یہ حقیقت اتنی واضح ہے کہ کوئی کرسی نشین حکمت گر بھی آپ کو بتا سکتا ہے کہ جنگ خود اپنے آپ میں کبھی بھی مقصد نہیں رہی بلکہ جنگ سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے لڑی جاتی ہے۔ لیکن اگر آپ کے کوئی سیاسی مقاصد ہی نہیں یا پھر آپ ان مقاصد کے بارے میں واضح نہیں ہیں تو پھر ہھیار اٹھانا سب سے بڑی بیوقوفی ہے۔ہو سکتا ہے کہ آپ کے پاس دنیا کی طاقتور ترین فوج ہو جیسا کہ دوسری جنگ عظیم کے موقع پر Wehrmachtکی فوجیں تھیں یا پھر آج کے دور میں امریکی فوج ہے لیکن ذہن میں جنگی مقاصد کے حوالے سے ابہام ہویا مقاصد ڈھیلے ڈھالے ڈھل مل یقین نوع کے ہوں جس پر پوری طرح غور و خوض نہ کیا گیا ہو اور سامنا ایک پر عزم مخالف سے ہو تو یقین رکھیں کہ آپ کی کوششیں بیکار جائیں گی بلکہ ناکامی کا ہی منہ دیکھنا نصیب ہوگا۔
Horace سے الفاظ و خیال مستعار لئے جائیں تو وہ کچھ یوں کہتے ہیں کہ” عقل و دلیل سے عاری ننگی طاقت خود اپنے ہی بوجھ تلے ڈھے جاتی ہے۔ جوش و ہوش کا امتزاج دیوتاؤں کو بھی عظیم تر بنا دیتا ہے لیکن نری طاقت جس کی بنیاد کمینے پن پر ہو، ا سے دیوتا بھی ناپسند کرتے ہیں۔“ سو جنگ میں عقل و دلیل یا مقصد کی عدم موجودگی اسے کمینگی کے درجے پر لے آتی ہے۔ امریکہ کی ویت نام سے متعلق مہم جوئی بھی عقل و دلیل سے عاری تھی۔ اس مہم جوئی کی نہ اس وقت کوئی تُک بنتی تھی اورنہ اب کوئی کل نظر آتی ہے،کئی سال گذرنے کے بعد بھی جب اس کا تجزیہ کیا جائے تو اسکا کوئی مقصد و مدعا نظر نہیں آتا۔ کسی کمزور دشمن کے مقابل شاید یہ بری طاقت جیت جاتی لیکن شمالی ویتنام اور ویت کانگ کوئی کمزور دشمن نہ تھے۔ اور بالآخر امریکہ کو بہت بے آبرو ہو کر ویتنام کے کوچوں سے نکلنا پڑا۔جہاں تک عراق پر امریکی حملے کا تعلق ہے تو یہ امریکہ کی ایک اور بیوقوفی تھی (یا یوں کہیں کہ ارزل پن تھا)۔ اسکا مقصد کچھ بھی نہ تھا، سوائے اپنے غرور و نخوت کے مظاہرے کے۔ عراق جنگ کا مقصد شاید دنیا کو ”چونکا دینا اور خوفزدہ“ کرنا تھا لیکن اس جنگ نے امریکہ کے وقار اور طاقت کو ناقابل بیان نقصان پہنچایا۔ سوویت یونین کی شکست و ریخت کے بعد امریکہ کرہ ارض پر بڑے شان و طمطراق سے چہل خرامی کر رہا تھا لیکن عراق پر حملے کے بعد اسکی حالت زخمی درندے جیسی دکھائی دے رہی ہے۔افغانستان کا معاملہ تھوڑا مختلف ہے۔ عالمی سطح پر دنیا کے بیشتر ممالک کی نظر میں 9/11کے وقوعے کے ردعمل کے طو رپر افغانستان پر حملہ جائز تھا کیونکہ یہ طالبان ہی تھے جنہوں نے اسامہ بن لادن اور القاعدہ کو محفوظ پناہ گاہیں دے رکھی تھیں۔ لیکن امریکہ گذشتہ آٹھ سال سے افغانستان میں موجود ہے (یہ عرصہ جنگ عظیم دوم کے مقابلے میں بھی دو سال زیادہ ہے) اور اب خود واشنگٹن میں امریکہ کے جنگی مقاصد کے بارے میں شکوک و شبہات میں اضافہ ہو رہا ہے اور افغانستان میں امریکی موجودگی کے حوالے سے چہ مگوئیاں کی جا رہی ہیں۔ یقیننا، کوئی مقصد حاصل کرنا تو درکنار، امریکی قبضے کو افغانستان میں شورش کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یقینا افغانستان میں عوامی بغاوت کے آثار واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، عوام ،طالبان کی طرف کھنچے جا رہے ہیں لیکن اسکی وجہ طالبان کا خام فلسفہ حیات نہیں بلکہ اسکے پس پشت غیر ملکی قابضین کے خلاف بھڑکتے جذبات ہیں۔ امریکی شاید فوجوں کی تعداد بڑھا کر افغانستان کے مزید شہروں پر قبضہ کر لیں جیسا کہ ان سے پہلے 80کی دہائی میں سویت یونین نے کیا تھا لیکن وہ پورے ملک پر اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں گے۔گذرے وقتوں میں جنرل Westmorelandویتنام میں امریکی فوج کے کمانڈر تھے، دوران جنگ انہوں نے مزید فوجی کمک کی درخواست کی، یہاں تک کہ انکے زیر کمان فوج کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد ہو گئی۔ یہ گئے زمانوں کی بات تھی، جنرل McChrystalآج کے دور کے Westmorelandہیں جنہوں نے طالبان بغاوت سے نمٹنے کے لئے مزید فوجی کمک کی درخواست کی ہے۔ لیکن جیسا کہ جنگ ویتنام کے لئے عوامی حمایت میں کمی واقع ہوئی تھی، اسی طرح سے افغانستان کے معاملے میں بھی عوامی حمایت و تائید میں کمی وقوع پذیر ہوتی نظر آرہی ہے۔واشنگٹن میں ایسے کرسی نشین جنگجوؤں کی کمی نہیں جو صدر اوباما کو یہ مشورے دے رہے ہیں کہ وہ جنرل McChrystalکی طرف سے افغانستان میں مزید چالیس ہزار امریکی فوجیوں کی کمک بھجوانے کی درخواست پر لبیک کہہ دیں لیکن صدر اس معاملے کو فیصل کرنے پر وقت لگا رہے ہیں اور ایسا کرنا درست بھی ہے۔ یہ انکے لئے خاصا اہم فیصلہ ہے۔ اگر انہوں نے کوئی غلط فیصلہ کیا تو یہ کرسی نشین جنگجوؤں کی نہیں بلکہ خود انکے اپنے زوال کی ابتدا ہو گی۔جنگ ویتنام کے دوران کمبوڈیا بھی سائیڈ شو کے طور پر وقوع پذیر ہوا لیکن جنگ افغانستان میں پاکستان کوئی کمبوڈیا نہیں ہے بلکہ یہ امریکہ کی افغان مہم جوئی کا دباؤ اور بوجھ اٹھائے ہوئے ہے بلکہ یوں کہیں کہ پشتہ بندی کئے ہوئے ہے۔ ایک لمحے کے لئے پاکستانی فوج کو اس مساوات سے منہا کر دیجیئے اور پھر دیکھئیے کہ افغانستان میں امریکی موجودگی کیسے اور کیونکر غیر مستحکم ہوتی ہے۔ سو پاکستان کا کردار اس معاملے میں سیٹیلائیٹ کا نہیں بلکہ افغانستان کے معاملات کے حوالے سے پاکستان مرکزی مقام رکھتا ہے۔ یہ پاکستانی قائدین کی ناکامی کی منہ بولتی تصویر ہے کہ اس حوالے سے زمام سنبھال کر حکمت عملی وضع کرنے کی بجائے پاکستان کو امریکی دم چھلے کے طور پر آگے بڑھنا پڑ رہا ہے۔اور اس معاملے کو اگر امریکہ کے حوالے سے ایک اور تناظر میں دیکھا جائے تو یہ اور بھی زیادہ غیر معمولی نظر آتا ہے، امریکہ میں جنگ مخالف جذبات روبہ عروج ہیں، اور گذشتہ چند ماہ سے ہم پاکستان میں یہ دیکھ رہے ہیں کہ جنگ حامی تحریک پھلتی پھولتی نظر آرہی ہے اور یہ خیال تقویت پا رہا ہے کہ اب بہت ہو گیا، انتہا پسندی کا ڈٹ کر مقابلہ اب ناگزیر ہوچکا ہے۔ ناقدین کے ایک محدود گروہ کے استثناء کے ساتھ جسکی قیادت جماعت اسلامی اور عمران خان کر رہے ہیں، آثار و قرائن یہ بتا رہے ہیں کہ فوج کو عوامی حمایت حاصل ہے۔ ایک طویل عرصے کے بعد قوم اور فوج ایک ہی سمت مارچ کرتے نظر آرہے ہیں (اللہ کرے یہ تعلق ختم نہ ہو)۔
لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ اس جنگ کی اعلیٰ سمت یا مقاصد کیا ہیں؟ اس تنازعے کے سیاسی اہداف و مقاصد کون طے کر رہا ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی فوجی معاملات سنبھالے ہوئے ہیں، اس حوالے سے ہمیں کوئی شکوک و شبہات نہیں ہیں۔ لیکن سیاسی میدان میں کمانڈر انچیف کون ہے، چرچل۔۔ ہمیں تقابلی مماثلت پر معاف فرمائیے لیکن ہمیں کیانی کے Montgomery? کے حوالے سے تقابلی جائزہ دینا تھا۔ (Montgomery دوسری جنگ عظیم کے فاتح انگریز جرنیل تھے)امریکہ کے خلاف مزاحمت کے وقت جنرل Giapشمالی ویتنام کے فوجی کمانڈر تھے لیکن جنگ کی مجموعی سمت کے تعین کا اختیار ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کو تھا جسکی قیادت ہوچی منہہ کر رہے تھے اور انکے انتقال کے بعد یہ اختیار پارٹی کی اجتماعی قیادت کو تفویض ہوا۔ آج ہماری فوج جنوبی وزیرستان میں طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں پر حملے کر رہی ہے لیکن جنگ کی اعلیٰ سمت یا مقصد کیا ہے؟ سیاسی قیادت کہاں ہے؟ اس جدوجہد کے سیاسی پہلوؤں کا احاطہ کون کریگا؟اس معاملے کا اہم سیاسی پہلو امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات ہیں لیکن یہ تعلق تضادات سے بھرپور ہیں۔ امریکہ ہمارا حلیف ہے یا شاید ہم اس پارٹنرشپ میں انکے لئے گدھے کی طرح باربرداری کا فریضہ انجام دے رہے ہیں لیکن افغانستان میں امریکہ کی مسلسل موجودگی ہمارے سب سے بڑے دردسر میں تبدیل ہو رہی ہے۔ ہم بغاوت اور شورش پسندی کے خلاف ایک کڑی جدوجہد میں مصروف ہیں لیکن افغانستان میں امریکی موجودگی اس شورش پسندی کو مسلسل نہ صرف ہوا دے رہی ہے بلکہ اسے زندہ رکھے ہوئے ہے۔ویتنام میں بھی اس وقت تک امن و امان کی صورتحال مخدوش رہی جب تک امریکہ ویتنام سے نکل نہ گیا۔ افغانستان میں بھی اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا اور پاکستان بھی اس وقت تک خود کو ا س جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رکھ سکتا جب تک آخری امریکی فوجی بھی افغانستان سے نکل نہ جائے۔لیکن یہ حقیقت تو قطعی طور پر واضح ہے کہ ہمارے کہنے سے امریکہ نے افغانستان سے کوچ نہیں کرنا۔ وہ اسی وقت رخت سفر باندھیں گے جب وہ بالآخر خود اپنا تجزیہ کریں گے اور اپنی مجبوریوں کا جائزہ لیں گے۔
ہمیں اپنے مفادات کے پیش نظر اپنے فیصلے خود کرنے ہونگے نہ کہ امریکی مفادات کے پیش نظر فیصلے کئے جائیں۔ لیکن اس نازک توازن کے قیام کے لئے امریکہ سے کچھ فاصلہ رکھنا ضروری ہے اور یہ فاصلہ اس قدر ہو کہ ہم ”برابری“ کی سطح پر امریکہ سے گفت و شنید کر سکیں۔ ”برابری“ جی ہاں اس لفظ سے آپ شاید کچھ حیرت آمیز خوف محسوس کریں؟ کہاں پاکستان اور کہاں امریکہ اور کہاں برابری کی سطح پر مذاکرات و گفت و شنید؟ جی ہاں، بدقسمتی توازن و مساوات قائم کر دیتی ہے۔ امریکہ کو افغانستان میں شدید ہزیمت کا سامنا ہونے والا ہے۔ یقینا ہمارا ملک ہاتھوں میں کاسہء خیرات لئے ہوئے ہے لیکن امریکہ بھی دلدل میں پھنسا ہے۔ سو کاسہء خیرات اور دلدل میں پھنسے رہنے کے درمیان کوئی زیادہ فرق تو نہیں، دونوں ہی مجبوریاں ہیں۔
کیری لوگر ایکٹ پر اعتراضات اس لئے نہیں کئے گئے تھے کہ یہ ہماری خودمختاری پر سمجھوتہ ہے، یہ خودمختاری والا پہلو تو اس معاملے کو دیکھنے کا ایک پرشکوہ نکتہ نظر ہے لیکن ہاں یہ ضرور ہے کہ کیری لوگر ایکٹ کی وجہ سے ہم تنخواہ وصول کرنیوالے بھاڑے کے ٹٹو لگ رہے ہیں۔ پاکستان نے ماضی میں بیوقوفیاں کی ہونگی لیکن سوات اور جنوبی وزیرستان آپریشن ایک نئے آغاز کا اشارہ ہیں۔ ہمارے فوجی جوانوں کی قربانیوں کو بھاڑے کے ٹٹوؤں کا رنگ دینا درست نہیں۔امریکی ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیئے ، یہ خاصے اچھنبے کی بات ہے کیونکہ وہ خود افغانستان میں کچھ خاص بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ امریکہ کو وعظ اور پندونصائح دینے کی بجائے سننے یا گوش گذار کرنے کی خوبو اپنانی چاہیئے۔ انکا اتحادی ہونے کے ناطے اور ان کے مقابلے میں زیادہ نقصان اٹھانے کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ ہم انہیں دو ٹوک الفاظ میں بتا دیں کہ انکا قبضہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ رخت سفر باندھنے کے حوالے سے وہ جتنی جلد دیگر آپشنز پر غور فرما لیں، اتنا ہی انکے حق میں بہتر ہوگا۔ اور امریکہ اگر یہاں نہ بھی ہو تو ہم تو خطے میں موجود رہیں گے۔ سوامریکہ کی طرف سے پاکستان یا اسکی فوج کی مدد و اعانت کوئی زیادہ بڑی عنایت یا مہربانی نہیں ہے۔ یہ انکی ضرورت ہے۔لیکن اس قسم کے تبادلے تبھی ممکن ہیں جب تنازعے کی سیاسی باگ ڈور مضبوط ہاتھوں میں ہو۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری کمزوری عیاں ہے، جہاں ہمیں قیادت کی ضرورت ہے ، وہاں قیادت کے نام پر وسیع خلا ہے۔ سو فوج اپنے تئیں معاملات میں مصروف ہے اور یہ صورتحال کبھی بھی پسندیدہ نہیں کہلائی جا سکتی۔
Recent Comments