میرے ایک دیرینہ دوست اور اردو غزل کے نہایت خوبصورت شاعر صفدر سلیم سیال میں ”صنعت تضاد“ کی بہت سی قسمیں پائی جاتی ہیں مثلاً ایک تو یہ کہ وہ شاعر ہونے کے باوجود ”شاعرانہ سرگرمیوں سے دور دوررہتے ہیں، مشاہدہٴ حق کی گفتگو کے لئے وہ لب و رخسار اور مینا و جام کا تذکرہ اپنی غزل میں کرلیں تو کر لیں، عملی زندگی میں ان کا لائحہ عمل:
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
والے مصرعے کی عملی تفسیر نظر آتا ہے، اسی طرح شاعری اور بھینس میں جو تعلق ہے وہ صرف:
رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے تیری بھینس بنائی
والے شعر تک محدود ہے لیکن صفدر سلیم سیال کا شاعری سے جتنا تعلق ہے،ان کا اتنا ہی تعلق بھینس سے بھی ہے گزشتہ دنوں مجھے ان کا ایک خط لاہور میں منعقدہ ”عالمی بھینس کانفرنس“ کے حوالے سے موصول ہوا تھا جسے پڑھ کر میرے چودہ طبق روشن ہو گئے، یعنی عالمی اردو کانفرنس کا تو ہم سنا کرتے تھے عالمی سندھی اور پنجابی کانفرنس کا شہرہ بھی سنا لیکن عالمی بھینس کانفرنس کی اطلاع ہمیں ایک اخباری اشتہار اور اس سے کہیں پہلے صفدر صاحب کے خط کے ذریعے ہوئی تھی۔ صفدر سیال نے اپنے اس خط میں بھینسوں کے شجرہ ہائے نسب اور ان کی خوبیوں اور خامیوں پر جس تفصیل سے روشنی ڈالی تھی، میں انہیں مشورہ دینے والا تھا کہ کچھ عرصے کے لئے شاعری کو خیرباد کہیں اور بھینسوں کی طرف اپنی پوری توجہ مبذول کریں دراصل یہ مشورہ میرے اس نقاد دوست کا ہے جس کے خیال میں فوقیت صرف ان چیزوں کو دی جانی چاہئے جس سے معاشرے کو مادی فوائد حاصل ہوں، چونکہ شاعر دودھ نہیں دیتے اور بھینس دودھ دیتی ہیں لہٰذا شاعروں کی نسبت بھینسیں معاشرے کے لئے زیادہ مفید ہیں۔ یہ مشورہ محض اپنے متذکرہ نقاد دوست کے اصرار پر دے رہا ہوں ورنہ صورتحال یہ ہے کہ سلیم صفدر کی شاعری بھی معاشرے کے لئے اتنی ہی مفید ہے جتنی کوئی اور چیز ہوسکتی ہے کیونکہ وہ اد ب برائے ادب کی بجائے ادب برائے زندگی کے قائل ہیں اور یوں ان کی انقلابی شاعری خون کو گرما دینے والی ہے۔
صفدر سلیم کا متذکرہ خط اگرچہ مجھے متذکرہ کانفرنس سے پہلے مل گیا تھا جس میں انہوں نے دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر کانفرنس کو ملتوی کرنے کا مشورہ دیا تھا مگر میں ان کے مشورے سے متفق نہ تھا چنانچہ منتظر تھا کہ کانفرنس بخیر و خوبی انجام پذیر ہو تو یہ خط شائع کروں کیونکہ اس میں اپنے طور پر بہت مفید باتیں اور نہایت قیمتی معلومات موجود ہیں تاہم میری خواہش ہے کہ یہ کانفرنس ہر سال منعقد ہو بلکہ میرا مشورہ ہے کہ بھینسوں کے علاوہ ایک ”عالمی بکرا کانفرنس“ عید قربان کے موقع پر منعقد کی جائے جس میں قیام پاکستان سے اب تک ان قربانی کے بکروں کی خدمات پر روشنی ڈالی جائے جنہیں ہم مختلف اوقات میں استعمال کرتے رہے ہیں اسی طرح ایک’ ’عالمی بکری کانفرنس“ کی بھی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے بڑے بڑے سورما وقت پڑنے پر ”بکری“ بن جاتے ہیں اس نوع کی کچھ اور کانفرنس بھی میرے ذہن میں ہیں، جن کا تذکرہ پھر کبھی ہوگا فی الحال آپ صفدر سلیم سیال کا خط پڑھیں تاکہ آپ کو انداز ہو کہ ہمارا شاعر:
بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کئے ہوئے
والے دور سے گزر چکا ہے اور اب اس کا تعلق ہماری عملی زندگی سے کس قدر گہرا ہوچکا ہے اب آپ اور صفدر سلیم آمنے سامنے ہیں، لہٰذا مجھے اجازت دیں خط درج ذیل ہے: برادرم مکرم و محترم عطا الحق قاسمی صاحب
مزاج گرامی:
