کیر ی لوگر قانون کے حوالے سے پاک امریکا تعلقات کو دھچکا لگا ہے ، باہمی تعلقات اور خطے کی تاریخ میں اس سے زیادہ سنگین اور قطعی لمحہ نہیں آسکتا۔ پاکستان کی جانب سے جنوبی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف فیصلہ کن فوجی آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ صدر اوباما افغانستان کی حکمت عملی کے حوالے سے قطعی یا حتمی فیصلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں پاکستان کی جانب سے مرکز ی کردار ادا کیے جانے کا امکان ہے ۔
قانون سازی کے اقدام کی مدد سے وہ لمحہ جس سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی توثیق کی جانی تھی اور معاشی تعاون کو فروغ دیا جانا تھا وہی جھگڑے کی وجہ بن گیا۔ امریکی اور پاکستانی حکام کی جانب سے قابل توثیق احتجاج کو نظر اندازکرتے ہوئے تعلقات کو بہتر بنانے کا موقع ضائع کر دیا گیا۔ اس سے پاکستانی عوام کے جذبات کے بارے میں بے حسی کا برملا اظہار ہوتا ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ (EnHanced Partnership with Pakistan Act, 2009)کے حقیقی خالق (مصنفین) سینیٹرز جورزف بائیڈن (موجودہ نائب صدر )، جان کیری اور رچرڈ لوگر نے اپنے متعدد مسودوں میں وہ شقیں شامل نہیں کی تھیں جن کی وجہ سے نفرت یا غصہ پیدا ہوا۔یہ تو ایوان نمائندگان کا موقف تھا جسے رکن کانگریس ہاورڈ برمن لے کر آئے تھے جن کی مداخلتی شق بعد میں شامل کی گئی اور اس بناء پر پاکستان میں غم و غصہ سامنے آیا۔ نہ صرف بیرونی خلط ملط تجاویز نے شراکت داری کے تصورکو بری طریقے سے نقصان پہنچایا جبکہ پاکستانیوں کی اکثریت نے اسے پاکستانی خود مختاری میں دخل اندازی قرار دیا۔دل و دماغ جیتنے کی خواہش ان شقوں پر پیدا ہونے والی ہلچل کا نشانہ بن جائے گی جو انتظامیہ سے باقاعدہ بنیادوں پر یہ تصدیق طلب کرتی ہے کہ پاکستان وسیع تر تناظر میں شرائط پوری کر رہا ہے۔صرف پارلیمانی بحث کے فوری اور بے نتیجہ ردعمل میں نامواقف قرارداد کے مسترد کرنے کی بناء پر پاکستان میں سیاسی اختلاف کا اندازہ لگانا ایک غلطی ہوگی۔ اس سے زیادہ اہم وہ منفی تاثر ہے جوکہ عوام میں ذہنوں میں بنا ہے اور اس کا وسیع اثر دونوں ممالک کے تعلقات پر پڑا ہے جوکہ پہلے ہی باہمی اعتمادکی کمی کا شکار ہیں۔حکومت کی جانب سے نقصان کو محدود کرنے کی کوششیں اس وقت بار آور ثابت ہوئیں جب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی واشنگٹن پہنچے اور اس کے بعد مشترکہ وضاحتی بیان جاری کیا گیا جس میں بل کے متن کو درست انداز میں سمجھایا گیا۔ اس سے چند پاکستانی قائل ہوگئے۔ ملک قوانین کے پابند ہوتے ہیں نہ کہ مرضی کی قراردادوں کے۔ بہرحال وضاحتی بیان میں عوام کے تحفظات کے اہم نکات کی بات نہیں کی گئی ہے۔
کانگریسی رہنماؤں کی جانب سے پاکستانی عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنے کیلئے بیان جاری کرنے کی آمادگی سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ مناسب اور بر وقت رابطہ، جس کی وجہ سے کانگریسی اور انتظامی قائدین کو پاکستان کے متوقع رد عمل کا احساس ہوا۔ کیا اس سے متنازع شقوں کی ترمیم اور خاتمے میں کوئی مدد ملے گی؟ پاکستانی اور امریکی حکام درست موقع پر ان احساسات کو ایک دوسرے تک نہیں پہنچا سکے، تاکہ تعلقات کا نقصان نہ پہنچتا؟ امریکی اور پاکستانی حکام کے لیے یہ امر انتہائی اہم ہے کہ رد عمل کا درست طریقے سے جائزہ لیں، اس سے سبق سیکھیں اور مستقبل میں ایسے غلط فیصلوں سے بچا جا سکے۔ تین قسم کے عوامل منفی ردعمل کی گہرائی کو بیان کرتے ہیں : مشروطیت کا مواد، انداز اور زبان اورکئی دہائیوں کی بداعتمادی۔تاریخ کے بوجھ سے سب آگاہ ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کے اتار چڑھاؤ، جس میں پاکستان امریکہ کے قریب ترین اتحادی سے سب سے زیادہ پابندیوں کا سامناکرنے والے دوست تک، وہ ملک جس سے دہرے معیارکے تعلقات رہے، ابھی بھی لوگوں کی یادوں سے محو نہیں ہوئے۔ قانونی طور پر عائد کردہ پابندیوں، معاشی مدد فوجی سازو سامان کی فروخت کی بندش، پاکستانیوں نے اس قانون کو بلاجواز پابندیوں کا مجموعہ جانا جوکہ ناخوشگوار ماضی کی بازگشت تھی۔
نائب امریکی صدر جوزف بائیڈن نے جنوری میں اسلام آباد میں ملاقات کرنے والے افرادکو یقین دلایا تھا کہ واشنگٹن پاکستان سے پریسلر سے قبل کے دور کے تعلقات چاہتا ہے، شرائط اس وعدے سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں، اور پھر سودے بازی کے تعلقات پر زور دیا گیا۔
اس قانون پر اعتراضات کا بنیادی نکتہ اس کے مداخلتی اور توسیعی امتیازات پر ہے: جس میں سلامتی کے حوالے سے تعاون کو بہت سی شرائط کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔کچھ سرکاری ترجمانوں نے بحث کی کہ یہ پابندیاں (شرائط) معاشی امداد سے متعلق نہیں لہٰذا تنقید بلاجواز ہے۔ جس کی وجہ سے منقسم اورگمراہ کن صورتحال پیدا ہوئی یعنی کسی بھی قسم کی مدد یا امداد پر شرائط عائدکرنا ملک کے ساتھ تعلقات کو مشروط کرنا ہے۔جس متن پر اعتراضات ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:*قانون انتظامیہ پر یہ لازم قرار دیتا ہے کہ وہ پاکستان سے انسداد پھیلاؤ (عدم پھیلاؤکے بر عکس یہ اصطلاح طاقت کے استعمال کو ظاہرکرتی ہے ) اور انسداد دہشت گردی کے خصوصی شعبوں سے لے کر فوجی بجٹ اور فوجی افسران کی ترقیوں تک کے معاملات میں تعاون حاصل کرے یا اس کی نگرانی کرے ۔
*یہ ایکٹ ایسے مستقل امتیازات قائم کرتا ہے جو نہ صرف سلامتی کے حوالے سے معاونت کو مشروط کر دے گا بلکہ اس تعلق کی دیگر جہتوں کو تفصیلاً بیان کرتا ہے۔ درحقیقت یہ ”سانچہ“ ایک ایسا فریم ورک فراہم کرتا ہے جس پر آئندہ کے باہمی تعلقات کا انحصار ہو گا اور ممکنہ طور پر دیگر مغربی اقوام بھی اسے اپنا سکتی ہیں۔*یہ شرائط اس دیرینہ نقطہٴ نظرکو مضبوط کرتی ہیں کہ امریکا پاکستان کیلئے اپنی امداد کو ایک آلہ تصورکرتا ہے جس کے ذریعے وہ اس کی داخلی اور خارجی پالیسیوں کے مختلف پہلوؤں کا تعین کرتا ہے۔*وہ پاکستان اور بالخصوص اس کی مسلح افواج کے بارے میں اعتماد کے فقدان کا اظہارکرتے ہیں اور اس سے فوج کی جانب سے کیے گئے تعاون پر بھی سوال اٹھتا ہے۔*یہ شرائط پریسلر لا کی طرح ”ڈیموکلس“ کی تلوارکی طرح تعلقات پر لٹکتی رہے گی ۔*کچھ شقیں جب ملا کر پڑھی جائیں تو یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ پاکستان کے جوہری پروگرام کی چھان بین کے حوالے سے ہیں۔ اگر بقول امریکیوں انہیں غلط سمجھا گیا ہے تو بھی اس معاملے پر تشویش کو وقت سے پہلے دورکرنا چاہیے اور انتظامیہ کی جانب سے قانونی ابہام دورکرنے کیلئے سیاسی سرگرمیاں اورکوششیں کی جانی چاہئیں۔*ان شرائط کی رو سے پاکستان کی جانب سے عسکریت پسندی کے خلاف کوئی بھی کارروائی کے بارے میں یہی خیال کیا جائے گا کہ ایسا واشنگٹن کے حکم پرکیا جا رہا ہے جو کہ قومی ہم آہنگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔
بالکل اسی طرح قانون کے مختلف حصوں میں استعمال کی گئی استحقاقی زبان بھی قابل اعتراض ہے۔ ا س سلسلے میں سیکشن 203 کی مثال لے لیں۔ یہ انتظامیہ کی جانب سے یہ تصدیق لازم قرار دیتا ہے کہ آیا حکومت پاکستان بشمول اس کی فوج کے کسی بھی عنصر یا اس کی انٹیلی جنس ایجنسیاں شدت پسندوں اور دہشت گردوں کی حمایت بندکرنے کے معاملے پر پیش رفت کر رہے ہیں یا نہیں۔ اور اس کے باوجود اس الزام کا ہدف بننے والے سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اس طرح تعاون کرے جیسے وہ چاہتا ہے۔اس بل پر سب سے زیادہ موٴثر تبصرہ ایک امریکی صحافی ڈیوڈ ایگناٹیوس کی جانب سے آیا جنہوں نے دی واشنگٹن پوسٹ میں لکھا ہے کہ حتمی بل کا انداز ”حاکمانہ ہے“جس سے ”امریکی زعم اور غرور جھلکتا ہے“اور یہ واشنگٹن کیلئے ایک زخم بن گیا ہے۔ بالکل اسی طرح وال اسٹریٹ جنرل کے اداریے میں شرائط کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یہ ”پاکستان کے قومی وقار پرکاری ضرب ہے۔“
اوبامہ انتظامیہ نقصان کی تلافی کیلئے عزت و احترام کا انداز اپنائے گی اور کانگریس بھی پاکستانیوں کے جذبات کے ساتھ ساتھ ملک کی خودمختاری کا تعین کر نے والی حدکا بھی احترام کرے گی۔ امریکا کے بارے میں تناظر اس تعاون کے حجم پر اثرانداز ہوتا ہے جو واشنگٹن پاکستان کی کسی بھی حکومت سے حاصل کر سکتا ہے۔اس مساوات کی پاکستانی جانب کو دیکھا جائے تو اس معاملے سے حکومتی فعلیت کی خامیوں اور ریاستی معاملات اور خارجہ پالیسی میں اس کی قیادت کے غیر ادارہ جاتی طرزعمل کا پتہ چلتا ہے جوکہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے امتیازی نشان کی حیثیت اختیارکرگیا ہے۔ادارہ جاتی فعلیت کی خرابی اور عدم ارتباط انتہائی حد تک ذاتی طرزکی خارجہ پالیسی، اداروں سے بالاتر ہوکر کام کرنا، پارلیمانی اتحادیوں اور سیاسی قوتوں کو اعتماد میں نہ لینا وہ سارے عوامل ہیں جنہوں نے کیری لوگر بل قبول کرنے کے عمل میں اسلام آباد کی ناقص حکمت عملی میں کردار ادا کیا۔ اگر ایسا نہیں ہوا ہوتا تو یہ تصورکیا جا سکتا ہے کہ مختلف نتیجہ سامنے آیا ہوتا۔ امریکہ کے امدادی پیکج کا سارا کریڈٹ خود لینے کیلئے حکومت نے یہ رویّہ اختیار کیا۔ امدادی پیکج کے حصول کی فکر میں حکومت نے اپنی ان ذمہ داریوں سے صرف نظرکیا کہ وہ یہ یقینی بنانے کی کوشش کرتی کہ اس قانون کی شقیں ملک کے لوگوں کی نظر میں اہانت آمیز نہ ہوں

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=383282

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. کیری ـ لوگر ـ برمن معجون
  2. نئے مذاکرات۔ پرانے خوف…ڈاکٹرملیحہ لودھی
  3. خطروں میں گزرا برس- ڈاکٹرملیحہ لودھی
  4. تصادم یا تعاون؟ ڈاکٹرملیحہ لودھی
  5. کیاعسکریت پسندی کا رخ موڑ دیا گیا ہے؟؟…ڈاکٹرملیحہ لودھی

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha