| اعلیٰ سے ادنیٰ تک…تعلیم یافتہ سے جاہل تک …متمول سے مفلس تک …ڈرائنگ روم سے تھڑے تک اور چھوٹے سے لے کر بڑے تک مدتوں سے سنتے آرہے ہیں کہ ہماری قیادتیں کرپٹ ہوتی ہیں۔ ہمارے سیاسی حکمرانوں سے لے کر غیر سیاسی حکمرانوں تک ہر کسی کے درمیان کوئی اکلوتی قدر مشترک ہے تو کرپشن جس کے واٹر پروف حمام میں سب ننگے ہیں اور ان کی عریانی اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ گو انگلیاں مختلف سائز کی ہوتی ہیں لیکن” کھاتے“ وقت سب ایک جیسی ہوجاتی ہیں۔ مختصراً یہ کہ ہماری 62سالہ تاریخ میں اگر کسی بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے تو صرف حکمرانوں کی کرپشن پر۔ یہ وہ واحد ایشو ہے جس پر ذات، زبان، علاقے، فرقے وغیرہ سے ماورا ہو کر پوری قوم متفق ہے کہ کرپشن کے حوالہ سے نہلے پر دہلے اس کی گردن پر سوار رہے اور ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑھ کر کرپٹ تھا اور اگر چند دانے مالی حوالہ سے کرپٹ نہیں تھے تو دیگرحوالوں سے کرپٹ ترین تھے، کیونکہ ہوس زر ہی نہیں ہوس اقتدار بھی کرپشن ہے۔ مثلاً غلام اسحق خان مالی طور پر مسٹر کلین تھے بھی تو سیاسی طور پر” مسٹر ڈرٹی“ ہی کہلوائیں گے کہ جو شخص جعلی” آئی جے آئی“ بنوانے اور سیاستدانوں میں بھاری رقومات بانٹنے میں ملوث رہا ہو وہ صاف ستھرا کیسے ہوسکتا ہے؟ میں تو اسے مالی طور پر بھی کلین اس لئے نہیں سمجھتا کہ کروڑوں روپے جو سیاستدانوں میں تقسیم ہوا وہ آیا کہاں سے؟ اور جنہوں نے اتنے بھاری فنڈز مہیاکئے کیا وہ ویلفیئر کاکام کررہے تھے؟ ایدھی کو” بھیک“ دے رہے تھے یا عمران کے کینسر ہسپتال کے لئے چندہ پیش کررہے تھے؟ اور پھر ان لوگوں نے اس کے عوض کون سی مراعات حاصل کرکے کتنے منافع سمیت اپنا اصل زر وصول کیا؟؟؟ مختصراً یہ کہ بالواسطہ یا بلاواسطہ ہر کوئی کرپٹ اور جہاں تک تعلق ہے دیگر قسم کی بد کرداریوں تو اس میں بھی ہر کسی کا اپنا اپنا ریکارڈ ہے…بھٹو کی خوشامد پسندی اور انا ہو یا ضیاء الحق کی احسان فراموشی اور منافقانہ انکسار، یحییٰ خان کے مشاغل ہوں یا غلام محمد کی مغلظات اور ہمارا ایک حکمران تو ایسا خوش خوراک تھا کہ کھانے کے بعد قے کرتا… پھر کھاتا، پھر قے کرتا…عرض کرنے کا مقصد یہ کہ ہر نام نہاد رہنما…چلتی پھرتی طلسم ہوشرباسے کم نہیں…شروع کے چند بزرگ چھوڑ کر ایک بھی ایسا نہیں… جسے سینہ ٹھوک کر باکردار کہا جاسکے کہ باکردار کے لئے بااصول ہونا پہلی شرط ہے …ایک بھی ایسا نہیں جسے قوم کے سامنے رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ قیادتوں کی بدکرداری یا یوں کہہ لیجئے ” کمزور کرداری“ کے بعد ہم اصل موضوع کی طرف آتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اگر قیادتوں کے کردار کمزور تھے تو قوم کا کردار … مجموعی کردار کیسا ہے؟ہم کب تک خود اپنے ساتھ جھوٹ بولتے رہیں گے؟ اگر قیادتیں کردار کے ضعف کا شکار ہیں تو قوم کہاں پیچھے رہی؟ کبھی خوشامد میں لتھڑے ہوئے وہ بینر، پوسٹر اور دیواری اشتہار دیکھے آپ نے جن میں اوسط سے بھی کم درجے کے لوگوں کے قصیدے بیان کرتے ہوئے ان کی ایسی عظمتوں کو سلام پیش کئے گئے ہوتے ہیں جو ان کو کبھی چھو کر بھی نہ گزری ہوں۔ نہ خوراک خالص نہ دوا اجنیوئن …تین تین سال کی بچیوں کے ساتھ بربریت … مسجدوں تک کے باہر بھی غلاظت کے ڈھیر، چمچہ گیری، حسد، غیبت، ووٹ فروشی، شادیوں، مرگوں پر بھی پیسے اور وقت کی بربادی اور مکروہ ترین رسومات…بے ہنگم ٹریفک …کام چوری …پابندی اوقات کا تصور بھی ناپید … مختصراً یہ کہ اگر قیادتوں کا کردار برا، تو ہم بھی کسی سے کم نہیں |
|
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=380767
Related posts:








Recent Comments