امریکی صدر اوبامہ کا بہت بہت شکریہ کہ انہیں اسلام آباد کی بہت فکر ہے اور امریکی فوجیوں نے انہی کے حکم پر اسلام آباد میں مسلح گشت شروع کردیا ہے۔ 26 اور 27/اکتوبر کی درمیانی شب چار مسلح امریکی فوجی دو گاڑیوں میں جناح ایونیو پر گھوم رہے تھے۔ صدر اوبامہ کے احکامات سے بے خبر اسلام آباد پولیس نے مسلح امریکیوں کو ایک ناکے پر روک لیا اور ان کی گاڑیوں کی تلاشی لی تو ان سے بغیر لائسنس کے اسلحہ برآمد ہوا۔ ابھی چند روز پہلے ہی ہمارے دبنگ وزیر داخلہ رحمن ملک نے یہ اعلان کیا تھا کہ آئندہ غیرملکیوں کو اسلام آباد میں اسلحہ لے کر گھومنے کی اجازت ہی نہیں ہوگی۔
اسلام آباد پولیس کو یہ غلط فہمی تھی کہ رحمن ملک جو کہتے ہیں وہ کرتے بھی ہیں لہٰذا پولیس ان امریکیوں کو پکڑ کر تھانے لے گئی لیکن صرف ڈیڑھ گھنٹے کے اندر اندر آئی جی اسلام آباد نے حکم دیا کہ گرفتار امریکیوں کو چھوڑدیا جائے۔ آئی جی اسلام آباد نے ایک دفعہ پھر اپنی پولیس فورس کو یہ پیغام دیا کہ امریکیوں کو اسلام آباد میں قانون توڑنے کی مکمل آزادی ہے اور صدر اوبامہ کی اجازت کے بغیر پاکستان میں قانون توڑنے والے کسی امریکی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی۔ ویسے بھی آئی جی اسلام آباد کیلئے امریکیوں کیخلاف کارروائی کرنا خاصا مشکل ہے کیونکہ سنا ہے کہ ان کے خاندان کے بعض افراد نے وفاقی دارالحکومت میں اپنے بنگلے امریکیوں کو بھاری بھرکم کرائے پر دے رکھے ہیں لیکن شاید وہ یہ بھول رہے ہیں کہ پاکستانی عوام کی ایک بڑی اکثریت نے ابھی تک اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا اور نہ اپنی غیرت کو کہیں کرائے پر دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب بھی امریکی حکومت ہم پاکستانیوں کو ہمارے حکمرانوں کے ذریعے غلام بنانے کی کوشش کرتی ہے تو ہم مزاحمت کرتے ہیں۔ پاکستانیوں کی اکثریت انتہاپسند نہیں بلکہ معتدل مزاج ہے اور ان معتدل مزاج پاکستانیوں کو ایک طرف امریکہ کے حامی خونخوار لبرل فاشسٹوں سے واسطہ ہے اور دوسری طرف زعمِ تقویٰ اور خبطِ عظمت میں مبتلا مذہبی جنونیوں کا سامنا ہے۔ دونوں کے سر پر خون سوار ہے اور ان دونوں کی وجہ سے ہمیں اپنے اردگرد خون کے دھبے نظر آتے ہیں۔ صدر اوبامہ سے گزارش ہے کہ ہمیں ہمارے حال پر چھوڑدیں۔ ہمیں اسلام آباد کی سڑکوں پر آپ کے گشت کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ کیری لوگر بل کے ذریعے جن لبرل این جی اوز میں ڈالر بانٹنے والے ہیں وہ این جی اوز پاکستان میں امریکہ کیخلاف نفرت کو کم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتیں۔
صدر اوبامہ سے گزارش ہے کہ آپ اپنے قول و فعل کا تضاد ختم کریں۔ آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ پاکستان میں جمہوریت کا فروغ چاہتے ہیں لیکن آپ کے من پسند حکمراں ہمیشہ پاکستان میں جمہوریت کا گلا دبانے میں مصروف رہتے ہیں۔ پہلے یہ کام پرویز مشرف کیا کرتے تھے اور بدقسمتی سے اب یہ کام موجودہ حکمراں کررہے ہیں جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ کیری لوگر بل پر عوام کی منتخب اسمبلی جو فیصلہ کرے گی وہ قبول کیا جائے گا۔ اسمبلی میں کیری لوگر بل پر بحث شروع ہوئی تو حکومت پر واضح ہوگیا کہ اس اسمبلی سے کیری لوگر بل کے حق میں قرارداد منظور کروانا ممکن نہ ہوگا لہٰذا انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا گیا اور وفاقی کابینہ نے کیری لوگر بل کو تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔ حکومت نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے بدنام زمانہ قومی مفاہمی آرڈیننس (این آر او) کو منظور کروانے کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ ابھی تک اس گناہ میں شریک ہونے کیلئے تیار نہیں ہے جبکہ مسلم لیگ (ق) کے اراکین اسمبلی و سینیٹ کو خریدنے کی کوششیں جاری ہیں، کچھ بک چکے ہیں اور کچھ نے بکنے سے انکار کردیا ہے۔ اے این پی والے سمجھانے میں لگے ہوئے ہیں کہ خدا کیلئے این آر او کو اسمبلی سے منظور نہ کرواؤ ورنہ لوگوں کا اعتبار جمہوریت سے اٹھ جائے گا۔ پیپلزپارٹی کے ایک وزیر باتدبیر کا کہنا ہے کہ اے این پی والے صرف ریٹ بڑھوارہے ہیں جب ان کی مرضی کا ریٹ ملے گا تو وہ این آر او کی حمایت ضرور کریں گے لیکن شکر ہے کہ رضا ربانی این آر او کے بارے میں بدستور اپنے تحفظات کا اظہار کررہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ 3 نومبر 2009ء کی ایمرجنسی کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے مشرف کے ساتھ اپنی مفاہمت کے خاتمے کا اعلان کردیا تھا اور اس اعلان کے ساتھ ہی پیپلزپارٹی کا اس نام نہاد مفاہمتی آرڈی ننس کے ساتھ تعلق ختم ہوگیا تھا۔ پیپلزپارٹی کے اراکین اسمبلی کی ایک قابل ذکر تعداد این آر او کے خلاف ہے۔ یہ سب جمہوریت پر عوام کا اعتماد مستحکم کرنے کیلئے این آر او کے خلاف ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ امید کی جانی چاہئے کہ صدر آصف علی زرداری این آر او کے مخالفین کو جمہوریت کا دشمن نہیں دوست سمجھیں گے لیکن اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوا تو پھر نہ زرداری صاحب صدر رہیں گے اور نہ جمہوریت رہے گی اور شاید میڈیا کی آزادی بھی سلب ہوجائے۔
حالات و واقعات سے صاف اندازہ ہورہا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت نے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا۔ 12/اکتوبر 1999ء سے پہلے ہمیں کہا جاتا تھا کہ مارشل لاء کا زمانہ ختم ہوچکا کیونکہ امریکہ کو مارشل لاء پسند نہیں۔ 12/اکتوبر 1999ء کے بعد مارشل لاء بھی آیا اور امریکہ نے اس کی حمایت بھی کی۔ پہلے بھی فوج اور عدلیہ سے محاذ آرائی کا نتیجہ جمہوریت کے خاتمے کی صورت میں نکلا اور اب ایک مرتبہ پھر فوج کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے خلاف نیا محاذ کھول دیا گیا ہے۔ سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے چند جوکروں کے جھرمٹ میں جو ڈرامہ شروع کیا ہے اس کے ڈائریکٹر کا نام بچے بچے کی زبان پر ہے۔ ان بچوں کی ذہانت اور کرپشن سے شدید نفرت میرے لئے امید کی کرن ہے اور اسی لئے کم از کم یہ بندہ ناچیز قطعاً مایوس نہیں۔ آج جو لوگ کیری لوگر بل اور این آر او کی حمایت کررہے ہیں ان کے صرف نام یاد رکھئے گا۔ آخر کو ہوگا وہی جو پاکستانیوں کی اکثریت چاہتی ہے لیکن اس مزاحمت کے دوران کچھ توڑپھوڑ اور خون خرابہ بھی ممکن ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ہم جیسے کچھ سرپھرے مارے بھی جائیں لیکن تاریک سرنگ کے دہانے پر مجھے روشنی نظر آرہی ہے، پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔ ہم ایک آزاد اور خودمختار ملک ضرور بنیں گے لیکن کچھ مزید قربانیوں کے بعد
Recent Comments