ہماری فوج نے سوات میں ایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔ فضل اللہ اور اس کے طالبان ساتھی دفاعی پوزیشن پر چلے گئے ہیں اور جان بچانے کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ فاٹا کے طالبان پر بھی دباؤ بڑھ چکا ہے، وزیرستان میں بھی فوج نے مخصوص علاقوں میں آپریشن کر کے طالبان کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ لیکن اگر پاکستانی فوج کو ”جہاد“ کے میدانوں میں جھونکنے والے مائنڈ سیٹ سے نجات حاصل کرنی ہے تو اس کے لئے مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں سب سے اہم پیش رفت اذہان کی تبدیلی ہے۔ ہمیں ایک ایسے سماجی انقلاب کی ضرورت ہے جو ہماری سوچ پر لگے جالوں کو صاف کر دے۔پاکستان اس وقت تک اس مائنڈ سیٹ سے چھٹکارا نہیں پا سکتا جب تک ہماری قانون کی کتابوں میں سے ریاکاری پر مبنی پرسائی کے وہ تمام نشانات کامل طور پر مٹا نہیں دیئے جاتے جو ضیائی دور میں ثبت کئے گئے ہیں۔ 
ہمیں اگر واپسی کا سفر کرنا ہی ہے تو یہ سفر 12اکتوبر 1999( جب مشرف نے ضمام اقتدار سنبھالا) کی بجائے 5جولائی 1977سے شروع ہونا چاہیئے جب ضیاء اور ان کے جرنیلوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔واپسی کے اس سفر کا مقصد کسی کو نشانہ بنانا یا سزا دینا نہیں بلکہ صرف اپنے ذہنی اور روحانی بوجھ سے نجات حاصل کرنا ہے۔ ریاکار پارسائی کے نام پر ضیاء نے حدود آرڈیننس سمیت جتنے بھی قوانین پیش کئے، ان کا بیک جنبش قلم خاتمہ ضروری ہے۔ فروری 2008میں جس اسمبلی کو قوم نے ہزار ہا امیدوں کے ساتھ منتخب کیا، اسکا تاریخی کارنامہ ضیائی دور کے قوانین کی تنسیخ ہو گی۔
ہم امید کرتے ہیں کہ ان قوانین کی تنسیخ کے بعد ہماری قوم کو مذہب اور سیاست پر بحث کے علاوہ بھی کچھ اور موضوع بحث مل سکیں گے۔ پاکستان میں بہت زیادہ غم اندوہ کی فضا ہے، بہت ذیادہ تاریکی ہے۔ ہم بہت زیادہ اخلاق پرست اور بزعم خود، خود کو ہی درست سمجھنے والے ہوگئے ہیں اور بہت جلد دوسروں کے بارے میں فیصلے صادر کرنے بلکہ فتوے لگانے میں جت جاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم اندھا دھند وعظ و تلقین میں لگے رہتے ہیں اور بلاوجہ مستقبل کے حوالے سے پریشان ہوتے رہتے ہیں جبکہ ہمیں حال میں زندہ رہنے کا ہنر سیکھنا چاہئے۔
وعظ و تلقین اور مستقبل کے خدشات میں گھری پاکستانی قوم ہمیشہ یہ تاثر دیتی نظر آتی ہے کہ یہ مسائل کے گرداب بیکراں میں ڈوبی ہوئی ہے اور اسے ہر لمحے ایک نئے بحران کا سامنا ہے۔ اس میں کلام نہیں کہ ہمیں مسائل کا سامنا ہے لیکن بھلا بتائیے توابتدائے آفرینش سے نسل انسانی کو کب اور کس دور میں مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور آدمی کب مسائل سے کلی طور پر آزاد ہوا ہے؟ لیکن جب پاکستانی مرد و زن اپنے شہروں اورقصبوں کی گلیوں اور سڑکوں پر چلتے ہیں تو انہیں دیکھ کر یہ گمان نہیں ہوتا کہ یہ آزاد ہیں۔ یہاں ہم کوشش کریں گے کہ اپنے الفاظ کے انتخاب میں خاصی سے زیادہ احتیاط برتیں، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستانی مرد و زن اتنے محتاط طریقے سے بات کرتے ہیں ، گویا کسی کڑے سنسر نے ان پر نگاہ رکھی ہوئی ہو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستانی قوم نے بہت سے کام چھپ چھپ کر کرنے کی عادت اپنا لی ہے۔ اور ہمارے خیال میں آزاد قوم کا یہ دستور نہیں ہوتا۔

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. حد سے بڑھی ہوئی سیاستکاری اور ریاکاری ـ1ـ ایازا میر
  2. بہادری اوراطمینان کی کاشت -ایازا میر
  3. جنگ کے مقاصد کیا ہیں؟-ایازا میر
  4. جمہوریت سیاہ بادلوں کی اوٹ میں-ایازا میر

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha