ڈاکٹر صفدر محمود

یہ اس دور کی بات ہے جب روس ایک خوفناک سپرپاور تھا اور روس کا طوطی ہر جگہ بولتا تھا۔ اس دور کے ایک روسی سفیر نے بتایا کہ ایک دفعہ میں اسلام آباد سے لاہور بذریعہ جی ٹی روڈ آ رہا تھا کیونکہ اس زمانے میں موٹروے نہیں ہوتی تھی توگجرات شہر میں داخل ہوتے ہی میری کار خراب ہوگئی۔ میں کار سے نکل کر فٹ پاتھ پر ایک طرف کھڑاہو گیا اور میراڈرائیور کار کو منانے، سمجھانے ، چلانے اور سٹارٹ کرنے کی کوششیں کرنے لگا۔ میں پریشان کھڑا تھا کیونکہ مجھے احساس تھا کہ میری کار میڈ اِن روس ہے اور پاکستانی مستری روسی ٹیکنالوجی سے بالکل بے بہرہ ہیں۔ اس لئے شاید مجھے کسی ٹیکسی کے ذریعے ہی لاہور جانا پڑے گا۔ روسی سفیر کاکہنا تھا کہ میں اسی سوچ میں پریشان کھڑا اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا رہا تھا کہ سڑک کی دوسری طرف واقع ایک کار ورکشاپ سے گندے، میلے، کچیلے کپڑے پہنے اور اپنے سیاہ ہاتھوں میں چند اوزار پکڑے ایک مستری صاحب میری کارکی جانب تشریف لایا۔ میں اسے حیرت اور طنزیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے ڈرائیور کو ایک طرف ہٹایا، کارکے پرزوں کو چھیڑا، ایک آدھ کو کسا اور ڈرائیورسے کہا ”سلف مارو“ ڈرائیور نے سلف مارا توکار سٹارٹ ہوگئی اورمیری آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔میں تھوڑی سی اردو جانتا تھا۔ آگے بڑھ کر موٹر مکینک کاشکریہ اداکیاتواس نے جواب دیا کہ میں نصف گھنٹے سے آپ کے ڈرائیور کو کارکے انجن کے ساتھ الجھتے اور آپ کوپریشان حال کھڑے دیکھ رہا تھا چنانچہ میں نے بن بلائے آپ کی مدد کا فیصلہ کیا۔ روسی سفیرکے بقول کہ اس نے مکینک کو ادائیگی کرناچاہی تو مکینک نے یہ کہہ کر انکارکر دیا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں۔ روسی سفیرکاکہنا تھا کہ میں نے پاکستان میں تین سال کے قیام کے دوران بار بار محسوس کیا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، یہاں کے لوگ باصلاحیت، محنتی اور اختراع پسند (innovative) ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان کو کچھ تو جہالت اورپسماندگی نے مارا ہے اور کچھ نالائق حکمرانوں نے جو اپنی قومی صلاحیتوں، اختراع پسند نوجوانوں اور ٹیلنٹ کی نہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور نہ ہی انہوں نے اس مقصد کے لئے کوئی نظام وضع کیا ہے۔ میں اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنا پر یہ بات ببانگ دہل کہہ رہا ہوں کہ ہمارے نیم خواندہ انجینئروں ، مستریوں، مکینکوں اور اختراعی نوجوانوں کے پاس ہمارے بہت سے مقامی مسائل کا حل موجود ہے لیکن وہ حکومتی توجہ اور سرپرستی کو ترس رہے ہیں کیونکہ وسائل کی قلت ان کی راہ میں حائل ہے۔ جہاں تک عام شہریوں کا تعلق ہے مجھے جوبھی پاکستانی ملتا ہے وہ قومی خدمت کے جذبے سے معمورلگتا ہے لیکن جہاں تک چھوٹے بڑے حکمرانوں کا تعلق ہے میں ان کوقریب سے دیکھ کر اپنے مشاہدے کا نچوڑ بیان کر رہا ہوں کہ وہ سارے کے سارے اندر سے احساس کمتری کے مریض ہیں اور ان کا بظاہر غرور، تمکنت، گھمنڈ بھی اسی احساس کمتری کی غمازی کرتاہے۔ان کے نزدیک قابلیت کا معیار صرف اورصرف انگریزی دانی ہے وہ کسی کی تخلیقی صلاحیتوں کااندازہ اس کی انگریزی سے کرتے ہیں جبکہ میرا تجربہ یہ ہے کہ اکثر …سارے نہیں …اکثر انگریزی خان نہایت سطحی ہوتے ہیں۔ ان کی سوچ کی جڑیں ہماری زمین میں پیوست نہیں ہوتیں اورنہ ہی انہیں قومی فکر، ملکی مسائل، معاشرتی روح اور قومی نفسیات کا اندازہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ عام طورپر ان کے نسخے اور تجزیئے کتابی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ بہت سی حکومتوں اور حکمرانوں کو قریب سے دیکھنے کے بعد میں اکثر محسوس کرتا ہوں کہ اگرچہ انگریز باسٹھ برس قبل چلا گیا تھا لیکن انگریزی اب بھی ہماری حاکم ہے۔ میں ہزاروں جاپانیوں، چینیوں ، کورین وغیرہ سے ملاہوں جاپان، چین، کوریا، سنگاپورکئی بار گیا ہوں لیکن میں نے فرانسیسیوں کی مانند بہت کم لوگوں کو انگریزی بولتے سنا ہے لہٰذا ان سے اکثربات چیت Interpretor یعنی مترجم کے ذریعے ہوتی ہے۔ان تمام ملکوں اورقوموں نے انگریزی کے جادو کا شکارہوئے بغیر بے پناہ ترقی کی ہے اور ان کی ترقی کا راز محض مقامی اورقومی صلاحیتوں (Talent)کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی اور اپنے وسائل پر بھروسہ میں مضمر ہے۔ ہم ذہنی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے اپنی قومی زبان اور اپنی قومی صلاحیتوں کو کم تر سمجھتے ہیں اور انگریزی دانی کوقابلیت کا اعلیٰ معیارتصور کرتے ہیں۔ یہ احساس کمتری نہیں تو اورکیا ہے؟ میں اقوام متحدہ کے اہم ادارے یونیسکو کے ایگزیکٹو بورڈ کا منتخب ممبر تھا تو فرانس میں تعینات جاپانی سفیر نے مجھے چند ایک بار اپنے گھر کھانے پربلایا۔ اس کی انگریزی ہمارے میٹرک پاس نوجوان سے بھی کم تر تھی۔ اس نے یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل کاانتخاب لڑا اور 186 ممالک کی اکثریت حاصل کرکے منتخب ہوگیا۔ میں پیرس میں جس ہوٹل میں قیام کرتا تھا اس کی مالکہ ایک بوڑھی فرانسیسی خاتون تھی۔ ایک دن اس نے میری بیوی سے کہا کہ اگر تم مجھ سے دوستی کرنا چاہتی ہو توفرانسیسی سیکھو۔ تب ہم پر راز کھلا کہ وہ انگریزی روانی سے بول سکتی تھی لیکن جان بوجھ کر نہیں بولتی تھی۔میں انگریزی کے حوالے سے اپنے حکمرانوں کے احساس کمتری کی داستانیں پھر کسی روز آپ کو سناؤں گا لیکن یہ یاد رکھئے کہ انگریزی کوزبان کے طورپرسیکھنا نہایت اہم ہے کیونکہ یہ بین الاقوامی رابطے کی زبان ہے لیکن اسے قابلیت کامعیار قرار دینا ذہنی غلامی کی ایک قسم ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب توجہ فرمائیں
خادم اعلیٰ میاں شہباز شریف کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ ٹیلنٹ اور قابلیت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اسی تاثر سے متاثر ہو کر میں یہ سطو ر لکھ رہا ہوں۔ میں پروفیسر منوراحمد ملک سے کبھی نہیں ملا لیکن گزشتہ دنوں ان سے بات کرکے اور ان کی سائنسی ایجادات کی تفصیل پڑھ کر میراجی چاہا کہ میں وزیراعلیٰ عرف خادم اعلیٰ پنجاب کی توجہ ان کی طرف مبذول کراؤں کیونکہ اس انرجی فقدان کے دور میں ہم ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر تھوڑی بہت حد تک بجلی اور سوئی گیس بچاسکتے ہیں۔
حکومت نے عام شہریوں کے غصے کے خوف سے گیس اوربجلی کی صنعتوں کیلئے لوڈشیڈنگ کرکے مالی و صنعتی بحران کو مزیدگہراکردیاہے۔ ان حالات میں پروفیسرمنوراحمد ملک کے نسخے پرعمل کرکے انرجی بحران پر کسی تک قابوپایا جاسکتا ہے تھوڑا سہی لیکن جتنا بھی ہو ضروری ہے۔ ایرانی سفیر کا کہنا ہے کہ ہم نے گیس کی سپلائی کے لئے بلوچستان کے بارڈر تک پائپ لائن بچھا دی ہے۔ پاکستان اس پائپ لائن سے رشتہ کیوں نہیں جوڑتا اور اس منصوبے کو کیوں التوا میں ڈال رہاہے۔ میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایران ہمیں بجلی بھی دینے کو تیار ہے لیکن ہم رینٹل پاورہاؤسز کے عشق میں مبتلاہیں اور ایران سے چھ سینٹ قیمت پر بجلی نہیں لیتے۔ خداہمارے حاکموں کو سمجھائے۔ بہرحال میں یہ کہہ رہا تھا کہ پروفیسرمنورملک جوگورنمنٹ کالج گوجر خان میں فزکس کے استاد ہیں اب تک اپنی پچاس ایجادات میں سے 31ایجادات کو پی سی ایس آئی آر سے رجسٹرڈ کروا چکے ہیں۔ گزشتہ تیرہ سال سے ان کی بعض ایجادات مارکیٹ میں موجود ہیں جن میں سولرگیزر، سولر ہیٹر، سولرواٹر پمپ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ پروفیسرصاحب کادعویٰ ہے کہ وہ سولر تھرمل ڈیم بنا سکتے ہیں جن سے شہروں ،ہاؤسنگ کالونیوں اور قصبوں کو سستی بجلی مہیا کی جاسکتی ہے اور بجلی اور گیس بچا کر موجودہ بحران سے بھی نکلا جاسکتاہے۔ وزیراعلیٰ انہیں وقت دیں، ان سے رہنمائی لیں اور مناسب سمجھیں تو سب سے پہلے رائیونڈ کیلئے سولر تھرمل ڈیم بنوائیں ہوسکتاہے ہم اپنی ٹیلنٹ کی سرپرستی کرکے بحرانوں کا بوجھ ہلکا کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ ان کا رابطہ نمبر 0300-5032424 ہے۔حکومت نہ سہی، پرائیویٹ سیکٹر کو چاہئے کہ وہ اس طرف توجہ دے کیونکہ دنیا بھر میں پرائیویٹ سیکٹر تحقیق، سائنسی ترقی اور ٹیلنٹ کو پروموٹ کرکے قومی خدمت بھی کررہاہے اور منافع بھی کما رہاہے۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=385823

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

No related posts.

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha