پاک امریکہ تعلقات کیری لوگر بل کی شدت و حدت برداشت کر لیں گے لیکن آٹھ فروری2008 کے بعد ابھرنے والی پاکستانی جمہوریت شاید اس بل کو نہ سہار سکے۔ یقینا کیری لوگر بل کا ایک اہم مقصد جمہوری اداروں کی مضبوطی بھی ہے لیکن شومئی قسمت سے اس بل کو جس طرح سے ہمارے سفارتی مشیر اور سیاسی گرو اچھال رہے ہیں، اس سے جمہوریت کے تار و پود بکھرنے کے خدشات ابھر رہے ہیں۔ جو کچھ ہو رہا ہے، اسکے غیر ضروری نتائج کے حوالے سے ہمیں ایک بار پھر سوچنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک قصر صدارت اور جنرل ہیڈ کوارٹرز کے مابین تناؤ کی بنیادی وجہ کا تعلق ہے تو کیری لوگر بل کو اسکی واحد یا بنیادی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ طاقت و اختیار کے ان دو اہم مراکز کے مابین عدم اعتماد، تناؤ اور تنازعے کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کیری لوگر بل کی وجہ سے یہ عدم اعتماد ابھر کر سامنے آیا ہے۔ وہ جو ظاہری رکھ رکھاؤ اور وقار کا پردہ تھا، وہ بھی گر چکا ہے اور اگر یہ سچ ہے تو کچھ ایسی رپورٹس بھی منظر عام پر آئی ہیں کہ گذشتہ روز جب وزیر داخلہ رحمان ملک پھولوں کا گلدستہ لئے جی ایچ کیو پہنچے تو انکا استقبال خاصے روکھے انداز سے کیا گیا (واضح رہے کہ موصوف جی ایچ کیو حملے کے ہلاک شدگان کے لئے پھولوں کا گلدستہ لے کر گئے تھے)یہ خاصی جذبات انگیز صورتحال ہے اور شاید ہم اس موقع پر اس صورتحال کے لئے تیار بھی نہیں ہیں کیونکہ پاکستان طالبان کے خلاف جنگ میٰں مصروف ہے اور یہ موقع اس قسم کے یکطرفہ فیصلے کرنے کا نہیں ہے (اس یکطرفہ فیصلے کی اصطلاح کو آپ یکطرفہ مہم جوئی بھی کہہ سکتے ہیں۔) لیکن آثار و قرائن کچھ ذیادہ حوصلہ افزا نہیں، اسلام آباد کی فضا خاصی مکدر نظر آرہی ہے۔ اور اہم شخصیات کے چہروں پر معمول سے زیادہ سنجیدگی طاری ہے۔
خیالی پلاؤ پکانے میں ماہر وزیر خارجہ نے سینٹر کیری کے ساتھ ایک مشترکہ وضاحتی بیان بھی جاری کیا ہے لیکن اس وضاحتی بیان سے بھی کوئی بھلا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ یہ مشترکہ بیان بل کی مختلف شقوں کی وضاحت ہے اور اسکی قانونی حیثیت بیس روپے مالیت کے اس سٹامپ پیپر سے بھی کم ہے جو اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ سے جاری کیا گیا ہو۔
آخر ہمارے وزیر خارجہ اپنے امریکی مکالمہ کاروں سے اس قدر خوفزدہ کیوں ہیں؟ جب کیری لوگر بل پہلی مرتبہ منظر عام پر آیا تو ہمارے وزیر خارجہ نے اسے ایک تاریخی کامیابی قرار دیا۔ کاش کہ وہ اس وقت اسلام آباد میں درجہ حرارت میں اضافے کو نوٹ کر لیتے تو انہیں اس وقت خفت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ اور اب ایک مرتبہ پھر وہ مشترکہ وضاحتی بیان کو ”تاریخی“ قرار دے رہے ہیں۔ اسرائیل بھی امریکہ کا قریبی حلیف ہے لیکن ہماری آنکھوں نے کبھی یہ منظر نہیں دیکھا کہ کسی اسرائیلی اہلکار نے واشنگٹن میں اس قسم کے روئیے کا مظاہرہ کیا ہو ۔ٹھیک ہے ، ہم نے اس مسئلے کا معقول اور قابل عزت حل ڈھونڈنے کی کوشش میں اور جی ایچ کیو کے تمام عناصر کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے یہ کہہ دیا کہ کیری لوگر بل کے حوالے سے جاری شدہ مشترکہ وضاحتی بیان سے معاملہ صاف ہو گیا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ جی ایچ کیو کا موڈ اس وضاحتی بیان سے تبدیل ہوتا نظر نہیں آرہا اور اگر ہم اپنے ان صحافی دوستوں کی بات کا اعتبار کریں جو آرمی کے زیادہ قریب ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ صورتحال واقعی کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ فوج حب الوطنی کے جذبات کے تحت کچھ زیادہ ہی جوش و خروش میں ہے اور یہ وقت ہنسی ٹھٹھول کا ہرگز نہیں۔
