صدر بارک اوباما ایک ایسے موقع پر افغانستان کیلئے حکمت عملی تشکیل دے رہے ہیں جب خطے میں بحران بڑھتا جا رہا ہے، مغربی ممالک کو اپنی کارروائیوں (مشنز) میں مشکلات کا سامنا ہے اور امریکا میں عوام جنگ سے بیزار ہو رہے ہیں۔ بارک اوباما اس اہم ترین فیصلے، جو ان کے عہدہ صدارت کی تشریح کر سکتا ہے، پر ایک ایسے موقع پر غور کر رہے ہیں جب امریکی رائے عامہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک طرف وہ افراد ہیں جو زیادہ سے زیادہ فوج کو افغانستان بھیجنے کے حامی ہیں جبکہ دوسرے چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امریکی مشن محدود اور کم خطرناک ہونے کے ساتھ محدود مقاصد پر مبنی ہو۔ عوامی رائے میں یہ اختلاف جانبدارانہ تقسیم کی عکاسی کرتا ہے جس سے صدر اوباما ایسی سیاسی مشکلات میں پھنس گئے ہیں جس میں انہیں جنگ جاری رکھنے یا اسے وسعت دینے کیلئے درکار حمایت اپوزیشن سے مل رہی ہے جبکہ ان کی اپنی ڈیموکریٹک پارٹی ان شکوک و شبہات کا شکار ہے کہ آیا افغانستان میں جنگ جیتی جا سکتی ہے یا نہیں۔
واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی نیوز کی جانب سے کئے گئے حالیہ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ 61 فیصد ڈیموکریٹس افغانستان میں مزید فوجیوں کو بھیجنے کے مخالف ہیں جس کے متعلق فوجی کمانڈرز درخواست کر چکے ہیں لیکن 69 فیصد ری پبلکنز نے مزید فوجی افغانستان بھیجنے کے حق میں فیصلہ دیا۔ صدر اوباما اس پالیسی جائزے پر سوچ بچار کر رہے ہیں جو گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ دھوکہ دہی پر مبنی صدارتی انتخابات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے افغان سیاسی بحران کو حل کرنا اتنا ہی اہم ہے جتنا بظاہر اوباما کی جانب سے امریکا کی فوجی طاقت کی حد کو تسلیم کرنا ہے تاکہ ایک ہاتھ سے نکلتی ہوئی صورتحال کو اس قابل بنایا جا سکے کہ جنگ جیت لی جائے۔
اس محتاط اور قابل غور طرز عمل کی وجہ سے ان کے مخالفین ان پر تنقید کر رہے ہیں جنہوں نے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس اہم موقع پر ہچکچاہٹ اور ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔ سابق نائب صدر ڈک چینی نے صدر پر شدید تنقید کرتے ہوئے دلیل دی کہ یہ ہچکچاہٹ امریکا کی قومی سلامتی پر سمجھوتہ کے مترادف ہے۔ اوباما کیلئے پریشانی یہ ہے کہ آخر ڈیموکریٹک پارٹی کی بڑھتی ہوئی مخالفت کو 40 ہزار اضافی امریکی فوجی امریکا بھیجنے کی تجویز قبول نہ کرنے کے خدشات سے کس طرح متوازن بنایا جائے۔ جنرل اسٹینلے میک کرسٹل کہتے ہیں کہ ان اضافی فوجیوں کے بغیر جنگ ہارنے کا امکان ہے۔ اوباما کو یہ معلوم ہے کہ اگر فوجی مشورے پر توجہ نہ دینے سے وہ امریکا کے دفاع کو خطرات سے دوچار کرنے کے الزامات کی زد میں آسکتے ہیں لیکن اگر انہوں نے اپنی پارٹی کے اندر پائے جانے والے جذبات کو نظر انداز کردیا تو اس سے ان کے بامقصد داخلی اصلاحات کا ایجنڈا خطرے میں پڑ جائے گا۔ ان کیلئے چیلنج یہ ہے کہ وہ حقیقیت پسندانہ اور قابل حصول حکمت عملی کے متعلق فیصلہ کریں جس کیلئے عوام اور ان کی پارٹی میں پائیدار حمایت موجود ہو۔ وہ اس تاثر کو مسترد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ایک ایسے صدر ہیں جو تیزی سے عسکری جارحیت کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ ان کے بارے میں یہ تاثر قائم کیا جائے کہ وہ ایسے صدر ہیں جنہوں نے ایک ایسی جنگ میں شکست کھائی جسے انہوں نے انتخاب نہیں بلکہ ضرورت قرار دیا تھا۔ اس اعلان پر کہ 7 نومبر کو افغانستان میں دوبارہ صدارتی انتخاب ہوگا (یہ ایسا اقدام ہے جو امریکا نے اپنی خفت مٹانے کیلئے کیا ہے)، اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ صدر اوباما کا فوجیوں میں اضافے کے متعلق فیصلہ افغان انتخابات کے ہوجانے تک سامنے نہیں آئے گا۔ اس کے نتائج نومبر تک سامنے نہیں آئیں گے۔ تاہم اس بات کے خدشات اب بھی پائے جاتے ہیں کہ آیا دوبارہ انتخاب کی ساکھ قابل بھروسہ ہوگی۔
اسی دوران ویتنام کی یادیں افغانستان کے مسئلے پر ہونے والی بحث کا مزہ خراب کر رہی ہیں اور دونوں تنازعات میں اکثر و بیشتر مماثلت ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کچھ لوگ ویتنام کی اصطلاح نہ ختم ہونے والے فوجی معاہدے (Open-Ended Military Commitment) سے خبردار کرنے کیلئے استعمال کر رہے ہیں جبکہ دوسرے یہ اصطلاح اس تجربے سے سبق سیکھنے کے حوالے سے استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے افراد بھی موجود ہیں جو یہ سوال کرتے ہیں کہ آیا دونوں طرح کی صورتحال کو ایک دوسرے سے موازنہ کرنا جائز ہے یا نہیں۔ ویتنام کی ناکامی نے کافی عرصہ تک ڈیموکریٹس کو پریشانیوں میں مبتلا رکھا ہے اور اس کے سبق کا اوباما کے وائٹ ہاؤس پر گہرا اثر ہے۔ چند حکام افغانستان اور ویتنام کی صورتحال کو یہ دلیل دینے کیلئے استعمال کر رہے ہیں کہ Open-Ended Military Commitment پائیدار نہیں ہے اور اگر افغانستان میں آئندہ سال بھی مشن کامیاب نہ ہوا تو اسے جاری رکھا جائے گا۔ افغانستان میں اپنی توجہ قیام امن کی بجائے القاعدہ پر مرکوز کرکے انسداد دہشت گردی کے امریکی مشن تک محدود کرنے کی جس متبادل حکمت عملی کے نائب صدر جو بائیڈن حامی ہیں وہ ان خدشات کی وجہ سے مرتب کی گئی ہے کہ امریکا افغانستان کی دلدل میں پھنس سکتا ہے۔
ویتنام جنگ میں حصہ لینے والے سینیٹر جان کیری، جو جنگ مخالف کارکن بن گئے، نے اکثر و بیشتر موازنہ پیش کیا ہے۔ گزشتہ ماہ انہوں نے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ ویتنام جنگ کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ فوجیوں کو اس وقت تک میدان جنگ میں نہیں جانا چاہئے جب تک انہیں واضح طور پر یہ معلوم نہ ہو کہ انہیں آخر کیا مقاصد حاصل کرنا ہیں، اس میں کتنا وقت لگے گا اور آیا امریکی عوام کی حمایت برقرار رکھی جا سکے گی۔
مختلف آرٹیکلز میں مبصرین نے صدر بارک اوباما کو یاد دہانی کرائی ہے کہ وہ صدر جان ایف کینیڈی یا لنڈن بی جانسن میں سے کسی ایک کے نقش قدم پر چلنے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک ٹھوس کیس حال ہی میں شایع ہونے والی ایک کتاب ”تباہی کے اسباق: میک جارج بنڈی اور ویتنام جنگ کا راستہ“ (Lessons in Disaster: McGeorge Bundy and the Path to War in Vietnam) کے مصنف گورڈن ایم گولڈ اسٹائن نے پیش کیا ہے۔
گولڈ اسٹائن کے مطابق، کینیڈی نے اپنے سیکورٹی مشیروں سے رجوع کیا تو انہوں نے انہیں 1961ء میں بتایا کہ فوجیوں کی تعداد میں نمایاں اضافے سے جنوبی ویتنام میں حکومت کا تختہ الٹے جانے سے بچایا جا سکتا ہے۔ کینیڈی نے نہ صرف فوجیوں میں اضافے کو مسترد کردیا بلکہ سیاگن کا کنٹرول چھوڑنے کے آپشن کو بھی مسترد کردیا اور درمیانہ راستہ اختیار کرنے کو ترجیح دی۔ گولڈ اسٹائن کے مطابق دوسری جانب نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر میک جارج بنڈی سمیت دیگر مشیروں کی جانب سے اس انتباہ کے بعد کہ ویتنام جنگ میں امریکا کو شکست ہوسکتی ہے، لینڈن بی جانسن نے 1965ء میں فوجیوں کی تعداد میں بھاری اضافے کی منظوری دی۔ ویتنام میں امریکی فوجی کمانڈر ولیم ویسٹ مور لینڈ نے درخواست کی تھی کہ 41 ہزار اضافی فوجی بھجوائے جائیں اور اتنی ہی تعداد میں کچھ عرصہ کے بعد بھجوائے جائیں۔ گولڈ اسٹائن کے مطابق، حکمت عملی پر انتہائی محتاظ غور و خوص یا اسکی کامیابی کی بجائے فوجیوں کی تعداد پر غور کیلئے ہونے والی ایک بحث کے بعد تعداد میں اضافے کے اقدام نے جانسن کو عسکری جارحیت کے تباہ کن راستے پر ڈال دیا۔ جانسن نے کوئی درمیانہ راستہ اختیار کرنے کی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کے بھائی ولیم بنڈی کی تجویز کو مسترد کردیا۔ اس تباہ کن فیصلے نے صدر کے ”قوم کے احیاء“ کے مقامی پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا کیونکہ انہوں نے ملک کو ایسی ویتنام جنگ میں دھکیل دیا تھا جس میں شکست لازمی تھی۔ اس انتباہ، کہ اوباما کو جانسن کی طرح میک کرسٹل کے ویسٹ مور لینڈ کی طرح فوجیوں میں اضافے کے مطالبات میں گہرا اثر پایا جاتا ہے۔ رائے عامہ موجودہ صورتحال میں ماضی کے مطالعے کے حوالے سے ادراک پذیر نظر آتی ہے۔ سی این این کے سروے میں حصہ لینے والے 52 فیصد افراد کے مطابق افغانستان کا 8 برس سے جاری تنازع ویتنام کی 16 برس کی جنگ سے مماثلت رکھتا ہے۔ کچھ مبصرین افغانستان، ویتنام جنگ پر بحث کرتے ہیں اور دلیل دیتے ہیں کہ متعین فوجیوں کی تعداد، جانی نقصانات اور اس کے نتائج کے معاملے میں کوئی بھی عسکری مشن ویتنام جیسا نہیں ہوسکتا۔ وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جب ویتنام جنگ اپنے عروج پر تھی اس وقت امریکا نے وہاں 5 لاکھ 36 ہزار فوجیوں کو مقرر کر رکھا تھا جبکہ اسکے مقابلے میں سال کے آخر تک افغانستان میں صرف 68 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ مزید یہ کہ ویتنام میں متعین فوجیوں کی اکثریت رضاکارانہ نہیں بلکہ مکمل فوجی (Draftee ) تھے۔ بارک اوباما کو تنازع سے نمٹنے کیلئے کم ہوتی عوامی حمایت کے درمیان اپنے مقامی / داخلی ایجنڈے کو پٹڑی سے اترنے کے خطرے کو محدود کرنا ہوگا اور ایسی حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی، القاعدہ کو شکست دینے کے بنیادی مقصد کو حاصل کرسکے۔ آیا یہ واضح نہیں کہ اسکا مطلب افغان معاشرے کو مستحکم کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر شورش پسندی کو کچلنے کی حکمت عملی اختیار کرنے کی میک کرسٹل کی تجویز کی منظوری ہے۔ اوباما نے کہا ہے کہ افغانستان میں مسئلہ فوجیوں کی تخفیف یا ملک چھوڑنے کا نہیں ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ انتہائی پیچیدہ مسئلے کا سامنا کرتے ہوئے بارک اوباما کوئی درمیانہ راستہ اختیار کریں گے یعنی یہ گولڈی لاک (تین ریچھوں کی معروف کہانی) کا آپشن ہے جس میں اس نے اس پیالے کا انتخاب کیا تھا جو زیادہ گرم ہے اور نہ ہی ٹھنڈا۔ بہ الفاظ دیگر بارک اوباما افغان مشن اور اسکے مقاصد کی از سر نو تشریح کرتے ہوئے فوجیوں کی تعداد میں تھوڑا اضافہ کرسکتے ہیں۔ انکی جانب سے اپنی حکمت عملی کے اعلان تک اس بحث میں ویتنام کا عنصر شامل رہے گا اور کثرت کے ساتھ محتاط قصے سنائے جاتے رہیں گے۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=384586

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. اختلاف یا پالیسی سے انحراف-ڈاکٹرملیحہ لودھی
  2. افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کا انخلا-ڈاکٹرملیحہ لودھی
  3. تصادم یا تعاون؟ ڈاکٹرملیحہ لودھی
  4. خوف کا سفر….ڈاکٹرملیحہ لودھی
  5. کیاعسکریت پسندی کا رخ موڑ دیا گیا ہے؟؟…ڈاکٹرملیحہ لودھی

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha