عطاء الحق قاسمی
پاکستان کے مسائل کا واحد حل ، جو مجھے سمجھ آتا ہے، اب یہی ہے کہ اقتدار میرے سپرد کر دیا جائے کیونکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی دونوں کو عوام آزما چکے ہیں اور ملک کی یہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں عوام کے مسائل حل نہیں کر سکیں تاہم اقتدار کی ”رجسٹری“ میرے نام کرنے کے لئے ضروری ہے کہ موجودہ اسمبلی توڑ کر مڈٹرم انتخابات کرائے جائیں اور ان میں متذکرہ دونوں سیاسی جماعتوں کو حصہ لینے کی اجازت نہ ہو کیونکہ عوام ، جو پرلے درجے کے بے وقوف ہیں، ایک بار پھر انہی جماعتوں کو ووٹ دیں گے چنانچہ ”ارباب اختیار“ سے گزارش ہے کہ وہ سولہ کروڑ عوام کی رائے پر میری رائے کو ترجیح دیں کیونکہ میں ”دہ جماعتیں پاس“ ایک پڑھا لکھا آدمی ہوں اور یوں سولہ کروڑ عوام غلط ہو سکتے ہیں، میں غلط نہیں ہو سکتا !
اقتدار کی میرے نام منتقلی اگرچہ بظاہر ایک مشکل کام ہے لیکن ”اربابِ اختیار“ جو کام دل سے کرنا چاہیں وہ راستے کی ساری مشکلات ختم کر دیتے ہیں اور وہ ماضی میں ایسا کرتے بھی رہے ہیں جس کی کچھ مثالیں امریکی شہریوں کو پاکستان کا وزیر اعظم اور وزیرخزانہ وغیرہ بنانے کی صورت میں موجود ہیں۔ میں تو پھر بھی پاکستانی ہوں میرے راستے میں جو مشکلات حائل ہو سکتی ہیں ان میں سے ایک کا حل تو میں نے بتا دیا ہے اور وہ یہی کہ ان دونوں جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا جائے جنہیں پاکستانی عوام کی اکثریت اپنی حماقت کی وجہ سے پسند کرتی ہے۔ اس کے بعد کسی حلقے سے مجھے منتخب کروایا جائے اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ میرے مقابلے میں کوئی امیدوار کھڑا نہ ہو۔ ”ارباب اختیار“ چاہیں تو یہ بھی ہو سکتا ہے ، بعد ازاں باقی ماندہ جماعتوں کو پابند کیا جائے کہ وہ بطور وزیر اعظم مجھے قبول کریں۔ یہ سارا کام اتنا معمولی ہے کہ ”ارباب ِ اختیار“کو کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کیونکہ وہ ماضی میں پاکستان کے مفاد میں اس سے کئی گنا بڑے کام کر چکے ہیں جن کا خمیازہ آج قوم بھگت رہی ہے۔ سوری، میرا مطلب ہے جس کا پھل آج قوم کھا رہی ہے، باقی رہا بطور وزیر اعظم میری عوامی مقبولیت کا مسئلہ، تو یہ میں خود بھی حل کر سکتا ہوں اس اس کے لئے مجھے اپنے کالم نگار دوستوں کی مدد لینا پڑے گی ، جو انکاری ہوں گے انہیں ”سکہ رائج الوقت“ سے ”پسما“ لوں گا۔
ہمارے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے عوام کو خاصا گمراہ کیا ہے۔ وہ ہر کسی کا کچا چٹھا ان کے سامنے پیش کر دیتے ہیں حالانکہ سیف الملوک والے میاں محمد بخش صاحب فرماتے ہیں کہ ”خاصوں “ کی بات ”عاموں“ کے سامنے نہیں کرنا چاہئے لیکن ان کی کون سنتا ہے؟ چنانچہ اب ہر ایک کو عوام کے سامنے اپنا استحقاق ثابت کرنا پڑتا ہے۔ اس کام کے لئے مجھے بھی مجبوراً میڈیا کا سہارا لینا پڑے گا۔ میں بطور وزیر اعظم اپنی پہلی تقریر میں لوگوں کو بتاؤں گا کہ اقتدار پر میرا حق جن بہت سی وجوہ کی بناء پر تھا ان میں سے ایک یہ ہے کہ پاکستان بنے ہوئے 62 برس گزر گئے ہیں لیکن میں ایک بار بھی اقتدار میں نہیں آیا حالانکہ بطور پاکستانی یہ ”واری“ مجھے بھی ملنا چاہئے۔ دوسری وجہ یہ بتاؤں گا کہ آپ آج تک جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں کے ہاتھوں لٹتے رہے ہیں ، میں نہ جاگیردار ، نہ وڈیرہ اور نہ سرمایہ دار ہوں بلکہ میرا تعلق متوسط طبقے سے ہے چنانچہ میں عوام کو سمجھاؤں گا کہ وہ میرا کردار نہ دیکھیں صرف میرا طبقہ دیکھیں، مجھے امید ہے بے وقوف عوام کو میری یہ بات پسند آئے گی۔
اور میری تقریری کا آخری نقطہ جو میں عوام کو مخاطب کر کے بیان کروں گا، صرف یہ ہو گا کہ آپ ہوتے کون ہیں مجھے قبول یا رد کرنے والے، یہ تو میری ”میانہ روی“ ہے جو میں آپ کو منہ لگا رہا ہوں ورنہ جو ”اربابِ اختیار“ مجھے آگے لائے ہیں، وہ آپ سے خود نمٹ لیں گے، اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ عوام کا ”بڑ بولا“ طبقہ بھی اپنی زبانیں سی لے گا کہ وہ جانتا ہے جو بندہ اوپر سے آئے، اسے اوپر والا ہی اپنے پاس بلائے تو بلائے، ورنہ وہ جاتا نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میں بہت جلد اقتدار میں آنے والا ہوں کیونکہ اربابِ اختیار قائل ہو چکے ہیں کہ پاکستان کے مسائل کا حل صرف میرے پاس ہے لہٰذا جو دوست ان دنوں میرا فون اٹینڈ نہیں کر رہے میں انہیں موقع دیتا ہوں کہ وہ میرا فون اٹینڈ کریں کیونکہ اس کے بعد میں نے ان کا فون اٹینڈ نہیں کرنا۔
اور اب آخر میں ممتاز شاعر جمیل یوسف کی تازہ غزل، آپ چاہیں تو اسے میرے اقتدار میں آنے کی نوید کے تناظر میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ غزل ملاحظہ ہو :
شب ظلمات سے پھوٹی ہے سحر آخرکار
جاگ اٹھا مرے خوابوں کا نگر آخر کار
ہے ہر اک آنکھ میں امید کا تارا روشن
آنے والی ہے کوئی اچھی خبر، آخر کار
میری دھرتی پہ اُجالوں کا چمن کھلنے لگا
بھر گیا روشنی سے روزنِ در آخرکار
قاتلوں اور لٹیروں کے مقابل آیا
آج انصاف ہوا سینہ سپر، آخرکار
رُت بدلنے کی ہوا چلنے لگی ہے ہر سُو
ختم ہے سلسلہٴ برق و شرر آخرکار
ظلم اور جبر کو للکارا تو کچھ بات بنی
کام آیا دلِ پُرخوں کا ہنر، آخرکار
اے مرے دیس کے مظلومو! ذرا اور بڑھو
کٹ کے گرنے کو ہی ہے ظلم کا سر آخرکار
جھوٹ اور مکر کی قسمت میں کہاں فتح و ظفر
روز روز ہوتا ہے ہر ظلم، مگر آخرکار؟
Recent Comments