کچھ لوگ کھانے کے شوقین ہوتے ہیں اور کچھ لوگ دوسروں کو کھلانے کے شوقین ہوتے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کو اپنے ہاتھ سے کھانے پکاکر دوسروں کو کھلانے کا شوق ہے۔ بہت سال پہلے جناب نواز شریف کی زبان سے اس خاکسار نے الطاف حسین صاحب کی پکی ہوئی حلیم کی بہت تعریف سنی تھی لیکن یقین نہ آتا تھا کہ کوئی شخص لندن میں بیٹھ کر اپنی حلیم سے نواز شریف کو بھی متاثر کرسکتا ہے لیکن آخر کار اس بندہٴ ناچیز کو بھی کئی سال کے بعد الطاف حسین صاحب کے ہاتھ کی پکی ہوئی حلیم کا معترف ہونا پڑا۔ امریکہ سے واپسی پر لندن میں دو روزہ قیام کے دوران ایم کیو ایم کے قائد سے ایک تفصیلی ملاقات ہوئی اور ملاقات کے اختتام پر ان کی بنائی ہوئی حلیم کھانے کا شرف حاصل ہوا اور اتنی زیادہ کھائی کہ لندن کے سرد موسم میں جسم پسینے سے بھیگ گیا۔ حلیم پکانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ ایک لمبا اور محنت طلب عمل ہوتا ہے۔ مختلف دالوں، گوشت اور مصالحہ جات کی آمیزش سے حلیم تیار کرنا کسی فن سے کم نہیں۔ لندن میں ایم کیو ایم کے سیکرٹریٹ کے چھوٹے سے ڈائننگ ٹیبل پر الطاف حسین صاحب کے اس کمال فن سے استفادہ کرنے والوں میں حیدر عباس رضوی، فیصل سبزواری، سلیم شہزاد، مصطفی عزیز آبادی اور کچھ دیگر مہربان بھی موجود تھے۔ جیسے ہی کھانے سے فارغ ہوئے تو میرے دائیں طرف بیٹھے ہوئے انور صاحب نے بڑی معصومیت سے پوچھا کہ …”تو پھر جناب ایک دہشت گرد کے ہاتھ کی پکی ہوئی حلیم آپ کو کیسی لگی؟“ یہ سوال میرے لئے کسی بم دھماکے سے کم نہ تھا لیکن میں نے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے ایک مسکراہٹ کے ساتھ انور صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ …”حضور پسینے چھوٹ گئے!“…لندن میں ایم کیو ایم سیکرٹریٹ میں گزرنے والے چند گھنٹوں کے دوران ایک اور حیران کن منظر بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ایک خاتون اپنے نوزائیدہ پوتے کو لے کر وہاں آئیں اور الطاف حسین صاحب نے اس چند دن کے بچے کے کان میں بڑے اہتمام کے ساتھ اذان دی۔ مصطفیٰ عزیز آبادی نے میرے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بتایا کہ بچوں کے کان میں اذان دینا الطاف بھائی کا معمول بن چکا ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد اذان سے فارغ ہوئے تو میری نظروں کی حیرانگی کو بھانپ گئے۔ انہوں نے کہا…”میں مولوی نہیں ہوں لیکن مسلمان تو ہوں اور راسخ العقیدہ مسلمان ہوں“۔ اسی تناظر میں ان کے ساتھ توہین رسالت اور ختم نبوت پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے پوچھا کہ پنجاب میں ایم کیو ایم کا کیا مستقبل ہے؟
اس سوال پر میں نے عرض کیا کہ پنجاب میں ایم کیو ایم کی تنظیم سازی ایک ایسے موقع پر شروع ہوئی ہے جب پوری قوم کیری لوگر بل اور این آر او میں پھنسی ہوئی ہے۔ میرا موقف یہ تھا کہ اگر ایم کیو ایم نے این آر او کو مسترد کردیا تو صرف پنجاب میں نہیں بلکہ پاکستان میں ایم کیو ایم کے کردار کو سراہا جائے گا کیونکہ پاکستانیوں کی اکثریت پرویز مشرف کے جاری کردہ اس بدنام زمانہ آرڈیننس سے شدید نفرت کرتی ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد نے میری بات توجہ سے سنی۔ فی الحال میں نہیں جانتا کہ ایم کیو ایم کا حتمی فیصلہ کیا ہوگا لیکن الطاف حسین صاحب کے ساتھ تفصیلی گفتگو کے بعد مجھے تاثر تو یہی ملا ہے کہ این آر او پر ایم کیو ایم کا صدر آصف علی زرداری سے پھڈا ہوسکتا ہے۔ اگر ایم کیو ایم نے صدر صاحب کو این آر او پر اپنی حمایت کا یقین دلایا ہوتا تو صدر صاحب کبھی نواز شریف کو فون کرکے ملاقات کی درخواست نہ کرتے صدر صاحب کے نواز شریف اور شہباز شریف کے بارے میں تمام اندازے غلط ثابت ہوچکے ہیں۔ صدر صاحب کو بتایا گیا تھا کہ نواز شریف کیری لوگر بل کی مخالفت نہیں کریں گے لیکن آخر کو نواز شریف نے مخالفت کردی۔ صدر صاحب کو بتایا گیا تھا کہ شہباز شریف کسی موذی بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں اور طویل علاج کے لئے لندن چلے گئے ہیں۔ صدر صاحب کا خیال تھا کہ شہباز شریف کم از کم چھ ماہ کے بعد واپس آئیں گے۔ لندن میں قیام کے دوران میری شہباز شریف سے ملاقات ہوئی تو وہ بالکل بھلے چنگے بلکہ پہلے سے زیادہ ترو تازہ نظر آئے۔ ان کا خیال تھا کہ ان کی صحت کے متعلق تمام غلط خبریں صدر زرداری اور پرویز مشرف کے ایک مشترکہ دوست نے پھیلائیں۔ نواز شریف چاہتے تھے کہ پیر کو صدر زرداری سے ہونے والی ملاقات میں شہباز شریف بھی شامل ہوجائیں۔ شہباز شریف اتوارکی صبح لندن سے واپس لاہور پہنچ چکے ہیں لیکن وہ صدرزرداری کو نہیں ملیں گے۔
لندن میں انہوں نے برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کے ساتھ ایک تفصیلی ملاقات کی۔ ڈیوڈ ملی بینڈ نے انہیں کیری لوگر بل کی مخالفت سے پرہیز کا مشورہ دیا جس پر شہباز شریف نے انہیں واضح الفاظ میں کہا کہ کیری لوگر بل کے ذریعہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے لہٰذا وہ اس بل کی بعض دفعات پر خاموشی اختیار نہیں کرسکتے۔ آثار بتا رہے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف کیری لوگر بل کے ساتھ ساتھ این آر او پر اپنے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں لائیں گے۔ صدر زرداری این آر او کو بھول جائیں تو ان کیلئے بہتر ہوگا بصورت دیگر وہ این آر او پر ایک بڑی سیاسی تحریک کے مقابلے کیلئے تیار ہوجائیں۔ وہ یہ مت سمجھیں کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات کے باعث لوگ سڑکوں پر نہیں آئیں گے۔ انہیں مارچ میں بھی۔ یہی کہا جارہا تھا کہ لوگ سڑکوں پر نہیں آئیں گے لیکن آخر کار لوگ سڑکوں پر آئے اور صدر صاحب کو معزول جج بحال کرنے پڑے۔ لندن میں مجھے ہاؤس آف لارڈز میں برطانوی پارلیمینٹ کے اراکین اور سیاسی و صحافتی اشرافیہ کے ساتھ پاکستان کے حالات پر گفتگو موقع ملا۔ یہ سب پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے رہے لیکن ان میں سے کسی کو پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کی اصل وجہ معلوم نہ تھی۔ جب میں نے عرض کیا کہ پاکستان میں خودکش حملوں کا آغاز افغانستان میں امریکی فوج کی آمد کے بعد ہوا ہے، ہم جنوبی وزیرستان میں طالبان کو شکست دے سکتے ہیں لیکن ختم صرف اسی صورت میں کرسکیں گے کہ اگر آپ کی فوجیں افغانستان سے نکل جائیں تو اکثر گوروں کے چہروں پر ناگوار اثرات ظاہر ہوگئے۔ امریکہ اور برطانیہ میں گزارے گئے ان چند دنوں میں مجھے شدت کے ساتھ احساس ہوا کہ ہمیں اپنے مسائل خود حل کرنے ہوں گے، غیرملکی امدادکسی مسئلے کا حل نہیں۔ ہمیں صرف دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ کرپشن اور بدانتظامی کے خلاف بھی متحد ہونا ہوگا۔ لندن میں ایک انتہائی قابل اعتماد شخصیت نے مجھے بتایا کہ پچھلے دنوں ایک عرب ملک کی فضائی کمپنی نے پاکستان میں اپنی پروازوں کی تعداد میں اضافے کی کوشش کی۔ جب کامیابی نہ ہوئی تو مذکورہ فضائی کمپنی نے ایک مقتدر شخصیت کو تین ملین ڈالر دے کر اپنا کام کروا لیا۔ یہ مقتدر شخصیت صرف خود کھانے کی شوقین ہے اور بدقسمتی سے ڈالر کھانے کی شوقین ہے۔ اس شخصیت کو نجانے یہ احساس کیوں نہیں ہوپا رہا کہ زیادہ کھانے سے ناصرف بدہضمی ہوجاتی ہے۔ بلکہ بدنامی بھی ہوتی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اس قسم کی بے حس مقتدر شخصیات کو اقتدار کے ایوانوں سے اٹھاکر باہر پھینک دیا جائے کیونکہ یہ شخصیات صرف جمہوریت نہیں بلکہ پاکستان کیلئے بھی خطرہ بنتی جارہی ہیں۔ اور کوئی جانے نہ جانے لیکن جناب نواز شریف اس ”تھری ملین ڈالر مین“ کا نام، ضرور جانتے ہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ ”تھری ملین ڈالر مین“ کو بے نقاب کریں اور اسے بھی پرویز مشرف کے پاس لندن بھیج دیں۔
Recent Comments