اگرآپ کبھی بچے رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ بچے رہیں ہوں گے کہ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ کوئی بچہ نہ رہا ہو اور وہ یکدم بڑا ہو جائے تو آپ جانتے ہوں گے کہ جب سکول میں آدھی چھٹی ہوتی ہے تو کیسے بچوں کا ایک سیلاب امڈتا ہوا باہر آتا ہے اور کھانے پینے کے ٹھیلوں کا گھیراو کرلیتا ہے ٹھیلے والوں کی جان پہ بن آتی ہے کہ کیسے سب بچوں کو بھگتا ئیں اور ساتھ میں پیسے بھی وصول کرتے جائیں تو ایسے ہی ایک سکول کے باہر ایک گول گپے بیچنے والا تھا آدھی چھٹی ہوئی تو سکول کے اندر سے بچوں کا ایک ہجوم برآمد ہوا اور کھانے پینے کی اشیاء پر پل پڑا گول گپوں کے ٹھیلے کا بھی گھیراؤ کرلیا کچھ دیر تو خیریت گزری بچے گول گپے حاصل کر کے ان کی قیمت ادا کرتے رہے لیکن پھر رش زیادہ ہوگیا کہ آدھی چھٹی ختم ہونے کو تھی اور بچوں نے گول گپوں پر ہلا بول دیا اور اتنا وقت کہاں کہ جیب میں ہاتھ ڈال کر پیسے برآمد کر کے گول گپوں والے کی ہتھیلی پر رکھے جائیں جس کو جتنے گول گپے ملے اس نے اڑا دئیے لوٹ مار شروع ہو گئی گول گپوں والا کچھ دیر تو احتجاج کرتا رہا شور مچاتا رہا کہ کم بختو پیسے تو ادا کرو اور جب کسی نے اس کی چیخ وپکار پر دھیان نہ دیا تو وہ بہ نفس نفیس ذاتی طور پر اپنے ہی گول گپوں پر پل پڑا اور دونوں ہاتھوں سے انہیں اپنے شکم میں اتارنے لگا اس پر کسی راہگیر نے پوچھا کہ بھئی تم خود ہی اپنے گول گپے کیوں کھائے جارہے ہو تو اس نے اس افراتفری میں جواب دیا کہ میں جتنے بھی پیسے پورے ہو سکتے ہیں پورے کر رہا ہوں منافع تو ہونے سے رہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مجھے یہ خود اپنے ہی گول گپے کھاتے اپنے پیسے پورے کرتے گول گپے والے کا قصہ کیوں یاد آیا جیسے کہتے ہیں کہ آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا ایسے پیپلز پارٹی کے لیڈران کرام کے ان بیانات کی وجہ سے یاد آیا جن میں انہوں نے چیف جسٹس کی بحالی پر خوب ڈفلیاں بجائی ہیں خوشی کا اظہار کیا ہے کہ جناب پیپلز پارٹی نے ایک اور وعدہ پورا کردیا البتہ ان میں سے چند پارٹی ممبر ایسے ہیں جو واقعی اس بحالی پر اس لئے خوش ہوئے ہیں کہ ان کی لیڈرچےئرمین نے چیف جسٹس کے گھر پر ان کا جھنڈا لہرانے کا وعدہ کیا تھا یہ الگ بات کہ جب ٹیلی ویژن پر کچھ لیڈران کو یاددہانی کرائی جاتی تھی تو وہ نہایت ڈھٹائی سے کہتے تھے کہ بے شک ہماری چےئر مین نے چیف جسٹس کے گھر پر دوبارہ جھنڈا لہرانے کا وعدہ کیا تھا لیکن انہوں نے نام تو نہیں لیاتھا کہ کونسے چیف جسٹس کے گھر پر۔ ۔ ۔
تو جناب پیپلز پارٹی کے وہی قائدین جو چیف جسٹس کی بحالی کو قیامت تک ممکن نہ قرار دیتے تھے اب وہی نہایت پر مسرت ہو رہے ہیں اور اس خوشی میں ریلیاں نکال رہے ہیں یعنی منافع تو ہونے سے رہا اپنے گول گپے کھا کر جتنے پیسے پورے ہو سکتے ہیں پورے کررہے ہیں حالانکہ حرام ہے ایک پیسہ بھی پورا ہو رہے بلکہ مجھے تو صدرزرداری کا یہ بیان بے حد پسند آیا ہے کہ اگر عوام اس فیصلے سے خوش ہیں تو میں بھی خوش ہوں انہوں نے کسی منافقت سے کام نہیں لیا اور یہ کہہ دیا ہے کہ بھئی میری تو کچھ مرضی نہ تھی اگر مجبوراً ایسا کرنا پڑگیا ہے اور لوگ خوش ہو گئے ہیں تو میں بھی خوش۔
ادھر نواز شریف نے بھی صدر زرداری کا شکریہ ادا کر کے وسیع القلبی کا ثبوت دیا ہے ۔ ۔ ۔ کیونکہ اگر صدر زرداری اپنے رویے میں لچک پیدا نہ کرتے اڑ جاتے تو آپ ان کا کیا بگاڑ لیتے تمام تر ملکی اور غیر ملکی پریشر اپنی جگہ لیکن اگر زرداری صاحب مقابلے پر اتر آتے تو بے شک تباہی ہوتی لیکن دونوں جانب ہوتی انہوں نے بصیرت کا ثبوت دیا حالات کی نزاکت کا احساس کیا اپنی انا کو آڑے نہ آنے دیا اس لئے میں تو ان کا بھی شکرگزار ہوں اگر عوام اور وکیلوں اور نواز شریف کی فتح ہوئی ہے تو زرداری صاحب بھی فتح مند ہوئے ہیں وہ اگر بھٹو صاحب کی مانند یہ کہتے کہ یہ کرسی بڑی مضبوط ہے اور اڑ جاتے تو انہیں کون روک سکتا تھا بلکہ میں تو یہ عرض کروں گا کہ انہوں نے بھٹو صاحب سے سبق سیکھا اور جھک گئے کہا جاتا ہے کہ سیلاب کے آگے سینہ تانے شجر نہ بنو کہ تم اکھڑ کر بہہ جاؤگے بلکہ گھاس ہو جاؤ جھک جاؤ اور سیلاب کو گزر جانے دو۔ ۔ ۔
جب چیف جسٹس صاحب نے ’’ ہٹ دھرمی‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے جرنیلوں کی دھمکیوں کے باوجود انکار کردیا تو پاکستان کی تاریخ میں یہ ایک چمکتا روشن سنہری لمحہ تھا اور جیسے متعدد جج حضرات بخوشی اپنے عہدوں سے الگ ہوئے تو میں نے اپنے اس کالم میں لکھا تھا کہ یہ سب درجنوں امید کے وہ چراغ ہیں جو پاکستان کی سیاہ رات میں روشن ہو گئے ہیں درست کہ ان میں سے کچھ چراغ مفاہمت کر گئے اور عہدے سے جدائی سہارنہ سکے اور بجھ گئے لیکن کچھ چراغ جلتے رہے پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ نے کبھی یوں تو اپنے آپ کو نیک نام نہ کیاتھا جسٹس کیانی اورجسٹس کارنیلس اور دراب پٹیل ایسے اعلیٰ اور ایماندار اخلاق کا مظاہرہ تو نہ کیاتھا اور اب ان دنوں میں مزید دو چراغ روشن ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ کونسے چراغ؟
میں ایک منہ پھٹ شخص واقع ہواہوں جس کا اندازہ مجھ سے بے وجہ مخاصمت کرنے والے روز بہ روز تعداد میں بڑھتے ہوئے لوگوں سے ہو سکتا ہے چنانچہ میں اقرار کرتا ہوں کہ مجھے یہ دونوں خواتین کبھی بھی اچھی نہ لگی تھیں بلکہ ٹیلی ویژن پر ان کی موجودگی مجھے نظریں پھیرلینے پر مجبور کرتی ان میں سے ایک ناہید خان تھیں ،ہمہ وقت بینظیر کے ساتھ نتھی ان کے ساتھ بڑی ہوئی سپاٹ چہرے والی اور قدرے کرخت تاثر والی۔ ۔ ۔ لیکن جس روز بے نظیر شہید ہوئی ہیں اس روز اور اس کے بعد ناہید خان کا چہرہ گویا ایک تبصرہ بن گیا نہ کوئی دکھاوا اور نہ کوئی جھوٹ موٹ کے آنسو۔ ۔ ۔ ایک اجڑا ہوا چہرہ اور اس پر اپنی دوست اور سہیلی کی پرچھائیاں۔ ۔ ۔ نہ کسی عہدے کی آرزو اور نہ کسی صلے کی تمنا۔ ۔ ۔ پس منظر میں اپنے دکھ کے ساتھ اپنی دوست کی جدائی میں ہمہ وقت بھیگتی آنکھیں۔ ۔ ۔
اور دوسری خاتون شیری رحمن ہیں ،عجیب سے میک اپ میں ،سیاہ چشمہ، بالوں پر جمائے، ۔ ۔ ۔ مجھے شیری بھی اچھی نہ لگتی تھی۔
اور اب۔ ۔ ۔ میں صدق دل سے اقرار کرتا ہوں کہ ناہید خان اور شیری رحمان مجھے دنیا کی سب سے حسین اور محترم خواتین دکھائی دیتی ہیں مجھے سچے اور کھرے لوگ اچھے لگتے ہیں اور یہ دونوں اپنے عشق میں اور اصولوں میں ایسی سچی اور کھری ہیں کہ ان کی مثال ملنی مشکل ہے میں افتخار چوہدری کے ہمراہ ناہید اور شیری کو بھی سلام کرتا ہوں۔

Source: Daily Jinnah, 21-Mr-09

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha