منافع کس کی جیب میں جارہا ہے اور کون اپنے شہریوں کو لوٹ رہا ہے؟یہی حال آٹا مافیا کا ہے۔ ان کے علاوہ ایک تیسرا مافیا معرض وجود میں آچکا ہے جس نے گزشتہ کچھ برسوں میں گیس کی قیمتیں کئی گنا بڑھادی ہیں۔ اس مافیا میں بڑے سیاستدان، نامور جرنیل اور ان کے رشتے دار اور حکمرانوں کے چہیتے بزنس مین شامل ہیں۔ ان کے اسمائے گرامی چھپ چکے ہیں اور یہ راز بھی کھل چکا ہے کہ یہ کوٹے اور ایجنسیاں سیاسی رشوت کے طور پر دئیے گئے۔ یہ معاملہ بھی سپریم کورٹ کے دیکھنے کا ہے، جسے اس کا جائزہ لے کر وہ لائسنس منسوخ کرنے کا حکم جاری کرنا چاہئے جو اثر و رسوخ ،ذاتی تعلقات یا سیاسی رشوت کے طور پر جاری کئے گئے تھے۔ کرپشن اور لوٹ مار اتنا وسیع میدان ہے کہ اس پر اکیلی عدلیہ، حکومت یا کوئی ایجنسی قابو نہیں پاسکتی ،نہ ہی اسے پوری طرح ایکسپوز کرسکتی ہے۔ اس جہاد میں سول سوسائٹی، میڈیا اور اصلی این جی اوز کو بہت ہی اہم کردار سرانجام دینا ہے۔ اول تو سب مل کر قومی خزانہ لوٹنے والوں پر دباؤ بڑھائیں اور عام شہری کو اس لوٹ مار کے نتائج سمجھائیں تاکہ قوم سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرے اور حکومت کو لوٹی ہوئی دولت کی واپسی پر مجبور کرے، کیونکہ اس کے بعد ان قومی مجرموں کا نمبر آئے گا جنہوں نے پاکستان سے دولت باہر لے جاکر جائیدادیں خریدی ہیں اور کاروبار سجائے ہیں لیکن اس ملک کو ٹیکس سے محروم رکھا ہے اور وہ یہاں صرف سیاست چمکانے اور حکومت کرنے تشریف لاتے ہیں۔ سول سوسائٹی ،میڈیا اور اصلی این جی اوز سے میں ایک خطرناک گزارش کرنے والا ہوں اور وہ یہ کہ کچھ معزز خاندان مجھے ان تینوں بڑے قومی مجرموں کے گروہوں میں مشترکہ طور پر نظر آتے ہیں، یعنی میرا ادراک یہ کہتا ہے کہ کچھ ماہرین لوٹ مار بذریعہ این آر او، قرضے معافی اور شوگر ،آٹا اور گیس مافیا میں ہرجگہ موجود ہیں۔ میڈیا اور این جی اوز کے ریسرچ سکالرز اور محققین کو باریک بینی سے کام لے کر ایسے قومی لیٹرے خاندانوں کی فہرست مرتب کرنی چاہئے جنہوں نے کرپشن کے ہر میدان میں اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑے ہیں اور وہ این آر او ،قرضوں، شوگر اورگیس لوٹ سے بیک وقت مستفید ہوئے ہیں یا اگر وہ تینوں میں نہیں تو کم از کم دو فہرستوں میں ضرور شامل ہوں، جب فہرست بن جائے تو محب وطن اداروں پر لازم ہوگا کہ جس طرح حکومت ہر سال تمغے اور اعزازات بانٹتی ہے ۔اسی طرح یہ ادارے بھی ان قومی لیٹروں کی”عزت افزائی“ کریں اور ان حضرات کو بلا کر ان کے سینوں پر ”تمغہ قومی لوٹ مار“ سجائیں تاکہ سماجی سطح پر عبرت کا سامان پیدا ہو اگر وہ اس اعزاز کو وصول کرنے سے انکاری ہوں تو یہ تمغے ان کے گھروں پر بھجوادئیے جائیں اور فہرست میڈیا کے حوالے کردی جائے۔ دیکھئے کرپشن اور لوٹ مار کے خلاف اس قومی جہاد میں کون آگے بڑھتا اور کون پہل کرتا ہے۔
This font with its size is torture. Please post the things that can be read.
Regards
Shabbir sahib
I am really sorry for the inconvenience, I shall try to solve this problem in a few days time. Thank you for your patience