پچھلے ہفتے ہم نے لکھا تھا کہ زرداری اور نوازشریف اپنی ضد سے باز آجائیں کیونکہ وہ آتش فشاں کے دہانے پر کھڑے ہیں، اس سے آگے بڑھے تو واپسی ممکن نہ ہو گی ۔ہم نے یہ بھی باور کرایا تھا کہ فوج سامنے آنے کی بجائے پس منظر میں رہ کر تبدیلی کیلئے کام کرے گی۔ دونوں لیڈروں کو تنبیہہ کرنا ہمارا فرض تھا، سو ہم نے ادا کیا۔ فوج کے کردار کے بارے میں جو پیش گوئی کی گئی، اس کے بارے میں بھی کوئی ابہام نہ تھا کیونکہ حالات کے آئینے میں صاف نظر آر ہا تھا کہ معاملات کیا کروٹ لے سکتے ہیں۔
پچھلا پورا ہفتہ سیاسی کشاکش اور دوڑ دھوپ میں گزر ا۔ صدر آصف زرداری کے کہنے پر مولانا فضل الرحمن،اسفندیار ولی اور نواب اسلم رئیسانی نے نوازشریف کو پیشکش کی کہ حکومت تمام مسائل کے حل کیلئے جن میں افتخار محمد چوھدری کی بحالی اور 17 ویں ترمیم کی منسوخی بھی شامل ہے آئینی پیکج لانے کیلئے تیار ہے بشرطیکہ وہ لانگ مارچ کا ارادہ ترک کردیں۔ تاہم نوازشریف اس بات پر مصر رہے کہ کسی بھی ڈیل سے پہلے افتخار چوھدری کو بحال کیا جائے‘ دراصل وہ لانگ مارچ کے ذریعے اپنی قوت کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے۔ اس امر نے ’’ ڈبل اے ‘‘ یعنی امریکہ اور آرمی کو خفی انداز میں مداخلت کا موقع فراہم کیا۔ دونوں قوتوں کواندازہ تھا کہ سیاسی تنازعہ بڑھنے سے ان کے مفادات متاثر ہوں گے کیونکہ ریاست اور حکومت کی توجہ پاکستان کو درپیش اقتصادی مسائل اور مشرقی اور مغربی سرحدوں پر صورتحال سے ہٹ جائے گی۔
ڈبل اے کی خفی ڈیل کے سلسلے میں جنرل اشفاق کیانی ‘ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور صدر زرداری کے درمیان بہت سی ہنگامی ملاقاتیں ہوئیں۔امریکی سفیر این پیٹرسن اور برطانوی ہائی کمشنر رابرٹ برنکلے بھی متحرک رہے‘پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک اور وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے بھی دونوں لیڈروں کو فون کئے۔ چوھدری اعتزاز احسن کے ذریعے ڈبل اے نے افتخار چوھدری سے بھی خفیہ رابطے کئے تاکہ اس بات کی ضمانت حاصل کی جائے کہ بحال ہونے کی صورت میں وہ اچھے رویے کا مظاہرہ کریں گے۔ عمران خان اور قاضی حسین احمد جیسے انقلابیوں کو ان سارے معاملات سے پرے رکھا گیا۔
لانگ مارچ سے پہلے ڈیل کو حتمی شکل دینے کیلئے اعتمادسازی کے اقدامات کئے گئے۔ صدر زرداری نے اعلان کیا کہ شریف برادران کی نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل کی جائے گی۔ ڈبل اے نے یہ بھی یقین دلایا کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی بحالی کیلئے دروازے بند نہیں کئے گئے اور پیپلز پارٹی مسلم لیگ(ق) سے اتحادکیلئے چوھدریوں کی طرف نہیں جھکے گی۔ ادھرچوھدریوں کو مشورہ دیا گیا کہ گورنر راج کے خاتمے پرپنجاب میں پیپلزپارٹی‘ مسلم لیگ(ن) اور مسلم لیگ(ق) کی مخلوط حکومت بنانے کی تجویز پیش کریں۔
اس صورتحال کے نتیجے میں جنرل کیانی کی قیادت میں فوج کو تین فائدے ملے۔ فوج کی قومی ادارے کی حیثیت سے ساکھ بحال ہوئی کہ وہ سیاست سے الگ تھلگ ہے اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی بجائے اس کا تحفظ کررہی ہے۔ فوج نے صدر زرداری کے مکمل اختیارات کا ازسر نو تعین کرکے انہیں وزیراعظم ‘ اپوزیشن ‘ سپریم کورٹ اور میڈیا میں تقسیم کیا۔ محاذ آرائی پر آمادہ دو نوں فریقوں کو منتشر کرکے فوج سویلین طاقت پر حاوی رہی اوراس نے تاریخی سول فوجی توازن ایک بار پھر اپنے حق میں کیا۔ آخری لمحے میں فوج نے مداخلت کرکے دوسرے اے یعنی امریکہ کو بھی اس معاملے سے دور رکھا۔ اس وقت ملک میں جو امریکہ مخالف جذبات پائے جاتے ہیں ان کے پیش نظر، یہ بہت اچھی چال تھی۔
تاہم لب تک جام آنے میں ہزاروں لغزشیں ابھی حائل ہیں۔ افتخار چوھدری کی نئے سرے سے تقرری عمل میں نہیں آئی بلکہ وہ بحال ہوئے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ 3 نومبر 2007ء کو صدر پرویز مشرف نے آرمی چیف کی حیثیت سے جو عبوری آئینی حکم جاری کیا اور منی مارشل لاء لگایا اسکی پارلیمنٹ سے توثیق کرانا ضروری ہے۔ بصورت دیگر تب سے جو اقدامات بھی ہوئے ہیں ، غیر قانونی تصور ہوں گے اور ملک ایک نئے آئینی بحران کی دلدل میں پھنس جائے گا۔
تاہم چیف جسٹس کے ترجمان اعتزازاحسن نے اعلان کیا ہے کہ’’ ماضی کے بند باب ‘‘ کے نظریے کے تحت ملک کو انتشار سے بچانے کیلئے 3 نومبر کے بعد کے فیصلوں کی فائلیں نہیں کھولی جائیں گی۔ چوہدری کی بحالی کے فیصلہ سے صدر زرداری کی حکومت غیر مستحکم نہیں ہوگی۔ آرمی چیف کے اقدامات کو آئینی حیثیت ملے گی اورنوازشریف کیلئے راہ ہموار ہوگی کہ 17 ویں ترمیم کے خاتمے کیلئے مذاکرات کریں۔
اگلے چند ہفتے انتہائی اہم ہوں گے۔ ہمیں ایک آئینی ترمیم لانی پڑے گی ، میثاق جمہوریت کے تحت عدلیہ کی تطہیر کو یقینی بنانا ہوگا۔ لیکن یہ کام آسان نہیں۔ نوازشریف کا مطالبہ ہوگا کہ ہر کام ڈنکے کی چوٹ پر کیا جائے جبکہ زرداری کی خواہش ہوگی کہ ان کے اختیارات برقرار رہیں اور اب تک جو نقصان ہوا ہے اس کی تلافی ہو۔ وکلاء تحریک بھی تصوریت اور عینیت پسندوں میں تقسیم ہوسکتی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے دیگر ججوں کے کام کاانداز کیا ہوگا۔ تاہم ایک بات یقینی ہے کہ اگر نوازشریف اور صدر زرداری نے پھر رسہ کشی شروع کی تو اس بار ڈبل اے زیادہ قوت سے مداخلت کریں گے جس کے نتائج صدر آصف زرداری کیلئے سنگین ہوسکتے ہیں!

Source: Daily Jinnah, 21-Mar-09

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha