غیرت اور بے غیرتی میں وہی فرق ہے جو شاہین اور کرگس میں ہوتا ہے۔ شاہین ایک خود دار پرندہ ہے اور اپنا شکار ہمیشہ خود کرتا ہے جبکہ کرگس دوسروں کے شکار کی بچی کھچی ہڈیوں اور چیتھروں پر گزارا کرتا ہے۔ علامہ اقبال  نے اپنی قوم کو ہمیشہ شاہین بننے کی ترغیب دی اور اسی لئے سیاست و صحافت کے کرگس اقبال  اور ان کے نظریات سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ کرگس تعداد میں کم ہیں لیکن قوم کی اپنی غلطیوں کے باعث اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستانی عوام کی اکثریت کیری لوگر بل کو مسترد کرچکی ہے تو سیاست و صحافت کے مردار خور کرگس اس بل کے مخالفین کو طالبان اور القاعدہ کا ایجنٹ قرار دے کر خاموش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ 28/ستمبر کو اس کالم میں خاکسار نے کیری لوگر بل کو غلامی کی دستاویز قرار دیتے ہوئے عرض کیا تھا کہ ہماری پارلیمنٹ اس دستاویز کو مسترد کردے۔ اس گستاخی پر وہ کرگس تلملا اٹھے جو پرویز مشرف کے دور میں ہمیں ”ٹی وی ٹیررسٹ“ قرار دیا کرتے تھے اور انہوں نے ایک دفعہ پھر کیری لوگ بل کے مخالفین کو میڈیا میں طالبان اور القاعدہ کے حامی قرار دینا شروع کردیا لیکن ہمیشہ کی طرح کسی ذی شعور اور محب وطن پاکستانی نے ان کرگسوں کی آہ و بکا پر توجہ نہ دی۔ پارلیمینٹ کا اجلاس شروع ہوا تو منتخب ارکان کی اکثریت نے کیری لوگر بل پر تنقید شروع کردی۔ فوجی قیادت کا نکتہ نظر بھی سامنے آگیا۔ قصور سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سردار آصف احمد علی نے کیری لوگر بل کے حق میں ایک زوردار تقریر کی۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی اسے جمہوری حکومت کی ایک کامیابی قرار دیا لیکن جب میڈیا میں کیری لوگر بل کی متنازعہ شقوں پر بحث شروع ہوئی تو خود امریکی حکام نے بھی تسلیم کرنا شروع کردیا کہ کیری لوگ بل میں پاکستان فوج اور اس کے اداروں کے بارے میں قابل اعتراض زبان استعمال کی گئی۔ امریکی حکام کے اعتراف جرم کے بعد صدر اور وزیر اعظم کے پاس کیری لوگ بل کی متنازعہ شقوں کو مسترد کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔ عین اسی دن جب اسلام آباد میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلاین اور ان کی کابینہ کے کچھ وزیروں نے کیری لوگر بل کے باعث ایوان صدر اور فوجی قیادت میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے ایک مربوط کوشش شروع کی تو پشاور کے خیبر بازار میں بم دھماکہ ہوگیا۔ اس کے باوجود وزیر اعظم نے اپنی مشاورت جاری رکھی اور وزراء سے کہا کہ وہ ایوان صدر جا کر آصف علی زرداری کو بتائیں کہ ملک اندرونی حلفشار کا متحمل نہیں ہوسکتا اس لئے کیری لوگر بل پر فوجی قیادت کے تحفظات دور کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف ایک وزیر صاحب فوجی قیادت کے تحفظات کو خاطر میں لانے پر آمادہ نہ تھے تاہم ڈاکٹر بابر اعوان، نوید قمر، خورشید شاہ، نذر محمد گوندل اور کسی حد تک شاہ محمود قریشی نے مفاہمت کی ضرورت سے اتفاق کیا۔ وزیر اعظم کو یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ جن صاحبان کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہوئے ہیں ان دو تین صاحبان کو منظر سے غائب کردیا جائے۔ اس شام وزراء کا یہ گروپ ایوان صدر پہنچا اور انہوں نے آصف علی زرداری کو مشورہ دیا کہ وہ غلط فہمیوں کی آگ پر پانی ڈالنے کی کوشش کریں۔ ایک طرف تو اس اجلاس میں فوج کے ساتھ معاملات بہتر بنانے پر غور ہو رہا تھا اور دوسری طرف ایک صاحب نے مشورہ دیا کہ جیو ٹی وی کو سبق سکھایا جائے۔ وزراء کی اکثریت نے مشورہ دینے والے سے اتفاق نہیں کیا تاہم صدر صاحب خاموش رہے۔ اجلاس میں طے ہوگیا کہ ہفتے کی سہ پہر صدر، وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان ملاقات ہوگی جس میں تمام غلط فہمیاں دور کردی جائیں گی۔ اگلے دن اجلاس سے کچھ ہی دیر پہلے راولپنڈی میں جی ایچ کیو پر حملہ ہوگیا۔
جی ایچ کیو پر حملے نے کیری لوگر بل کے حامیوں کو ایک نیا موقع فراہم کیا۔ ان کرگسوں نے اپنی شکست کو فتح میں بدلنے کی ایک نئی کوشش شروع کی اور فوج کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانے کا سلسلہ شروع کردیا ۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے انگریزی اخبار کے ایڈیٹر صاحب نے فرمایا کہ دراصل پاکستانی آرمی جنوبی وزیرستان میں آپریشن نہیں کرنا چاہتی اور اس لئے فوجی قیادت نے کیری لوگر بل کے ذریعہ امریکا کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی اور جی ایچ کیو پر حملہ بھی کسی ایسے ہی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ فوجی جنوبی وزیرستان میں آپریشن سے باز رہیں۔ ایسے حالات میں جب فوجی جوان جی ایچ کیو میں گھسنے والے حملہ آوروں سے نبردآزما تھے اس قسم کے تبصرے دشمن کی پیٹھ تھپکنے کے مترادف تھے۔ خیال تھا کہ اس حملے کے باعث فو جی قیادت شدید دباؤ میں ہوگی اور ایوان صدر میں طے پانے والا اجلاس ملتوی ہوجائے گا لیکن انتہائی غیر معمولی حالات کے باوجود فوجی قیادت مقررہ وقت پر ایوان صدر پہنچ گئی۔ یہ اجلاس اختتام کو پہنچا تو اسلام آباد میں موجود اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ نے سکھ کا سانس لیا لیکن یہ کہنا غلط ہوگا کہ اس ایک اجلاس سے سب کچھ ٹھیک ہوگیا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے کیری لوگر بل کی متنازعہ شقوں کو مسترد کئے جانے کے باوجود آنے والے دنوں میں مختلف اداروں کے درمیان محاذ آرائی پیدا ہونے کا خدشہ موجود رہے گا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پرویز مشرف کے دور میں امریکا نے پاکستان میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے جو نیٹ ورک بنانا شروع کیا تھا اس کی تکمیل کیلئے پچھلے چند ماہ کے دوران تیزی سے کچھ مراحل طے کئے گئے ہیں۔ مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ امریکی پالیسی ساز ہمیں دوست نہیں بلکہ غلام بنانا چاہتے ہیں اور ان کا اصل ہدف پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے۔ وہ لوگ جو اسلام آباد میں امریکیوں کی پراسرار سرگرمیوں سے انکاری ہیں وہ یا تو بہت بھولے ہیں یا پھر ان کی آنکھوں پر ڈالروں کی پٹیاں باندھ دی گئی ہیں۔ امریکی خفیہ اداروں اور پاکستانی خفیہ اداروں کے درمیان سرد جنگ خطرناک حدود کو چھو رہی ہے۔ تھوڑے کو لکھا بہت سمجھیں۔ اطلاعات یہ ہیں کہ امریکیوں نے صرف اسلام آباد اور پشاور نہیں بلکہ کراچی میں بھی خفیہ مرکز بنانے کا کام تیز کر رکھا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ امریکی خفیہ اداروں کے اہلکار سیاحت کے ویزے پر پاکستان آتے ہیں اور پھر ہمارے اعلیٰ حکام کی ملی بھگت سے ٹورسٹ ویزے کو ورکنگ ویزے میں تبدیل کروا کر اپنا اصل کام شروع کردیتے ہیں۔ شکر ہے کہ ہمارے صاحبان اختیار میں سب کے سب امریکیوں کے سامنے سجدہ ریز ہونے کو تیار نہیں۔
ہفتہ کی شام اسلام آباد میں امریکی سفیر نے اپنی رہائش گاہ پر نینسی پاؤل کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دے رکھا تھا جس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان بھی مدعو تھے۔ وہ مقررہ وقت پر امریکی سفارتخانے پہنچے تو انہیں سفارتخانے کے باہر ناکے پر روک کر کہا گیا کہ آپ کی گاڑی اندر نہیں جاسکتی آپ باہر اتر کر پیدل اندر جائیں۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے سیکورٹی والوں کو بتایا کہ ان کی گاڑیوں پر پاکستان کا قومی پرچم لہرا رہا ہے اور اگر قومی پرچم والی گاڑی اندر نہیں جائے گی تو وہ بھی اندر جانے کیلئے بے تاب نہیں۔ سیکورٹی پر مامور گورے نے وائرلیس پر اندر والوں کو بتایا کہ آپ نے غلطی سے کرگسوں کی جگہ کسی شاہین کو بلا لیا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ بولتا ڈاکٹر بابر اعوان نے ڈرائیور سے کہا کہ گاڑی موڑو اور واپس چلو۔ ان کی واپسی دراصل ہم سب کی اپنی خودداری اور قومی غیرت کی طرف واپسی ہے۔ غیرت اور بے غیرتی میں بہت معمولی فرق ہے۔ امریکیوں کو ایک غیرت مند قوم کے ساتھ دوستی کرنی ہے تو سو بسم اللہ لیکن اگر وہ ہمیں بے غیرت ثابت کرنے پر تلے بیٹھے ہیں تو پھر خدا حافظ۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=379877

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha