کہتے ہیں کیری لوگر بل کے تخلیق کاروں کو کوئی سمجھا رہا تھا کہ ”لکھ دو۔ جو مرضی لکھ دو۔ پاکستانیوں کو انگلش نہیں آتی۔“ واقعی پاکستانی لوگ انگلش تحریروں کو پڑھ بھی نہیں سکتے۔ اگر پڑھ سکتے تو 2005 میں شائع ہونے والی کتاب کے مصنف کو اپنا سفیر مقرر کیوں کرتے؟ اور پاکستان کے حکمرانوں کو بھی انگلش پڑھنی نہیں آتی۔ اگر آتی تو وہ امریکی شہریت کا وہ حلف نامہ تو پڑھ لیتے جس کے تحت حلف اٹھاکر جناب حسین حقانی امریکی شہری بنے تھے۔
اس میں لکھا ہے کہ ”میں حلف اٹھا کر کہتا ہوں کہ میں ہر حال میں امریکہ کا وفادار رہوں گا اور ہمیشہ ہر کام امریکہ کے مفاد میں کروں گا۔“
”وفادار“ کو اُردو زبان میں ”دوست“ اور عالم زبان میں ”یار“ کہا جاتا ہے۔ اسی کے مطابق عوامی زبان میں ”امریکہ کا جو یار ہے …“ والا نعرہ تخلیق ہوا تھا۔
ایک جنگل میں یہ قانون منظور ہوگیا کہ آئندہ کوئی جانور کسی دوسرے جانور کو نہیں کھائے گا۔ دوسرے دن جانور لوگوں نے دیکھا کہ ایک خرگوش بھاگا چلا جارہا ہے ایک گیدڑ نے اس کو آواز دی اور پوچھا کیوں بھاگے چلے جارہے ہو۔ خرگوش نے کہا۔ ”ایک بھیڑیا میری طرف آرہا ہے!“
اس نے کہا۔”تم کو معلوم نہیں کہ قانون جاری ہوگیا ہے؟ اب کوئی جانور دوسرے جانور کو نہیں کھائے گا۔“
خرگوش بولا”ہاں قانون تو جاری ہوگیا ہے۔ لیکن بھیڑیئے کو پڑھنا نہیں آتا۔!!
اب خرگوش پریشان ہیں کہ قانون بن گیا ہے اور جو طاقتور ہیں اور با اثر ہیں ان کو پڑھنا نہیں آتا ایسے میں ہمارا کیا بنے گا……؟بے چارے خرگوش پریشان ہیں اور فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنا ہے کہ کیری لوگر بل میں ہمیں منظورہے یا نا منظور۔؟ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی امریکہ سے آکر پارلیمنٹ میں جس طرح گویا ہوئے اس پر اپوزیشن کا خیال ہے کہ وہ اس بل کو پڑھنے میں ناکام رہے ہیں۔ ادھر حکومت کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن کی انگلش بھی کمزور ہے… دنیا بھر کے خرگوشوں کا خیال یہ ہے کہ انگلش امریکیوں کی ہی کمزور ہے اگران کو پڑھنا نہیں آتا اور وہ اقوام متحدہ کا منشور پڑھ سکتے تو وہ اس طرح ملکوں چنگیز خان اور ہلاکو خان کی طرح دندناتے نہ پھرے اور اس طرح قندھار، ابوغریب اور گوانتا ناموبے کی جیلوں میں تشدد کی وارداتیں نہ کرتے، اور اس طرح سے دوسرے ملکوں کی خود مختار کے خلاف بل نہ لاتے۔
کیری لوگر بل کا سب سے اچھا تجزیہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بل پاکستان نے منظور نہ کیا تو ہمیں 80 کروڑ ڈالر کا خسارہ ہوگا، پھر اپنے تبصرے میں کہا کہ اب خسارے کوملکی بجٹ میں بچت کرکے پورا کیا جاسکتا ہے، ورنہ میں I MF کے پاس جانا پڑے گا۔
جب واضح ہوگیا ہے کہ یہ ساری کہانی اور ساری غلامی 80 کروڑ ڈالر میں ختم ہوسکتی ہے تو یہ وقت ہے کہ ہم اپنے اخراجات میں کمی کردیں، اس سلسلے میں بہت سے لوگ سرکاری اخراجات کی کمی کی تجویز دے رہے ہیں، میں ان بہت سی تجاویز کو یہاں درج کرتا ہوں، یہ تجاویز اُردو میں اور دنیا کے سب سے بڑے اُردو اخبار میں شائع ہورہی ہیں، 80کروڑ ڈالرکا خسارہ پوراکرنے کیلئے ہمیں چاہئے کہ
1۔جناب آصف زرداری ایک سال کیلئے ماؤزے تنگ بن جائیں۔ ماؤزے تنگ کبھی کسی غیر ملکی دورے پرنہیں گئے تھے۔ ملک میں بھی ان کے اخراجات برائے نام تھے۔ اگر جناب زرداری بیرونی دورے پر نہ جائیں گے تو بڑی مقدارمیں زرمبادلہ یعنی ڈالر بچ جائیں گے۔
2۔ جناب یوسف رضا گیلانی ایک سال کے لئے قائداعظم محمد علی جناح بن جائیں، قائد اعظم ہی گورنر جنرل بننے کے بعد کسی غیر ملکی دورے پر شریف نہیں لے گئے۔
اور گورنر جنرل قائد اعظم کے کچن کا جو خرچہ تھا وہی وزیر اعظم ہاؤس کا بھی ہونا چاہئے، اس کی تفصیل وہ اپنی پارٹی کے ممبر رضا ربانی سے حاصل کرسکتے ہیں جن کے والد قائد اعظم کے اے ڈی سی تھے۔
3۔ پاکستان کی کابینہ کی وطن دوستی کا امتحان لیا جائے اورکابینہ کو کم کرکے 12یا 16 کی حد تک لایا جائے، اس سے کروڑوں ڈالر کی بچت ہوگی لاتعداد مشیروں کو بھی آرام دیا جائے۔
4۔ اسمبلی ممبروں کی تنخواہوں میں 50فیصد کمی کی جائے اور ان کو ملنے والے پی آئی اے کے فری ٹکٹ جیسی سہولتوں کو 10فیصد تک لایا جائے۔
5۔ سول اور ملٹری بیورو کریسی کے جن افراد کو ایک سے زائد رہائشی اور کمرشل پلاٹ یا بنگلے الاٹ کئے گئے ہیں ان سے کم ازکم ایک پلاٹ یا بنگلہ قومی خزانے میں واپس لیا جائے۔
واضح رہے کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنی ٹی وی خطاب میں ڈیکلیئر کیا تھا کہ ان کے ملک بھر میں 10پلاٹ اور بنگلے ہیں۔
6۔ حکومت اور اپوزیشن میں موجود پارٹیوں کے لیڈروں سے کیا جائے کہ وہ ملکی محبت اور ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بیرونی ملک اکاؤنٹ میں موجود رقم کا صرف 20 فیصد پاکستان میں لے آئیں، (کچھ سال پہلے نیویارک ٹائمز نے امریکہ میں اکاؤنٹ رکھنے والے پاکستانی سیاستدانوں کی طویل فہرست شائع کی تھی۔
7۔ پاکستان کے سفارت خانوں کے بجٹ اور عملے میں 25 فیصد کی کٹوتی کی جائے۔
8۔ بلٹ پروف گاڑیوں کی درآمد بند کی جائے اور تمام اعلیٰ افسروں اور حکام کی پرتعیش گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
9۔ تمام سرکاری ڈنر منسوخ کئے جائیں، اور دنیا پر اپنی مالی مشکلات واضح کرنے میں کوئی شرم محسوس نہ کی جائے، چائے کافی اور سنیکس سے تواضح کی جائے، ہمارے سرکاری ڈنر ایسے نہیں ہونے چاہئیں جن سے یہ لگے کہ ہم دنیا کا امیر ترین ملک ہیں۔
10۔ امریکہ سے کہا جائے کہ ہم آپ کے دوست ہیں اور دوست رہیں گے ہم آپ سے امداد لیں گے تو آپ کے خزانے پر بوجھ پڑے گا۔
آپ بھی ہمارے ساتھ دوست بن کر رہیں، ایک دوست دوسرے دوست کی جو مدد کرسکتا ہے اس کے لئے ہم تیار ہیں۔
آخر میں ایک نکتہ جو مجھے ایک بھکاری نے سمجھایا، میں نے اس کو 500 روپے کی پیشکش کی اور کہا کہ اس رقم سے ایک چنے کی چھابڑی لگائے اور ہر لمحے مجھے بتائے کہ کتنے پیسے کمائے؟، کتنے خرچ کئے؟ اور کتنے بچائے۔؟
بھاری نے 500 کا نوٹ واپس کرتے ہوئے کہا
”بابا! ہم بھکاری نہیں غلام نہیں ہیں۔
بھکاری کا کام ہے پیسہ مانگے اور پھر اپنی مرضی سے خرچ کرے یا بچالے، حساب تو غلام دیا کرتے ہیں بابا !!۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=381590

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha