ہم بچپن سے ہی سنتے اور پڑھتے آرہے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ یہ ایک زرعی ملک ہے بصورت دیگر ہم لوگ سیاستدانوں کی بے اعتدالیوں ، بیورو کریسی کی حماقتوں اور فوجی ڈکٹیٹروں کی نا اہلیوں کے سبب بھوکے مر گئے ہو تے۔ تاہم ہوش سنبھالنے اور معاملات کو بچشم خود دیکھنے کے بعد پتہ چلا ہے کہ یہ ملک1947ء کے بعد اگر زرعی ہے تو اس میں کسی کی سمجھداری ، منصوبہ بندی یا کاریگری کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اپنی قدرتی زرخیزی ، سارا سال بہنے والے دریاؤں سے ملنے والے پانی اور دیگر جغرافیائی عوامل کی وجہ سے یہ خطہ گزشتہ ہزار سالوں سے اپنی زرعی اہمیت کے باعث خوشحالی کا سمبل چلا آرہا ہے لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ گزشتہ ایک عرصے سے حکومت کی زراعت دشمن پالیسیوں، ورلڈ بنک وغیرہ کی جانب سے نافذ کروائی جانے والی کسان دشمن شرائط، زرعی سائنسدانوں اور اداروں کی بد نیتیوں اور مجموعی طور پر زراعت کی اہمیت سے لاپروا بیوروکریسی نے اس ملک کی زراعت کو تباہ وبرباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
باقی معاملات کو چھوڑیں صرف چاول کے معاملے کو دیکھیں اور زیادہ دور نہ جائیں صرف پچھلے سال سے شروع کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ملک میں چاول کی مجموعی پیداوار گزشتہ سے پیوستہ سال کی پیداوار (5.7 ملین ٹن) سے بارہ فیصد زائد تھی اور یہ حکومتی اندازوں سے کہیں زیادہ تھی ۔ تریسٹھ لاکھ ٹن کی حاصل کردہ پیداوار پاکستان کی تاریخ کی ریکارڈ پیداوار تھی۔ گلوبل ایگری کلچر انفارمیشن نیٹ ورک (GAIN) کے جائزے کے مطابق 2007-2008ء میں پاکستان بیالیس لاکھ ٹن کی چاول ایکسپورٹ کرکے امریکہ کی جگہ پر دنیا کے تیسرے بڑے چاول برآمد کنندہ کے طورپر سامنے آیا تھا اور سال 2008-2009ء میں یہ دوسرے بڑے برآمد کنندہ کے طورپر متوقع تھا۔ حکومت نے چاول کے کاشتکار کی مالی سپورٹ کے لئے چاول خریدنے کی پالیسی کا اعلان کیا اور اس کے تحت ملوں کو پابند کیا کہ وہ سپر باسمتی چاول کی فصل پندرہ سو روپے فی من، باسمتی قسم385 کو بارہ سو پچاس روپے فی من اور اری چھ ورائٹی آٹھ سو روپے فی من کے حساب سے خریدیں۔ حکومت نے اپنی اعلان کردہ امدادی قیمت خرید کے تحت خرید کردہ دھان کو چاول کی صورت میں ملوں سے واپس خریدنے کے لئے بھی قیمتوں کا اعلان کیا اور سپر باسمتی کو تین ہزارروپے فی من خرید نے کے لئے ملوں سے باقاعدہ تحریری معاہدے کئے۔ اس سارے معاہدے میں دھان کی خریداری سے لیکر واپس چاول کی خریداری تک کی ساری ذمہ داری پاسکو( پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن لمیٹڈ) کے سپرد کی گئی ۔ پاسکو نے پاکستان کی چاول کی کل پیداوار جو تریسٹھ لاکھ ٹن تھی میں سے صرف تین لاکھ ٹن چاول خریدنا تھا جو کل پیداوار کا تقریباً پونے پانچ فیصد تھا۔ تاہم اس سارے سودے کی مالیت پندرہ ارب روپے سے زائد بنتی تھی۔ اتنی بڑی رقم کو دیکھ کر سرکاری محکمہ کے افسران کی باچھیں کھل گئیں اور وہ اس میں سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔
اس معاہدے کے چند بنیادی نکات میں پاسکو افسران ،وزارت زراعت کے افسران کی ملی بھگت سے ہر دوسرے روز تبدیلیاں کرتے رہے تاکہ ملوں سے زیادہ سے زیادہ کمیشن کھرا کیا جاسکے۔ معاہدے میں پہلے یہ تھا کہ پنجاب کی ملوں میں دھان کی چھڑائی تیس جون تک چلے گی ۔ پھر یہ تاریخ تبدیل کرکے تیس اپریل کر دی گئی اور پھر آخر کار پندرہ مارچ کر دی گئی تاہم سندھ میں جہاں فصل پنجاب سے کہیں پہلے اترتی ہے نہ تو تاریخ تبدیل کی گئی اور نہ ہی پنجاب کی مانند کوئی کوالٹی ڈسکاؤنٹ کی شرط عائد کی گئی بلکہ یہ کہا گیا کہ اگر کسی کی فصل خراب بھی ہو گئی ہو تو وہ پاسکو کو فروخت کر دے۔ تاہم پنجاب میں خریداری کے وقت دوسری اقسام کی ملاوٹ، ٹوٹے چاول کی مقدار اور رنگ وغیرہ کی بنیاد پر کٹوتیاں کی گئیں ۔ اس سے معاہدے کی تکمیل کی غرض سے پاسکو نے ملوں سے معاہدے کرتے وقت ملوں کی کارکردگی یا معیار کا کوئی خیال نہ رکھا اور بعض کیسوں میں محض مخصوص لوگوں کو نوازنے کے لئے بلا تخصیص وتحقیق ملیں رجسٹرڈ کرلیں۔ سیزن کے دوران منڈی میں سپرباسمتی کے دھان کا ریٹ نو سو روپے سے ایک ہزار روپے تک اور چاول کا ریٹ دوہزار سے اکیس سوروپے فی من تھا جبکہ پاسکو نے یہ چاول تین ہزارروپے فی من کے حساب سے خریدا۔ اس سلسلے میں سب سے مزیدار بات یہ تھی کہ کئی ملوں نے سرے سے نہ تو دھان ہی خریدا اور نہ ہی اس کی چھڑائی کی بلکہ مارکیٹ سے دو ہزار روپے میں چاول خرید کر پاسکو کوتین ہزار روپے پر بیچ دیا اور نفع آپس میں تقسیم کر لیا۔ وزیر زراعت کے ضلع منڈی بہاؤ الدین میں ایسی کئی ملوں کو پاسکو کی ویجیلنس ٹیم نے پکڑا اور کہیں بنائے اس پر پاسکو کا زونل منیجر معطل بھی ہوا مگر بعدازاں یہ معاملہ حسب معمول رفع دفع ہو گیا۔
دھان کی خریداری کی آخری تاریخ اکتیس جنوری 2009ء تھی ۔جن ملوں نے پاسکو سے تعاون نہ کیا وہاں پر جنرل منیجر پیڈی ، جنرل منیجر کمرشل، جنرل منیجر پروکیور منٹ حتیٰ کہ حاضر سروس جنرل ایم ڈی پاسکو نے دورے کئے اور کسانوں کو اپنے موبائل نمبر دےئے تاکہ شکایت کی صورت میں ان سے فوری رابطہ ہو سکے لیکن تعاون کرنے والی ملوں کو کھل کھیلنے کی اجازت دے دی گئی اور اسی دوران زورآوروں کی فصل زبردستی ملوں سے پندرہ سو روپے فی من خرید کروائی گئی ۔
ملتان میں ایک وفاقی وزیر کے بھائی نے اور اسلام آباد میں تعینات ایک پولیس افسر نے اپنی فصل اسی طرح زور زبردستی سے ملوں کو بیچی۔
اسی دوران جب کہ تمام ملز اپنی خریداری پندرہ سو روپے فی من کے حساب سے مکمل کر چکی تھیں۔ مورخہ 26 فروری کو ایک نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا جس کے تحت اس نوٹیفکیشن کے جاری ہونے سے بھی سات دن پہلے سے یعنی مورخہ 19فروری 2009ء اور اس کے بعد سے دی جانے والی چاول کی ساری سپلائی کے لئے ریٹ کم کرکے تین ہزار روپے سے چھبیس سو روپے فی من کر دیا۔ تاہم اس نئے حکم کا اطلاق بھی صرف پنجاب پر کیا گیا اور سندھ میں ریٹ میں کمی نہ کی گئی۔ دوران سیزن پاسکو نے ہر مل سے سو کلو کی بوری پر دو کلو چاول فالتو لیا جس کی قیمت تقریباً ایک سو پچاس روپے فی بوری بنتی تھی تاہم بعض ملوں سے تین کلو تک زائد لیا گیا۔ اس طرح پاسکو نے ملوں سے خرید کی جانے والی کل تیس لاکھ بوریوں پر ساٹھ لاکھ کلو گرام یعنی ساٹھ ہزار بوریوں کے برابر فالتو چاول لیا جس کی مالیت تقریباً پینتالیس کروڑ سے زائد بنتی ہے۔ اسی دوران پاسکو کے افسران نے کوالٹی وغیرہ کو بنیاد بنا کر ملوں سے چالیس روپے من سے لیکر ساٹھ روپے من تک کمیشن لیا جس کی کل رقم بھی تقریباً چالیس کروڑ روپے بنتی ہے اپنی جیبوں میں ڈال لی۔ تیسری ڈکیتی یہ کی گئی کہ ملوں کی جانب سے ساری سپلائی بمطابق معاہدہ پندرہ مارچ کو ختم ہو گئی۔ اس ساری سپلائی کی ٹرانسپورٹیشن خرچہ ملوں نے برداشت کیا جبکہ بمطابق معاہدہ پاسکو نے کیرج کا خرچہ بمطابق فاصلہ ادا کرنا تھا۔ معاہدے کے تحت لوڈنگ اور ان لوڈنگ بھی بہ ذمہ پاسکو تھی تاہم پاسکو نے اپنے گوداموں پر چاول ان لوڈ کرنے کا خرچہ بھی ملوں سے ادا کروایا اور کہا کہ اس کی ادائیگی ان کو یکمشت مع دیگر اخراجات کر دی جائے گی۔ لوڈنگ ، ان لوڈنگ اور کیرج کا خرچ اوسطاً فی بوری پچیس روپے کے قریب بنتا تھا اور یہ کل خرچہ تقریباً سات کروڑ روپے سے زائد بنتا تھا جس کی ادائیگی پاسکو نے ملز کو کرنی تھی مگر ہوا یہ کہ پاسکو نے سپلائی ختم ہونے کے بعد ایک نام نہاد کیرج کنٹریکٹر بنایا جس کا نہ تو کوئی معاہدے میں ذکر تھا اور نہ ہی اس کا سپلائی کے دوران کوئی حقیقی وجود تھا اور پاسکو نے کیرج کی ادائیگی ملوں کے بجائے اسی غائبانہ ٹھیکیدار کو کر دی اور اس طرح سات کروڑ روپے سے زائد رقم باہمی بندر بانٹ کرکے ملوں کو ٹھینگا دکھا دیا گیا۔
ریٹ کم کرنے کے معاملے پر ملوں نے شور مچایا تو ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی جس میں رائس کمشنر کے علاوہ زیادہ تر وہی سرکاری افسران شامل ہیں جو اس سارے قضیے ، فساد، لوٹ مار اور دھونس دھاندلی کے ذمہ دار تھے۔ اس سارے سودے میں اصل بات یہ ہوئی کہ بعض ملوں نے دوہزار روپے من کے حساب سے منڈی سے چاول خرید کر پاسکو کی ملی بھگت سے تین ہزار روپے من سپلائی کیا تھا۔ وہ سارا چاول گھٹیا کوالٹی کا تھا اور برآمد کے قابل نہیں تھا۔ اس کو برآمد کرنے کی ہر کوشش ناکام ہو گئی اور یہ سارا چاول ابھی تک پاسکو کے گوداموں میں پڑا ہے۔ ملیں زور زبردستی سے کم کئے گئے چار سو روپے فی من کی وصولی اور کرائے کی ادائیگی کے انتظار سے تنگ آکر بالآخر عدالتوں میں جارہی ہیں۔ ایجنسیوں کی رپورٹ ہے کہ اس سارے معاہدے میں پاسکو کے افسران نے جی بھر کر پیسہ بنایا ہے لیکن سارا معاملہ سردخانے کی نذر ہو رہا ہے۔ پچھلے سیزن کی ادائیگیاں نہیں ہوئیں۔ سارا چاول اسٹوروں میں پڑا ہے۔ نیا سیزن شروع ہونے والا ہے اور پاسکو کے افسران پچھلے سال کے تقریباً پچاس کروڑ روپے ہضم کرنے کے بعد نئے سیزن میں موج میلہ کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ وزیراعظم اپنے لاہور والے نئے گھروں کی تزئین وآرائش میں اور صدر پاکستان بیرون ملکوں کے دوروں کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت میں مصروف ہیں اور ایک زرعی ملک کی زراعت کو برباد کرنے کی کوششوں میں مصروف سرکاری افسران کو نت نئی زراعت کش پالیسیاں بنانے سے فرصت نہیں مل رہی۔ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اپنی اپنی جگہ پر مصروف عمل ہے۔ اوپر سے ظلم یہ ہے کہ اس سال آنے والی چاول کی فصل کا کاشتکار مقدور بھر ذلیل وخوار ہو گا۔
Recent Comments