یہ حقیقت اپنی جگہ ایک تاریخی اہمیت کی حامل ہے کہ دنیا بھر میں پاکستانی بھینسیں نیلی راوی بریڈ کی برتری کو تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ بھی دردناک حقیقت ہے کہ اس نسل کی ترویج و ترقی کے لئے یورپی و امریکی اقوام برسوں سے مصروف تگ و تازہیں جس کا یہ بین ثبوت ہے کہ اس وقت اس بارے میں دو تنظیمیں موجود ہیں IBFانٹرنیشنل بفلو فیڈریشن اور ABAایشین بفلو ایسوسی ایشن اکتوبر2007ء میں اٹلی کے شہر کیسرٹا CASERTAمیں آٹھویں بفلو کانگریس منعقد ہوئی تھی جس میں راقم بھی شریک ہوا تھا اور یہ کسی پہلے پاکستانی سٹیک ہولڈر کی شمولیت تھی اور راقم کو IBFکی رکنیت دی گئی یہ کسی پہلے ایشیائی لائیو سٹاک فارمر کا اعزاز تھا۔ حیرت کی بات ہے کہ پاکستان نے پانچویں ایشیائی بفلو کانگریس میں شرکت کی جو چین کے شہر ننگ NANNIGمیں انعقاد پذیر ہوئی۔ سرکاری نمائندگی یونیورسٹی آف وٹرنری اینڈ انیمل سائنسز کے پروفیسر طلعت نصیر پاشا اور لائیو سٹاک فارمر بندہ ٴ ناچیز تھا۔ اس کے افتتاح پر ڈاکٹر پاشا کو آئندہ تین برس کے لئے ABAکا بلامقابلہ صدر منتخب کر لیا گیا۔ روایت کے مطابقچھٹی کانگریس کا میزبان ہے جو 27-10-30اکتوبر سال رواں میں پی سی لاہور میں تین روزہ کانگریس ہوگی جس میں ہزاروں کی تعداد میں ملکی و غیر ملکی ماہرین شرکت کریں گے آخری تاریخ 30-10-09کو پتوکی (قصور) کے نزدیک جی ٹی روڈ کے ساتھ واقع بفلو ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں کہنے کو ایک روزہ بفلو فیئر ہوگا جس میں چاروں صوبوں سے ہر کیٹگری کی بھینسیں مقابلہ میں شریک ہونگی۔ اس میں دودھ کا مقابلہ بھی ہوگا۔ اس کی یہ وضاحت ضروری ہے کہ دودھ کے مقابلہ میں شامل بھینس 28-10-9کو صبح شام خالی کی جا ئے گی۔ اگلے روز 29-10-09کو اصل دودھ مقابلہ بذریعہ صبح شامل ملکنگ Milikingہوگا۔ دودھ مقابلہ میں شامل بھینسوں کو Stressسے بچانے کے لئے کم از کم دو روز قبل متذکرہ صدر عمل کیا جائے گا ان کے مالک جن کے جانور دوسری کیٹگری میں شریک مقابلہ ہوں گے وہ بھی ایک ساتھ میلہ گاہ میں لائے جائیں گے لہٰذا یہ ایک روزہ میلہ نہیں عملاً پانچ روزہ ہوگا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پانچ روز تک فول پروف حفاظتی تدابیر اختیار کی جاسکیں گی جبکہ صوبائی حکومت ایک روز کا ضمنی الیکشن انہی خدشات کے پیش نظر بذریعہ عدالت ملتوی کرایا جا چکا ہے۔
پتوکی کا انسٹی ٹیوٹ تو ہر طرف سے کھلے کھیتوں اور جی ٹی روڈ سے ملحقہ ہے اس لئے بفلو فیئر کو فوری طور پر منسوخ کر دیا جانا چاہئے سری لنکن کے ساتھ جو ہوا کہیں اس سے بڑھ کر عالمی ماہرین اور حیوانات کے ساتھ نہ ہوجائے اگر یہ خیریت سے بھی گزرجائے تو شیخ رشید احمد کو پریس کانفرنس کا جواز مل جائے گا کہ اگر لاہور میں بفلو فیئر ہوسکتا تو الیکشنکیوں نہیں ہوسکتا تھا؟ کیا دہشت گرد میاں صاحبان کے احکام پر عمل پیرا ہیں۔ 14اکتوبر کے لاہور میں تین اور پشاور میں ایک المناک سانحہ مستزاد ہے اس کے التواء میں جو چیز حائل نظر آتی ہے وہ اس میں سے کمیشن کمانے کا معاملہ ہے بفلو میلہ میں شریک جانوروں کو سبزچارہ اور ونڈ مفت فراہم کیا جاتا ہے جس کے معاملات محکمہ پہلے ہی طے کر چکا ہوگا۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=384081

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. پیری مریدی کا اندھیرا اجالا! – روزن دیوار سے -عطاالحق قاسمی
  2. ڈریکولا سے ایک ملاقات!!-عطاالحق قاسمی
  3. آئیڈیل کی تلاش میں ! عطاالحق قاسمی
  4. پرویز مشرف اور اداکارہ میرا- عطاالحق قاسمی
  5. میں ہمیش خان بنوں گا!…روزن دیوار سے…عطاالحق قاسمی

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha