چین اور جاپان کے بعد ایشیا کی تیسری بڑی معیشت اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان آزادی اور جمہوریت کے تسلسل اور تواتر کے باوجود تریسٹھ برسوں میں اپنی ایک ارب سے کچھ زیادہ آبادی میں سے 80 کروڑ لوگو ں کو بیس روپے روزانہ سے زیادہ کمانے کے قابل نہیں بنا سکا مگر گزشتہ ایک سال میں ہندوستان کے ارب پتی لوگوں کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے۔ “FORBES” میگزین کے مطابق پچھلے سال ہندوستان میں 27ارب پتی تھے جو اس سال 52 ہوگئے ہیں۔ یہ ہندوستان کی حکومت کی اقتصادی پالیسی کا نہیں سٹاک مارکیٹ کے حصص پر جوئے بازی کا کمال ہے کہ سات فیصد سالانہ کی شرح سے ترقی کرنے والی ہندوستانی معیشت میں سٹا ک مارکیٹ نے 52 فیصد ترقی حاصل کی ہے۔ اپنی معیشت کی سالانہ ترقی سے آٹھ گنا زیادہ رفتارسے سرمایہ امیر لوگوں کے خزانوں میں چلاگیا ہے اور کچھ اتنی ہی تیزرفتاری سے لوگ غربت کی آخری لکیر سے نیچے غرق ہو رہے ہیں اور حکمران دنیا کی سپرپاور بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
معیشت دانوں کا کہنا ہے کہ کسی معیشت کے لئے اصل خطرہ یہ نہیں ہوتا کہ اس میں امیرو ں اورغریبوں کاکیا تناسب ہے اصل خطرہ امیروں کی امارت اور غریبوں کی غربت کے درمیان حائل خلیج کی وسعت اورگہرائی سے لاحق ہوتا ہے اور ہندوستان دنیا کے تمام ملکوں سے زیادہ اس خطرے کی زد میں ہے اور چند سالوں کے بعد جب ہندوستان کی آبادی چین کی آبادی سے بھی بڑھ جائے گی تو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت دنیا کی سب سے زیادہ خوفناک غربت میں تبدیل ہو جائے گی اور اس کی جغرافیائی حدود میں بغاوتیں ہی نہیں انقلابات بھی دھڑکنے لگیں گے جو نگاہیں آج لاطینی امریکہ پرتوجہ دے رہی ہیں وہ ایشیا پر مرکوز ہو جائیں گی۔
ہندوستان کے امیر ترین صنعت کار مکیش امبانی کی دولت کااندازہ 32 ارب ڈالرز ہے جب کہ ان کے والد لندن کے فولاد کے صنعتکار لکشمی متل کا نمبر آتا ہے جن کی دولت کی مالیت تیس ارب ڈالرز بتائی جاتی ہے۔ لکشمی متل فولاد کے ایسے ہندوستانی صنعتکار ہیں کہ جن کی کوئی ایک بھٹی یا کاروباری شاخ ہندوستان کے اندر وجود نہیں رکھتی۔ ہندوستان کے امیر ترین لوگوں میں تیسرے نمبر پر مکیش امبانی کے ناراض بھائی انیل امبانی ہیں جن کی دولت کی مالیت ساڑھے سترہ ارب ڈالروں کے برابر بتائی جاتی ہے۔ حساب لگایاگیا ہے کہ اگر ہندوستان کے سو امیر ترین لوگوں کی دولت جمع کی جائے تووہ دوسو 76 ارب ڈالرز بنے گی اور یہ دولت چین کے ایک سو امیر ترین لوگوں کی مجموعی دولت (170 ارب ڈالرز)سے ایک سوچھ ارب ڈالرز یادہ ہے۔
عالمی سطح کے دولت شماروں کاکہنا ہے کہ ہندوستان کے مقابلے میں امریکہ کے امیروں کی حالت بہت خراب ہے۔ وہ مسلسل اور متواتر کمزور ہوتے جارہے ہیں اور شاید اپنی حالت کوبہتر بنانے کے لئے اب چین سے زیادہ توجہ ہندوستان پر دے رہے ہیں اور ہندوستان کے سیاسی مستقبل پر شکوک و شبہات کے سائے بھی شاید اسی وجہ سے منڈلانے لگے ہیں۔ ابھی حال ہی میں دنیا کے سابق امیر ترین امریکی بل گیٹس بانی ”مائیکرو سافٹ“ نے سات ارب ڈالروں کا نقصان اٹھایا ہے اور اس کی دولت سکڑ کر پچاس ارب ڈالرز رہ گئی ہے۔ سرمایہ کار وارن بوفر نے چالیس ارب ڈالرز کا نقصان اٹھایا ہے۔ تقریباً ایک سو امریکی ارب پتیوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ مالیاتی بحران کی زد میں آ کر وہ ارب پتی نہیں رہے کروڑ پتی بن گئے ہیں۔
دولت شماروں کے مطابق ہندوستان کے ارب پتی مکیش امبانی مائیکرو سافٹ کے چیف ایگزیکٹو سٹیو بال مر سے تین گنا زیادہ امیر ہیں۔ دونوں ایک ہی یونیورسٹی (STANFORD) سے تعلق رکھتے ہیں۔گزشتہ ماہ وزیر سلمان خورشید نے ہندوستانی کمپنیوں کے سربراہوں کی خوفناک تنخواہوں میں کمی کا مطالبہ کیا تھا جس کے احترام میں مکیش امبانی نے اپنی ماہوار تنخواہ میں 66 فیصد کمی کر دی جو اب صرف 32لاکھ ڈالرز ماہوارہ رہ گئی ہے۔ ہندوستان کے بائیں بازو کے ماہرین معیشت کاکہنا ہے کہ ہندوستان کے پالیسی سازوں کی ساری کی ساری توجہ امیروں کی دولت میں اضافے کی کوششوں پرمرکوز ہے۔ وہ غریبوں کی حالت بہتر بنانے کی طرف توجہ نہیں دے سکتے۔ دولت ہندوستان کی سیاست کو بھی خرید چکی ہے۔ وافر ناجائز کمائی کے بغیرکوئی شخص میونسپل کمیٹی کے انتخابات میں حصہ لینے کا بھی نہیں سوچ سکتا تو معاشی اور اقتصادی نظام کو تبدیل کرنے والے انقلاب کو کب تک روکا جاسکے گا۔
“FORBES”کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ بیس سالوں میں ہندوستان کے طبقاتی امتیازات میں انتہائی خطرناک حد تک اضافہ ہواہے۔ امیر ترین ہندوستانیوں کی فہرست میں چھ خواتین بھی موجود ہیں جن میں سب سے اوپر ”جندال سٹیل“ کی ساوتری جندال بارہ ارب ڈالروں کے سرمائے کے ساتھ پائی جاتی ہیں۔ میگزین کی ایڈیٹر نازنین کرمالی کے الفاظ میں ”ہندوستان میں نصیبوں کو آزمانے کے بے پناہ امکانات موجود ہیں مگر تمام کے تمام امکانات ان کے لئے ہیں جو پہلے ہی بہت زیادہ خوش نصیب ہیں۔ ہندوستان میں اگر ارب پتی بننے کے مواقع زیادہ ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت دنیا کی سب سے بڑی کرپشن بھی ہے۔“

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=389629

دنیا کی سب سے بڑی کرپشن-منو بھائی

3 thoughts on “دنیا کی سب سے بڑی کرپشن-منو بھائی

  • 06/12/2009 at 2:17 pm
    Permalink

    Intellectuals always look in to the future and provide vision to the leadership and nation.
    God has Given a good talent to Munno Bhai and he should use talent to write about Future possibilities. No Analysis could be the final but it is one of the scenario. Uzbekistan has produced the greatest Pool of the visionaries and they have lead the nation till today to the prosperous future. Visit our Uzbekistan and Witness the benefits of harmony and education.

    Reply
  • 28/08/2011 at 1:43 pm
    Permalink

    I read this blog, no doubt Manuu Bhai is great thinker, he thrashed out the hidden truth, which would be faced by India very soon. I request the all thinkers of this region that they should courage to dig out the facts about the status of India so that world could know more about these inflated development.

    Similar, we should produce those words and articles which uplift the Muslim community especially Pakistani for hard struggle. Presently Pakistan community in and out side the country is very dis-heart about the future and their moral is down. Now it requirement of time, we should again strengthen our efforts for real development with new approaches by devoting more time on education, skill and dedication.
    May Allah Bless upon Muslims.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.

%d bloggers like this: