افواج پاکستان کے سپہ سالار جنرل اشفاق پرویز کیانی کا دلی شکریہ کہ انہوں نے میرے کالم میں گورنمنٹ کالج پبی (صوبہ سرحد)کے ایک معزز استاد انور جمال صاحب کی توہین کی داستان پڑھ کر اس افسوسنا ک واقعہ کا نوٹس لیا اور متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور پروفیسرصاحب کی دلجوئی کے لئے فوری اقدامات کئے۔ میرے کالم کی اشاعت کے بعد مجھے صوبہ سرحد سے بہت سے قارئین کے ٹیلیفون اور خطوط موصول ہوئے جن میں کم و بیش اس سے ملتی جلتی صورتحال کا احوال بیان کیا گیا تھا جس سے پروفیسر انور جمال دوچارہوئے تھے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے بہادر فوجی ملک و قوم کے لئے اپنی جانیں نچھاور کر رہے ہیں، ان کا مقابلہ دہشت گردوں سے ہے جو مختلف روپ دھار کر سامنے آتے ہیں چنانچہ انہیں محتاط رہنا پڑتا ہے لیکن بعض اوقات غیرمعمولی یا غیرضروری احتیاط کی وجہ سے امن پسند شہری بھی ایسے حالات کی زد میں آجاتے ہیں جو ان کی عزت ِ نفس کو پامال کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ بہت طویل عرصے کے بعد جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور میں پاکستانی فوج اورپاکستانی عوام کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی محبت کی فضا دیکھنے میں آرہی ہے۔ یہ فضا برقرار رہنا چاہئے اور اس کے لئے دشمنوں اور دوستوں میں پہچان بہت ضروری ہے۔ ہمیں امید کرنا چاہئے کہ فوج کے اعلیٰ افسران اور دوسرے اہلکار خیرسگالی کی اس فضا پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ شورش زدہ علاقوں میں واپس جانے والے پرامن شہریوں کے حوالے سے کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کریں گے جس سے باہمی عزت و احترام میں کمی نہ آئے بلکہ اس میں اضافہ نظر آئے۔
محترمہ نیلم احمد بشیر ہمارے ملک کی ایک ممتاز افسانہ نگارہیں اور بے حد حساس دل کی مالک ہیں۔ میں ان کاایک خط یہاں درج کر رہا ہوں جس کا تعلق ہمارے ہاں موجود فرعونیت کے حامل ایک طبقے سے ہے۔ یہ سویلین طبقہ اپنی اندھی دولت یا بے لگام اختیارات کی وجہ سے اپنی موت بھی بھول چکاہے۔ نیلم بشیر کے حساس دل و دماغ پر اس طبقے کے ایک فرد نے گہری ضرب لگائی ہے، جس کا کرب ان کے خط میں محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بہت محترم خاتون نیلم بشیر کا خط بغیر کسی تبصرے کے ملاحظہ فرمائیں:
محترم عطا الحق قاسمی صاحب ،آداب،سرحد کے قابل احترام پروفیسرجناب انور جمال کی بے حرمتی کے بارے میںآ پ کاکالم پڑھاتو میرے بھی کچھ پرانے زخم ہرے ہوگئے۔ان پر جو بیتی اور جس ذہنی انتشار کاوہ شکار ہوئے، اس سے میں بخوبی واقف ہوں کیونکہ میرے ساتھ بھی اس سے ملتا جلتا واقعہ پیش آچکا ہے۔
بہت سال پہلے کی بات ہے۔ میں گلبرگ کی ایک مشہور و مقبول بیکری میں کچھ خریداری کرنے کے لئے گئی۔ سیلزمین مصروف تھا اس لئے میں خاموشی سے ایک طرف کھڑی ہو کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگی۔ ایک چالیس پینتالیس سالہ شخص جو بظاہر پڑھا لکھا معلوم ہوتا تھا، تیزی سے اندر داخل ہوا اور سیلزمین کو اسے جلدی سے کچھ سامان دینے کے لئے کہنے لگا۔ سیلزمین اسے فوری طور پر اٹینڈ نہیں کرسکتا تھا اس لئے وہ اپنے کام میں مصروف رہا مگر یہ بات اس شخص کے لئے بالکل قابل قبول نہ تھی لہٰذا اس نے اس بیچارے غریب مسکین سے نوجوان سیلزمین کو غصے سے ڈانٹنا شروع کر دیا کہ مجھے جلدی چیزیں دو کیوں دیر لگا رہے ہو وغیرہ وغیرہ۔
سیلزمین اس شخص کے غصے سے کچھ گھبرا گیااور بوکھلا کر جلدی جلدی اس سے پہلے والے شخص کی چیزیں بیگ میں ڈالنے لگا مگر وہ شخص پھربھی چپ نہ ہوا اورزورزورسے بکنے جھکنیلگا۔ میں کافی دیر سے یہ سب تماشہ دیکھ رہی تھی مگر اب مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے بڑے آرام سے اس شخص کو مخاطب کرکے کہا ”آپ اس بیچارے کوکیوں ڈانٹ رہے ہیں وہ آپ کو چیزیں دے تو رہا ہے۔ آپ اپنی باری کا انتظار کریں پلیز“ میرے یہ کہنے کی دیرتھی کہ توپوں کا رخ میری طرف ہو گیا۔ اس شخص نے مجھے زورسے شٹ اپ کہنے کے بعد اس قدر فحش اور غلیظ گالیاں دیں (انگریزی میں) کہ میں لرز اٹھی۔ میرے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے اور احساس شرم سے میں زمین میں گڑھ گئی۔ وہ شخص منہ سے مغلظات بکتاپاؤں پٹختا باہر چلا گیا مگر مجھے تو نفسیاتی طور پر تباہ کر گیا۔ ایک اجنسی شخص جسے میری یوں تذلیل کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا تھا مجھے ذلیل و خوار کر گیا اور میں کچھ نہ کرسکی۔ اس کے جانے کے بعد میرا تو وہاں کھڑا رہنا مشکل ہو گیا۔ میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ بیکری کے منیجر نے مجھ سے معافیاں مانگیں مگر آپ یقین کریں گے کہ اس واقعے کے بعد میں شاید دس سال تک اس بیکری میں نہیں جاسکی۔ اب بھی کبھی بھولی بھٹکی چلی جاؤں تو وہ واقعہ مجھے یاد آ جاتا ہے اور میں ذہنی اذیت میں مبتلا ہو جاتی ہوں۔ اس کا تو یہی مطلب ہے کہ ہم کسی پرزیادتی ہوتے دیکھ کر کبوتر کی طرح اپنی آنکھیں بند کرلیں اور کسی کی مدد کوکبھی نہ آئیں۔ افسوس کہ ہماری قوم کا مزاج کچھ ایسا ہی بن چکا ہے کہ رعب ڈالو، دھونس جماؤ، قبضہ کرلو،لوگوں کو BULLY کرو، حق انصاف کا نام نہ لو۔ فوجی حکومتوں کے چرمی بوٹوں تلے روندے جانے اور خون چوسنے والے سیاستدانوں کے ستائے ہوئے غریب عوام، زور آوری، تشدد، حاکمین کے سانٹے کھا کھا کر اب خود تقریباً چوہے بن چکے ہیں۔ کوئی آواز نہ نکالے، کوئی احتجاج نہ کرے، کبوتر کی طرح آنکھیں بند رکھے توہی سراوائیو کرسکتا ہے ورنہ یہاں کسی کی کون سنتا ہے۔ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے چونکہ عوام کے حقوق کو کوئی تحفظ حاصل نہیں، قانون کی کوئی گرفت نہیں، اخلاقیات کی کوئی اہمیت نہیں، تمیز و تہذیب کا کوئی تصور نہیں اس لئے ہرطرف زور اور زبردستی ہی نظر آتی ہے۔ ہم یوں تو ماضی کے رومان میں مبتلا رہتے ہیں۔ اپنی اعلیٰ اقدا ر اور روایات کے مصنوعی احساس تفاخر کا جھومر اپنے ماتھے پر سجائے اتراتے پھرتے ہیں جبکہ ہمارے رویئے اور فعل کچھ اور ہیں۔ترجیحات کچھ الگ ہیں۔ہر شخص اپنے آپ کوبہت بڑا، صحیح مسلمان سمجھ کر دوسروں کو کم تر مسلمان ہونے کا احساس دلاتا رہتا ہے۔ اسلام کو محض نماز، روزہ، دائرہ حجاب، نقاب، جنت، دوزخ، حوروں، جبری مذہبی دہشت گردی کے حوالے سے ہی بتایا اور سمجھا جاتا ہے جبکہ اسلام تو صرف اورصرف انسانیت کا مذہب ہے۔ اصل مذہب تو نرم خوئی، صلح جوئی، درگزر، رواداری، لحاظ، مروت، محبت اوراخوت سے عبارت ہے جبر سے نہیں۔
امریکی خاتون میجر لنڈی نے جب ابوغریب جیل میں عراقی قیدیوں کی تذلیل کی تھی تو ہمیں کتنی تکلیف ہوئی تھی مگر ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ملک کوئی بھی ہو، انسان کہیں بھی ہو، اس کی عزت ِ نفس مجروح کرنا، اس کی انا کو زخمی کرنا ایک گناہ عظیم ہوتا ہے۔ پروفیسر صاحب نے ایک ساتھی کی مدد کوزبان کھولی تھی میں نے بھی ایک ناجائز قسم کی بات پر احتجاج کیا تھا گو کہ مجھے مکے اور گھونسے تونہیں پڑے لیکن ایک عورت کے لئے یہ بھی بہت بڑی اذیت اور ذلت ہے کہ کوئی اجنسی شخص اسے بھرے بازار میں ذلیل کرکے چلتا بنے۔ بس دل بھر آیا تھا تو آپ کو لکھ دیا بہت آداب بہت بہت شکریہ،نیلم احم بشیر ، لاہورکینٹ

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=374917

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha