حافظے کے سلسلے میں اپنا دماغ چو پٹ ہوجانے کی وجہ سے اب ہمیں کافی شک ہوتا جا رہا ہے کہ ہم کہیں فلسفی ہی نہ ہوں کیونکہ ہم یادداشت کی خرابی کی اس منزل تک پہنچ چکے ہیں جہاں اکثر بڑے فلسفی اپنا نام تک بھول جایا کرتے ہیں اور کچھ عجب نہیں کہ کسی دن کوئی ہمارا نام پوچھے تو انکسار سے عرض کریں کہ…۔ خاکسار کو برٹرینڈ رسل کہتے ہیں۔
فلسفیوں کے حافظے کے بارے میں لوگوں نے عجیب عجیب لطیفے مشہور کر رکھے ہیں لیکن کوئی محقق اگر حقہ پی کر تحقیق کرے تو یہ راز عیاں ہوجائے گا کہ ان میں سے بیشتر لطائف نہیں بلکہ حقائق تھے… مثلاً ایک مشہور فلسفی کہیں جا کر واپسی میں اپنا گھر تک بھول جایا کرتے تھے اوراندازے سے کسی گھر میں داخل ہوکر اس خاتون کے شوہر کے ہاتھوں کسی ہاسپٹل کے سرجیکل وارڈ میں پائے جاتے تھے،… کچھ ایسا ہی ارسطو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک دن انہوں نے بیگم سے کڑھی پکانے کی فرمائش کردی تھی، بیگم نے کڑھی پتہ لانے کیلئے بازار بھیجا تو سارا دن غائب رہے کیونکہ واپسی میں اپنے گھر کا دوازہ بھول چکے تھے، ساری رات سڑکوں پر مارے مارے پھرتے رہے۔ اگلے دن افلاطون سے اپنے گھر کا پتا پوچھا تو اس نے کہا…” شیدے پہلوان کی گلی میں فلاطنیوس جنرل اسٹور والے موڑ پر جہاں ارلی طرف ماسی برکتے کا تندور ہے پرلی طرف مڑجائیو، نوں سے نوں کو جا کے چوتھا گھر تمہارا ہے…“۔ ارسطو ماسی برکتے کے تندور تک بالکل ٹھیک پہنچ گئے تھے لیکن گھر کے بارے میں کچھ یاد نہیں آ رہا تھا کہ تیسرا گھر ہے یا ساتواں گھر ہے، بس بیچ میں کھڑے حریان پریشان ہورہے تھے کہ ایک دروازے سے ایک باڈی بلڈر سی خاتون نکلتی نظر آئی، بہت خوش ہوئے، لپک کر اس کے پاس پہنچے اور گویا ہوئے…” معاف کیجئے گا بھاری خاتون! ایسا لگتا ہے کہ پہلے بھی آپ کو کہیں دیکھا ہے“…۔
”ضرور دیکھا ہوگا!“ اس خاتون نے ہاتھ کے شکنجے میں ارسطو کی گردن لیتے ہوئے خوفناک اندار میں کہا…۔ ”اندر چلو، ابھی بتاتی ہوں!“
کہنے والے کہتے ہیں کہ جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئے، چند سیکنڈ کے بعد اس گھر سے مار پیٹ کی ہولناک آوازیں بلند ہوئیں، ارسطو کا واویلا سن کر باہر محلے والے جمع ہوگئے، دیوار کے اوپر سے آنے والا بیلن ایک محلے دار نے کیچ کرلیا تو دوسرے نے چمٹا اٹھایا، تیسرے کے سر پر پھکنی لگی تو وہیں بیہوش ہوگیا مگر ان میں سے ایک پڑوسی زیادہ خوش نصیب رہا اس نے ارسطو کی بوطیقا کا مسودہ کیچ کیا تھا اور سیدھا اپنے گھر کو نکل گیا تھا کہ بعد میں پی ایچ ڈی کے لئے چوری کا تھیسس ایتنھز یونیورسٹی میں اپنے نام سے جمع کرکے ”ڈاکٹر“ کا لاحقہ اپنے اسم گرامی کے ساتھ لگوائے گا!
… یہ واقعہ چونکہ زمانہ قبل مسیح کا ہے اس لئے اس کی صحت و سچائی کے بارے میں شکوک ابھرنا لازمی ہیں اور کچھ دانشور ٹائپ حضرات کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ فلسفہ میں کڑھی یا ارسطو کا ایسا کوئی واقعہ درج نہیں ہے، لیکن معلومہ تاریخ میں شوپنہار کا وجود تو ابھی ایک ڈیڑھ صدی پہلے کی بات ہے… یہ وہی مشہور غائب دماغ فلسفی شو پنہار ہیں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ رات کو گھر واپسی پر اپنی چھڑی اپنے بیڈ روم کے بستر پر لٹا کر خود کمرے کے کونے سے ٹک جایا کرتے تھے، شوپنہار اور ان کی چھڑی کے بارے میں ایک عجیب عادت بھی بہت مشہور ہے کہ وہ جب شام کی سیر کیلئے چھڑی ہاتھ میں لئے گھر سے نکلتے تو کافی دور تک جایا کرتے تھے اور وہ دو میل دور ایک چوراہا آنے پر اپنے گھر واپسی کے لئے تھکے ماندے پلٹتے تھے، اس سڑک پر دونوں جانب چند قدموں کے فاصلے سے قدیم درخت تھے اور شو پنہار کی منفرد عادت تھی کہ جاتے ہوئے ہر درخت کو ہلکی سی چھڑی رسید کرتے تھے اور واپسی میں بھی ایسا ہی ہوتا تھا،… ایک شام وہ تھکے ہارے واپس آئے تہ چھڑی بستر لٹا کر خود کونے میں کھڑے ہوتے ہوتے رک گئے…اچانک انہیں یاد آیا تھا کہ چوراہے سے پلٹنے سے پہلے وہ آخری درخت کو چھڑی مارنا بھول ہی گئے تھے… وہم اگر کسی فلسفی کو ہو تو بالکل ہی لا علاج ہوتا ہے چنانچہ شو پنہار بھی دو میل دور اس درخت کو چھڑی مارنے کے لئے دوبارہ گھر سے نکلنے لگے تو شدید بارش شروع ہوگئی مگر فلسفی ایسی مشکلات کی پرواہ کرنے لگیں تو تاریخ، فلسفہ میں ان کا نام کیسے آئے چنانچہ شو پنہار نے ایک طشلہ اپنے سر پر رکھا اور چھڑی اٹھاکر روانہ ہوگئے… جاتے ہوئے وہ حسب عادت ہر درخت کو چھڑی مارتے گئے پھر اس موڑ والے آخری درخت کے پاس آکر انہوں نے سکون کا گہرا سانس لیا۔ مسکرا کر اسے چھڑی رسید کی اور پھر واپسی میں بھی ہر درخت کو چھڑی سے چھیڑتے رہے، ہانپتے کانپتے گھر پہنچ کر وہ شدید سردی میں تیز بارش سے شرابور ہوچکے تھے، اس بار بیڈ روم میں انہوں نے بستر پر چھڑی نہیں لٹائی، وہ نڈھال اتنے تھے کہ اوئی کہہ کر خود بستر پر گرپڑے… یہ داستان ختم کرتے ہوئے ہم یہ ضرور لکھ دیں کہ شوپنہار کے تمام تذکرہ نویس یہ بات ابھی تک بھولے رہے ہیں کہ ان کی وفات ڈبل نمونیہ سے ہوئی تھی۔(جاری ہے)

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=375763

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha