| زندگی کس رفتار سے کس طرف رواں دواں ہے، اس کا درست اندازہ لگانے کے لئے تو ہمارے فکری، مذہبی اور سیاسی لیڈروں کے پاس نہ علم ہے نہ عقل نہ وژن نہ وقت نہ رغبت لیکن صورتحال کو سمجھنے کے لئے چند بظاہر معمولی باتوں پر غور کر لیں تو ذہن کا زنگ کافی حد تک صاف ہو سکتا ہے۔ صرف 30,25 برس پہلے تک ٹیلیفون کا لگنا کسی خبر سے کم نہ تھا۔ وفاقی وزیر سے کم کی سفارش پر مہینوں بلکہ سالوں انتظار کرنا پڑتا اور فون لگنے پر مبارکبادیں ملتی تھیں اور فون کی گھنٹی بجتے ہی دلوں کے تار بج اٹھتے تھے۔ آج ”چھیدا“ ایک ہاتھ سے دانے بھون اور دوسرے سے فون سن رہا ہوتا ہے۔ کیمرہ، گھڑی، ریڈیو، ٹیپ ریکارڈر وغیرہ ماضی قریب میں باقاعدہ ”اثاثے“ سمجھے جاتے تھے … آج یہ سب کچھ ”جھونگے“ میں مل جاتا ہے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ زمانہ قیامت کی چال چل رہا ہے، دنیا اس تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے کہ آنکھ نہیں ٹکتی۔ ابھی کل ہی یہ چونکا دینے والی خبر نظر سے گزری ہے کہ البرٹ آئن سٹائن میڈیکل کالج کے سائنس دانوں نے انسان کو سو سال تک زندہ رکھنے والا جین دریافت کر لیا ہے۔ یہ جین عمر رسیدگی کو نمایاں کرنے والے خلیوں کی نشو و نما میں مزاحم ہو گا وغیرہ وغیرہ۔ ”بے راہرو، اخلاقیات سے عاری اور گمراہ“ قومیں موت کے ساتھ مقابلہ میں مصروف ہیں، چاند سے پانی اور معدنیات نچوڑنے کے چکر میں ہیں اور ادھر؟؟؟ عظیم اقدار کے حاملوں کا حال کیا ہے؟ سنتا جا شرماتا جا۔ جمعہ کی چھٹی پرچم ستارہ و ہلال سے روئت ہلال تک ہر شے متنازعہ اختیارات کے جھگڑے گو امریکہ گو قسم کی UNPRODUCTIVE ریلیاں اتوار بازاروں لے لوٹ مار کے بازار تک سب کچھ بازاری میڈیم اردو یا انگریزی؟ عربی لازمی کہ نہ لازمی؟ چینی، بجلی، گیس، آٹے پر ماتم… پینے کا پانی جمہوریت کی طرح آلودہ خود کشیاں یا خود کش بمبار کہاں ہماری دنیا … کہاں ان کی دنیا جن کے ساتھ مقابلے کا شوق پال رکھا ہے حالانکہ زیادہ سے زیادہ مرغ یا بٹیرے پال سکتے ہیں لیکن بہرحال … شوق دا کوئی مل نئیں سو پولیو مارے فالج زدہ کو بھی حق پہنچتا ہے کہ مائیک ٹائی سن کے ساتھ مقابلے کا شوق پال لے یا کوئی سلیم کرلا اس بات پر ”ڈٹ“ جائے بلکہ ”آہنی چٹان“ اور ”سیسہ پلائی دیوار“ بن کر کھڑا ہو جائے کہ وہ براک اوبامہ کے ساتھ ”برابری کی سطح“ پر بات کرے گا … کہاں راجہ بھوج کہاں گنگوا تیلی لیکن نہیں … کرنا کرانا کچھ نہیں لیکن دم پر کھڑے ہو کر بھوت پھیریاں لیتے رہنا اور گمراہی کا یہ عالم … فرماتے ہیں ”جب سپین ہر ہماری حکومت تھی“ میں نے جان کی امان پائے بغیر عرض کیا … ”حضرت! وہاں آپ کی نہیں عربوں کی حکومت تھی، قہر آلود نظروں سے گھورتے ہوئے فرمایا … ”ایک ہی بات ہے“ تو پھر عرض گزاری قبلہ! اگر صدیوں پہلے ایک ہی بات تھی تو کیا وجہ ہے کہ آج 21 ویں صدی میں آپ کسی مالدار اسلامی ملک میں نہ نیشنلٹی لے سکتے ہیں نہ وہاں کی عورت سے شادی کر سکتے ہیں نہ وہاں جائداد خرید سکتے ہیں نہ کسی ”کفیل“ کے بغیر کاروبار کر سکتے ہیں۔“ جواب میں شرمندگی اور ڈھٹائی کے علاوہ کچھ نہ تھا لیکن ان کا اصل لڑاکا مرغا ایک ہی ٹانگ پر کھڑا رہا کیونکہ اسے ظفر اقبال کا یہ شعر یاد تھا۔ جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہئے عالم اسلام کی بیشتر اشرافیہ … عیاشیہ ہے یا اسامہ جو کلاشنکوف پکڑ کر بذریعہ خودکش بمبار دنیا فتح کرنا چاہتا ہے۔ رہ گئی عوامی دنیا تو اس کو ”احتجاجی دنیا“ بنا دیا گیا ہے یعنی خواص عیاشی یا انتہاء پسندی میں مگن …عوام احتجاج میں مصروف باقی ٹھن ٹھن ٹھن گوپال۔ یہ سوچ سوچ کر ہی دل خون کے آنسو روتا رہتا ہے کہ یہ سوچتے کیوں نہیں کہ ”گو امریکہ گو“ کی خالی خولی یاوہ گوئی سے امریکہ جائے گا نہیں اور ”مرگ بر امریکہ“ کے کھوکھلے نعرے لگانے سے اسے موت نہیں آ جائے گی کیونکہ اس محیر العقول کائنات کے خالق و مالک و رازق سے قوموں قبیلوں کے عروج و زوال کا ”آئین“ طے کر رکھا ہے اور وہ خود اپنے ”آئین“ کو کبھی پامال نہیں کرتا۔ عزت و ذلت کے اصول، قانون، قاعدے اور ضابطے سورج کے طلوع و غروب کی طرح ایک مخصوص ڈسپلن کے پابند ہیں۔ اسلامی دنیا کو ”احتجاجی دنیا“ کی بجائے ”تخلیقی دنیا“ کا روپ دھارنا ہو گا لیکن یاد رہے کہ احتجاج جس قدر آسان ہے … تخلیق اتنی ہی مشکل … افسوس صد افسوس کہ ہر بات کے ”مغز“ کو نظر انداز کر کے ہم صدیوں سے ”چھلکوں“ پر لپک اور جھگڑ رہے ہیں اور ان چھلکوں پر پھسلتے پھسلتے اس حد تک آ پہنچے کہ آج دنیا ہم پر ہنسنے کے لئے بھی وقت ضائع کرنے پر تیار نہیں۔ |
|
Related posts:










Recent Comments