بہرحال یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ صورتحال خاصی گھمبیر ہے اور اگر مقتدر سیاسی حلقے نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو مزید ابتری کا امکان اپنی جگہ موجود ہے۔ ہماری طرف سے تعلقات کے اس کھیل میں دو شخصیات اہم ہیں ایک تو واشنگٹن میں موجود ہمارے اہلکار اور دوسرے ہمارے دوست اور وزیر داخلہ رحمان ملک۔ ان دونوں شخصیات کی وجہ سے ہی فوج کے دماغ میں شکوک و شبہات اور غصے کے جذبات بھڑکتے ہیں۔
اور یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آخر ہماری جغرافیائی نہیں بلکہ نظریاتی سرحدوں کے محافظوں کو امریکہ کے ساتھ تعلقات کیوں کھٹک رہے ہیں؟ آرمی سے قربت کا دعویٰ کرنے والے میڈیا کی شخصیات کا کہنا ہے کہ فوج کی ہائی کمان کو سب سے بڑھکر دو امور کے حوالے سے تشویش لاحق ہے، ایک تو یہ کہ سی آئی اے پاکستان میں اپنے اثر و نفو ذمیں اضافہ کر رہی ہے اور لاتعداد امریکی پاکستان میں آرہے ہیں جبکہ ان امریکیوں کی سرگرمیوں کے متعلق پاکستانیوں کو کوئی واضح آئیڈیا نہیں ہے جبکہ دوسری طرف فوج کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ یہ صورتحال پاکستان کے ایٹمی پروگرام کیلئے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔سو کیری لوگر بل کے حوالے سے فوج کو اصل اعتراض یہ نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے ہماری عزت نفس، قومی وقار اور خودمختاری کو دھچکا لگا ہے بلکہ اصل اعتراض یہ ہے کہ کیری لوگر بل کی وجہ سے سی آئی اے کو پاکستان میں قدم رنجہ فرمانے اور جمانے کا موقع مل جائیگا اور اسکے نتیجے میں ہمارے ایٹمی اثاثے خطرات کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اب اس سے بڑھکر طنز و تفنن بھلا کیا ہو؟ دنیا اس غم میں دبلی ہوئی جا رہی ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار کہیں طالبان کے ہاتھ نہ لگ جائیں اور پاکستانی فوج یہ سوچ رہی ہے کہ اگر پاکستان کے نیوکلئییر ہتھیاروں کو کہیں سے کوئی خطرہ ہے تو وہ بنیادی طور پر امریکہ ہے۔
فوج کے دل میں شک و شبہے کی ایک اور ہلکی سی لہر بھی ہے۔ اس سے قبل امریکہ کی طرف سے جتنے بھی امدادی پروگرام دئیے گئے وہ فوجی حکومتوں کی ملکیت تھے، خواہ وہ ایوب کے دور میں ہوں، ضیاء کے یا مشرف کے دور حکومت میں۔ لیکن موجودہ پروگرام کا زیادہ حصہ سویلین کیموفلاج کی صورت میں نظر آرہا ہے اور فوج کو سویلینز پر کوئی اعتبار نہیں۔یاد رہے کہ یہ مشرف تھے، جنہوں نے پاکستان میں امریکی مداخلت کی راہیں ہموار کیں۔ انہوں نے امریکیوں کو جو جو مراعات عنایت فرمائیں، انکی داستانیں تو انکے جانے کے بعد کھل کر سامنے آرہی ہیں۔ انہی عنایات میں سے ایک ادنیٰ عنایت یہ ہے کہ امریکی ہمارے ہوائی اڈوں پر بغیر کسی روک ٹوک اور چیکنگ کے داخل ہو سکتے ہیں۔ اور جہاں تک اسلام آباد میں موجود سی آئی اے سنٹر کا تعلق ہے تو وہ دنیا کے بڑے اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ ہمارے خیال میں سی آئی اے سنٹر کی عمارت میں مشرف کا مجسمہ نصب کر دیا جائے تو بہتر ہوگا کیونکہ اپنے عظیم ترین محسن کو خراج عقیدت پیش کرنے کا اس سے بہتر طریقہ بھلا اور کیا ہو سکتا ہے۔اب لامحالہ ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ فوج نے کیسے اور کیونکر مشرف کو ساڑھے آٹھ سال تک برداشت کیا جبکہ صرف ڈیڑھ سال میں ہی زرداری کے حوالے سے فوج کا پیمانہ لبریز ہوتا نظر آ رہا ہے۔ یقینا جی ایچ کیو میں ماپنے کے پیمانے مختلف ہیں، بات جب قومی سلامتی کی ہو اور اقتدارفوجی ڈکٹیٹر کے پاس ہو تو صورتحال کو کسی اور نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن جب جمہوری حکومت کی باری آتی ہے تو یہ موت کا کنواں بن جاتا ہے۔ اور اس مرتبہ فوج کے شکوک و شبہات کو کیری لوگر بل نے زیادہ ہوا دی ہے۔ سینٹر کیری کو تاریخ اور کسی صورت یاد رکھے یا نہ رکھے لیکن یہ ضرور ہے کہ انہیں پاکستان میں جمہوریت کے خاتمے کے حوالے سے ضرور یاد رکھا جائیگا۔ سرزمین پاکستان تو ہمیشہ سے سازشوں اور قنوطیت کا گڑھ ہے لیکن اب اس میں طنز و تفنن کا بھی اضافہ ہو گیا ہے۔
کیا فوج کو سیاسی معاملات میں دخل اندازی کا حق حاصل ہے ؟ یقینا نہیں۔ سیاست اور حکومت سے فوج کو کوئی علاقہ نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن یہ تو جناب خالی خولی زبانی جمع خرچ اور آئینی گورکھ دھندے ہیں۔ بھلا ان کا کون خیال رکھتا ہے۔ اگر بات آئین ہی کی کرتے ہیں تو ضیاء کے جرنیلوں کے لئے آئین کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔
اس میں کلام نہیں کہ زرداری ایک منتخب صدر ہیں لیکن انکی کارکردگی یا دوسرے لفظوں میں انکی نااہلی کی وجہ سے جمہوریت کا خاتمہ قریب نظر آرہا ہے۔ اگر زرداری کو اپنی اور پاکستان میں جمہوریت کی بقا کی فکر ہے تو انہیں کچھ اہم سیاسی فیصلے کرنے ہونگے اور کچھ افراد کی قربانی دینی ہوگی۔
ہمیں معلوم ہے کہ یہ کوئی نیک شگون نہیں ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ آٹھ فروری کے انتخابات کے بعد ہم نے اپنے دلوں کو مطمئن کر دیا تھا کہ اب بس جمہوریت کا بول بالا ہو گا اور فوج کی طرف سے کوئی مداخلت نہیں ہوگی لیکن یہ دلاسہ فریب ثابت ہوا اور ہم پر یہ تلخ حقیقت کھلی کہ فوج اب بھی مداخلت کے بہانے تلاش رہی ہے۔ پاکستان میں قنوطیت و مایوسی اپنی انتہا پر ہے۔دوسری طرف دہشتگردی کے تازہ ترین واقعات نے بھی پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جی ایچ کیو پردن دھاڑے حملہ اور اسکے ساتھ ہی لاہور میں مختلف مقامات پر پولیس پر ہونے والے حملوں نے خاصی دہشت پھیلا دی ہے۔ ان حملوں کو جواز بنا کر سویلین نظام حکومت کا بوریا بسترا گول کیا جا سکتا ہے اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ طالبان کے خلاف ایک ”متحدہ کمان“ کے تحت جنگ لڑی جائیگی۔ لیکن یاد رہے کہ ہم نے مشرف دور میں بھی متحدہ کمان کے تحت طالبان کے خلاف جنگ لڑی اور دیکھ لیں کہ ہم آج کہاں کھڑے ہیں۔
بہرحال گھوڑے اصطبل سے نکل چکے ہیں اور بقول غالب نے ہاتھ زین پر ہے نہ پا ہے رکاب میں۔ اور اب بیچارے غالب کو بھی معلوم نہیں کہ یہ بدکتے گھوڑے کہاں جا کر دم لیں گے۔
Recent Comments