آخر کار ایک معقول اور صحیح الدماغ شخص کتنے اور کس قدر من گھڑت افسانے اور کہانیاں برداشت کر سکتا ہے۔ کچھ یوں لگتا ہے کہ ہماری قوم حالت جنگ میں نہیں ہے بلکہ یہ ایک مسلسل و مستقل بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ اگر کوئی حقیقی بحران نہ بھی ہو ، تب بھی قوم کو بے چینی و بے قراری ڈستی رہتی ہے۔دنیا کا کوئی اور ملک ہوتا تو وہاں بریگیڈئیر امتیاز بلا جیسے شخص کی خرافات کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا جاتا لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہوا۔ ہمارے ہاں میڈیا امتیاز کو ٹی وی سیلبرٹی بنانے میں کامیاب رہا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ اس بات پر سب سے زیادہ حیرت بریگیڈئیر امتیاز کو ہی ہوئی ہو گی۔بریگیڈئیر امتیاز کی مثال دینے کا مقصد صرف یہ ثابت کرنا تھا کہ ہم پاکستان کے حوالے سے ایک اظہر من الشمس قسم کی حقیقت کو ایک بار پھر سامنے لانا چاہتے ہیں یعنی یہ کہ پاکستان میں سیاستکاری اپنے عروج پر ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ آخر لوگ اپنی روزمرہ کی بات چیت میں سیاست کو ہی کیوں موضوع بحث بنائے رکھتے ہیں؟ کیونکہ خلاف قیاس اس ملک میں مذہب سے متعلق بحث مباحثے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ خدانخواستہ ہمارے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ حقیقی معنوں میں مذہب پر بحث ہوتی ہے بلکہ اصل میں مذہب کے حوالے سے ریاکاری اور مکر و فریب پر مشتمل مباحث ہوتے ہیں۔ ہمارے مباحث کو سن کر اگر صورتحال سے ناواقف کوئی شخص یہ قیاس کر بیٹھے کہ مذہب کا آغاز یا ابتداء پاکستان سے ہے تو اسے معاف فرمائیے۔
جب پابندیاں بہت زیادہ بڑھ جائیں، جب نظم و ضبط حد سے زیادہ ہو جائے تو ادب میں رومانویت کی تحریک جنم لینے لگتی ہے، یہ ایک قطعی فطری امر ہے کہ ایک معاملہ انتہا کو پہنچ جائے تو پھر ہم اسکے مخالف سمت کی خواہش کرنے لگتے ہیں یعنی آزادی کی خواہش کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات آزادی میں اس قدر آگے نکل جاتے ہیں کہ زوال کی طرف سفر شروع کر دیتے ہیں۔ اور بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ یہی مظہر الٹی طرف چلنے لگتا ہے۔ بہت زیادہ آزادی ہو اور بے انتہا ادبی افراتفری ہو تو انسان ایک بار پھر نظم و ضبط میں پناہ ڈھونڈنے لگتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے پاس اس ریاکاری پر مبنی پارسائی اور پرھیزگاری کا کیا توڑ موجود ہے؟ افسوس، صد افسوس کہ ہمارے پاس اسکا کچھ زیادہ تخلیقی حل موجود نہیں، بس عوام زیادہ سے زیادہ سیاست میں نجات کی راہیں ڈھونڈتے ہیں۔ اگر کوئی اور ماحول ہوتا تو وہاں حد سے بڑھی ہوئی ریاکاری پر مبنی پرھیزگاری کے توڑ کے لئے پابندیاں اٹھا لی جاتیں اور حدود و قیود کا خاتمہ کر دیا جاتا۔ جیسا کہ ساٹھ کی دہائی میں برطانیہ اور دیگر ممالک میں کیا گیا۔ یہ ساٹھ کی دہائی تھی جب Beatles(لیورپول کا ایک راک گروپ) دنیائے موسیقی پر چھا گئے تھے اور ”جائز اور مباح“ جیسے الفاظ ہمارے کانوں سے ٹکرانے لگے تھے۔ اس زمانے میں ہم سکول کے طالبعلم تھے اور اکثر یہ معلوم کرنے کی دھن میں لگے رہتے تھے کہ مباح یا جائز تعلقات اور آزادانہ میل جول میں کیا فرق ہے؟
اگر ہم ساٹھ کی دہائی میں ہی ان تجربات سے گذر چکے ہوتے جس سے باقی تمام دنیا گزر رہی تھی، تو اس سے شاید ہمارا بہت زیادہ بھلا ہو جاتا، ہمیں بعد کے تلخ تجربات سے نہ گزرنا پڑتا، بھٹو پاکستان کے تصور کو ازسرنو ایجاد کر سکتے تھے اور ملک کے مستقبل کو جمہوریت کے لئے سازگار اور محفوظ بنا سکتے تھے۔ انکے پاس موقع تھا لیکن شاید وقت سازگار نہ تھا جس کی وجہ سے حالات و واقعات نے پلٹا کھایا اور ہم ایک بار پھر فوجی ڈکٹیٹرشپ کی گود میں تھے لیکن ایسا پاکستان کی مختصر سی تاریخ میں پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس فوجی آمریت کے ساتھ ایک نامبارک سوغات بھی ہمارے گلے پڑ گئی اور وہ تھی مذہب کے نام پر ریاکاری اور منافقت۔
اسی کا نتیجہ تھا کہ ہم مستقبل کی سمت بڑھنے کی بجائے ماضی کی تاریکیوں میں کھونے لگے۔ آج کل ہم طالبانیت کی جو فصل دیکھ رہے ہیں، یہ اسی دور کا شاخسانہ ہے کہ ہماری فوج زیادہ سے زیادہ قدامت پسند ہوتی چلی گئی اور ”جہاد“ کے فلسفے کے پرچار کے لئے ایک زرخیز زمین تیار کی گئی جس کے تحت پہلے تو افغانستان اور پھر کشمیر کو نشانہ بنایا گیا ، ہم اب تک ان مہم جوئیوں سے پوری طرح صحتیاب نہیں ہو پائے ہیں۔ لیکن ان تمام مہم جوئیوں کا پرتفنن ترین پہلویہ ہے کہ ہمارے وہ امریکی آقا و مربی جو پہلے ”جہاد“ کی روح کے حوالے سے ہمیں پیٹھ پر شاباشی دیا کرتے تھے، اب پاکستانی اذہان کی ثقافتی مرمت و پرداخت یعنی کلچرل ری کنڈیشنگ پر لگے ہوئے ہیں۔ 1980کی دہائی میں اسلام آباد میں موجود امریکیوں کو دیکھ کر یوں لگتا تھا گویا یہ اس کرہ ارض پر موجود سب سے زیادہ پر تعصب روحیں ہیں (ہم یہ بیان دیتے ہوئے خاصی حیرانگی بھی ہو رہی ہے لیکن حقیقت یہی ہے)۔ اس دورکی ہی بات ہے کہ امریکی کفر و الحاد یہاں تک کہ تارک الدنیا ہونے یا قنوطیت کو بھی برداشت کرنے کے قائل تھے لیکن افغان ”جہاد“ وہ واحد معاملہ تھا جس کے حوالے سے کسی بھی قسم کی کوئی تنقید یا اوچھی نظر برداشت نہیں کی جاتی تھی۔ افغان جہاد ان دنوں امریکیوں کے ایمان کا حصہ بن چکا تھا۔ لیکن کیا وقت آگیا ہے کہ آج امریکی اپنے اسی سابقہ روئیے کی بنا پر پیدا ہونے والے بھوتوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے تن من دھن کی بازی لگائے بیٹھے ہیں۔
ضیاء کی ہلاکت کے بعد پاکستان کو ایک سماجی انقلاب کے لئے تیار ہو جانا چاہیئے تھا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا اور پاکستان ایک نئے ضیائی دور میں داخل ہو گیا جس کی باگ ڈور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں تھی اور جس کی نمائندگی صدر غلام اسحاق خان اور آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کر رہے تھے۔ سو نہ تو کوئی پھول کھلے اور نہ ہی کوئی نیا مکتبہء فکر سامنے آسکا بلکہ پرانی بلاؤں نے طاقت و اقتدار پر اپنی گرفت مزید مستحکم و مضبوط کر لی۔پاکستان پرانے نظریات کا ہی اسیر رہا، افغان پالیسی اور کشمیر میں بھارتی فوج کو ٹھہرائے رکھنے کی پالیسی جاری رہی اور نیوکلئیر پاور بننے کے بعد تو اس پالیسی کے تحت مزید مہم جوئی کے لئے راہیں کھل گئیں۔دوسری طرف سوویت یونین کے خاتمے پر امریکی خوشی سے بغلیں بجاتے افغانستان سے نکل گئے لیکن آج وہ اس بات پر افسوس کر رہے ہیں کہ وہ کیوں جلدی میں افغانستان چھوڑ گئے۔ وقت آگے بڑھ گیا لیکن پاکستان وہی ٹھہرا رہا، ہم جمود کا شکار ہو گئے اور روایات کہن کے ساتھ ہی چمٹے رہے۔ اور یہی وہ وقت تھا جب مجاہدین نے طالبان کا روپ دھار لیا ارو طالبان کی صورت میں القاعدہ کو بڑھنے اور پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ ہمارے پاس صرف دو سال کا وقت ہے۔ امریکی ہمیشہ کے لئے افغانستان میں نہیں رہیں گے۔ امریکہ میں افغان جنگ کے حوالے سے حمایت میں کمی واقع ہوتی جا رہی ہے۔ اگلے سال کانگریس کے انتخابات سر پر ہونگے اوراس وقت جو معاملات غیر اہم لگ رہے ہیں، اس وقت اہم ہو جائیں گے۔ اور جب اوباما کی حکومت کی مدت ختم ہونے کا وقت ہو گا اور جب وہ دوبارہ انتخابات کے میدان میں کودیں گے تو اس وقت افغانستان میں امریکہ کی مستقل موجودگی انتخابی حوالے سے ایک اہم موضوع ہو گا۔ (جاری ہے)
http://search.jang.com.pk/archive/details.asp?nid=375260

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha