دہشت گرد صرف وہی نہیں جنہوں نے خودکش حملوں اور بم دھماکوں کے ذریعے سارے ملک میں آگ لگا رکھی ہے، ہزاروں لوگوں کا خون بہانے کے بعد ہزاروں گھروں کوویران کر دیا ہے اور ہمارا چین برباد کر رکھا ہے بلکہ دہشت گرد وہ بھی ہیں جو ہر چند برسوں بعد جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اور آئین کو پامال کرکے قوم کو یرغمال بنا لیتے ہیں اور دہشت گرد وہ بھی ہیں جو غریب ملک کے خزانے پر ڈاکے ڈالتے، اربوں روپے ہضم کرجاتے یا اربوں کے قرض لے کر انہیں رائٹ آف یعنی معاف کروا لیتے ہیں، دہشت گرد چینی اور آٹا مافیاز بھی ہیں جنہوں نے چینی اور آٹا مہنگا کرکے قوم کو روٹی اور مٹھاس سے محروم کر رکھا ہے اور جن کی ہوس کے سبب لاکھوں لوگ ہر روز کام کاج چھوڑ کر صبح سویرے قطاروں میں لگ جاتے ہیں، جن میں سے کچھ زخمی ہوتے ہیں کچھ دل کے مرض لے کر گھر واپس لوٹتے ہیں جبکہ باقی سب کی عزت نفس بری طرح مجروح ہوتی ہے اور وہ زخمی روح کے ساتھ دو کلو چینی یا ایک بیگ آٹا لینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ہمارے دوست حاجی صاحب نے اس مشق ستم میں بھی ایک بہتری تلاش کرلی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دراصل حکومت آٹے اور چینی کی قلت پیدا کرکے لوگوں کو قطاروں میں لگنے کی تربیت دے رہی ہے کیونکہ ہمارے لوگ (کیو) قطار میں کھڑے ہونے کے عادی نہیں اور دھکم پیل ہمارے قومی مزاج کا حصہ بن چکا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر موجودہ حکومت اسی طرح کام کرتی رہی جس کی انہیں قوی امید ہے تو انشاء اللہ ہماری قوم نظم و ضبط کے سانچے میں ڈھل جائے گی۔ حاجی صاحب کا کہنا ہے کہ چینی بحران تو عدلیہ اور انتظامیہ نے مل کر نہایت خلوص نیت سے پیدا کیا ہے لیکن ا س کا فائدہ چینی مافیا اٹھا گیا ہے۔ اسی پس منظر میں حاجی صاحب نے پشین گوئی کی ہے کہ انشاء اللہ اگلے سال چاول کا بحران ہوگا کیونکہ پورے ملک میں کسان رو رہا ہے کہ اس سے دھان خریدا نہیں جا رہا اور اسے اپنی لاگت سے بھی کم قیمت مل رہی ہے۔ اس لئے اب ہمارا کسان چاول نہیں بوئے گا جس کے نتیجے کے طور پر اگلے سال لوگ چاول کے لئے قطاریں بنائیں گے اور چاول مافیا عوام کو لوٹے گا لیکن حکومت اپنی قابلیت اور کارناموں کا ڈھول بدستور بحاتی رہے گی اور اس ڈھول کا پول پولنگ کے روز کھلے گا جب خلق خدا حق رائے دہی کے ذریعے تخت الٹائے گی اور تاج کسی اور کے سر پر پہنائے گی۔ چینی مافیا، آٹا مافیا، لینڈ مافیا، خزانہ چور مافیا، قرض مافیا، کرائم مافیا، وغیرہ وغیرہ اپنی کارروائیوں اور مقاصد میں کیوں کامیاب ہوتے ہیں؟ ان عوامل کا تجزیہ کریں تو حکمرانوں کی نالائقی، نااہلی اور بدنیتی کاراز فاش ہوجاتا ہے۔
ہاں تو میں عرض کر رہا تھا کہ ہمارا غریب ملک اور بیچارے عوام کو بہت سے طاقتور دہشت گردوں نے یرغمال بنا رکھا ہے جن میں سے میں نے فقط چند ایک دہشت گرد گروہ گنوائے ہیں۔ ان تمام دہشت گرد گروہوں کا نشانہ وہ کروڑوں عوام ہیں جو خودکش حملوں کا نشانہ بھی بنتے ہیں اور بھوکوں بھی مرتے ہیں جبکہ حکمران، سیاستدان، اشرافیہ، صنعت کار اور خوشحال طبقے ان دہشت گردوں کے کارناموں کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے ایک طرف غریب ملک کے غریب خزانے سے سینکڑوں کی تعداد میں بلٹ پروف مرسیڈیز خرید رکھی ہیں، پولیس اور گارڈز اپنی حفاظت پر مامور کر رکھے ہیں اور دوسری طرف اربوں ڈالر ملک سے باہر منتقل کرکے امریکہ، انگلستان، دبئی، سپین، فرانس میں جائیدادیں خرید رکھی ہیں۔ یہ حضرات نہ اس ملک کو ٹیکس دینا پسند کرتے ہیں اور نہ یہاں کاروبار کرنا مناسب سمجھتے ہیں یہ صرف اس ملک پر حکومت کرنے، خزانہ لوٹنے اور عوام کو بیوقوف بنانے تشریف لاتے ہیں۔ نہ جانے ان بھوکے عوام کو کب یہ احساس ہوگا کہ دراصل یہی لوگ… خزانہ چور اور لوگوں کی جیبیں کاٹنے والے زرق برق لباسوں میں ملبوس غربت پر آنسو بہانے والے ہی… ان کی غربت کا اصل سبب ہیں۔ جس دن اس ملک کے وسائل اور خزانے کی چوری بند ہوگی اسی روز سے اس ملک میں خوشحالی کا سورج طلوع ہو جائے گا۔ مجھے بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان مسائل پر قلم گھسانے اور سیاہی ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، یہ بیوقوف عوام کبھی نہیں سمجھیں گے لیکن مجھے یقین ہے کہ میری زندگی ہی میں عوام میں یہ احساس ضرور پیدا ہوگا کہ ان کی غربت کا ذمہ دار خدا یا ان کا مقدر نہیں بلکہ قومی خزانے اور وسائل لوٹنے والے دہشت گرد ہیں جو اُن سے لوٹی ہوئی دولت سے سیاست کرتے اور تخت و تاج کے مالک بن جاتے ہیں۔ نہ میرا مرشد اقبال اس کشت ویراں سے ناامید تھا اور نہ ہی میں ناامید ہوں۔ خدا پناہ۔ ظلم کی حد ہے کہ این آر او ایک کھرب 65ارب روپے ہضم کر گیا ہے۔
اسی طرح کے ایک خوفناک سکینڈل کا ذکر آج روف کلاسرا نے بھی اپنے کالم میں کیا ہے۔ ایک طرف یہ دہشت گردوں کا گروہ ہے کوئی چھ ہزار لوگ ایک کھرب 65ارب روپے ہضم کرگئے ہیں اور دوسری طرف دہشت گردوں کا وہ گروہ ہے جس نے اربوں روپے کے قرضے لے کر معاف کروا لئے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ عوام کو خود کش حملوں اور بم دھماکوں والے دہشت گردوں کا تو علم ہے لیکن وہ ان دہشت گردوں سے لاعلم ہیں جو اُن کی رگوں سے آہستہ آہستہ خون چوس رہے ہیں۔ مجھے کہنے دیجئے کہ این آر او کی حمایت کرنے والے بھی دہشت گرد ہیں کیونکہ مجرم کی حمایت اور اسے پناہ دینا بھی اتنا ہی بڑا جرم ہے۔ ہمارے ملک کی اٹھارہ کروڑ آبادی میں سے تقریباً چھ کروڑ لوگ غربت کے شکنجے میں کسے ہوئے ہیں اور فاقہ کشی کا شکار ہیں اگر این آر او زدہ 5700افراد سے ایک کھرب 65ارب روپے وصول کرلئے جائیں یا کم از کم ایک کھرب ہی وصول کر لئے جائیں اور غربت کی شکار آبادی میں سے ایک کروڑ لوگوں میں تقسیم کر دیئے جائیں تو ایک کروڑ گھرانے اس رقم سے روٹی کمانے کے قابل ہو کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں تو پھر میں خزانہ چوروں کو دہشت گرد کیوں نہ کہوں؟

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=389146

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. جو ڈر گیا وہ مر گیا–صبح بخیر-ڈاکٹر صفدر محمود
  2. قومی لیٹرے- ڈاکٹر صفدر محمود
  3. رونے سے لے کر ہنسنے تک – ڈاکٹر صفدر محمود
  4. ڈراؤنے خواب؟-ڈاکٹر صفدر محمود
  5. عیشی پٹھا-ڈاکٹر صفدر محمود

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha