پاکستان میں اقتدار کے تین راستے اور تین ستون ہیں۔عوام،اسٹیبلشمنٹ اور امریکہ۔موجودہ سیاسی قیادت تیسرے عامل سے قربت کے نشے میں اس قدر آپے سے باہر ہوگئی ہے کہ ثانی الذکر عامل کو بھی درخوداعتناء نہیں سمجھتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف فوج نے اپنے آپ کوگذشتہ الیکشن میں ملوث نہیں کیا بلکہ اس کے بعد بھی حکومت کو فری ہینڈ دیا۔ شاید جنرل اشفاق پرویز کیانی پہلے آرمی چیف تھے جنہوں نے خود حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی سیاسی قیادت کو سیکورٹی معاملات پر بریف کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ابتداء میں سوات‘ بلوچستان اور قبائلی علاقوں جیسے حساس معاملات بھی اس کے سپرد کئے لیکن سیاسی قیادت خود بچگانہ روش کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوج کو دخیل کرتی رہی۔بلوچستان کو دیکھ لیجئے ۔ وہاں کے لئے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کی تیاری میں ایک سال سے زائد کا وقت ضائع کیا گیا۔ اپنا بھی یہ خیال تھا کہ شاید فوج عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ ہے لیکن اب معلوم ہوا کہ آرمی چیف اور کورکمانڈر کوئٹہ جب اس حوالے سے وزیراعظم سے ملے تو نہ صرف تمام سفارشات پر ہاں کردی بلکہ آگے بڑھ کر بلوچوں کو مزید مراعات اور اختیارات دینے کی سفارش کردی جس پر خود وزیراعظم کو کہنا پڑا کہ آپ لوگ تو ہم سے بھی دو قدم آگے نکل گئے لیکن نہ جانے کیوں ان سفارشات پر عمل درآمد نہیں کیاجارہا اور لامحالہ بلوچستان فوج کے سپرد ہے۔ملاکنڈ آپریشن کو دیکھ لیجئے ۔ اس سے متعلق سیاسی قیادت کی لاتعلقی کا یہ عالم تھا کہ کورکمانڈر پشاور کو سرحد حکومت کی اہم شخصیات کو طلب کرکے دھمکی دینا پڑی کہ اگر وہ اس آپریشن کو اون نہیں کریں گے تو آپریشن ادھورا چھوڑ کر وہ فوج کو واپس بلالیں گے، تب سرحد حکومت زبانی کلامی اس آپریشن کو سپورٹ کرنے لگی۔آپریشن سے بے گھر ہونے والے لاکھوں متاثرین کو سنبھالنا سیاسی حکومت کے حصے میں آیا تو اس ضمن میں نااہلی اور بدانتظامی کی نئی تاریخ رقم کی گئی۔ بحالی کی رقم میں خردبرد کے قصے زبان زدعام ہیں۔ سیاسی رشوت کے طور پر ملاکنڈ ڈویژن کے ایم پی ایز کو حیات میں پلاٹ دئے جارہے ہیں اور حقیقی متاثرین ہنوز امدادی رقم کے منتظر ہیں۔آپریشن کے بعد سول اداروں کی بحالی میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ ہورہا ہے ۔ اگرچہ محمد ادریس خان کی صورت میں دیانتدار اور بہادر پولیس آفیسر کوڈی آئی جی تعینات کیا گیا ہے لیکن سرحد حکومت کی طرف سے پولیس کی بحالی کے لئے مطلوبہ دلچپسی نظرآتی ہے اور نہ درکار رقم فراہم کی جارہی ہے ۔ آپریشن کا فیصلہ عسکری قیادت کا تھا، پلاننگ بھی اس کی تھی اور سینکڑوں کی تعداد میں جانوں کے نذرانے بھی فوجی آفیسرز اور جوانوں نے دئے لیکن اب پی پی پی اور اے این پی کی قیادت اس سے اس کا کریڈٹ چھیننا چاہتی ہے ۔
سعودی عرب کے لئے سفیر ایک نیک اور سعودیوں کے مزاج آشنا عمر خان علی شیرزئی نامزد کئے گئے تو ہم نے سکھ کا سانس لیا کہ شاید اب تلافی کا عمل شروع ہوا لیکن اب نہایت نیک، باصلاحیت اور سعودی شاہی خاندان سے قربت کے حامل بحراللہ ہزاروی کو ہٹا ایک ایسے فرد کو ڈائریکٹر جنرل حج بنا دیا گیاجو نہ صرف سعودیوں کے لئے ناپسندیدہ ہیں بلکہ ماضی میں بدعنوانی کے الزامات کے تحت اسی منصب سے معزول اور سروس سے برطرف بھی ہوچکے ہیں۔اسی طرح امریکہ جس پر تمام تر تکیہ ہے اور جس کی رضامندی ہی کو اقتدار کا بنیاد تصور کیاگیا ہے کے ساتھ ڈیلنگ بھی اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی کا باعث بن رہی ہے ۔ہماری اسٹیبلشمنٹ یہ گوارا نہیں کرتا کہ سیاسی قیادت اسے بائی پاس کرکے براہ راست امریکہ سے معاملہ کرے لیکن موجودہ سیاسی قیادت تسلسل کے ساتھ نہ صرف اس روش پر گامزن ہے بلکہ واشنگٹن میں اس کے نامزد کردہ سفیر کا رویہ پاکستانی سفیر کاکم اور امریکہ میں امریکہ کا زیادہ ہے۔امریکیوں کے ہاتھوں پاکستانی جس ذلت کا سامناکررہے ہیں، اس پر تو کبھی انہوں نے امریکیوں کو خط نہیں لکھا لیکن اب وہ بعض مشکوک امریکیوں کو ویزے دینے سے انکار پر برہم ہوکر ڈی جی آئی ایس آئی کو خط لکھ رہے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) جو آدھی حکومت اور آدھی اپوزیشن میں ہے بھی کماحقہ سنجیدگی اور جمہوریت کے استحکام کے لئے قربانی دینے کا مظاہرہ نہیں کررہی ہے ۔ سترویں ترمیم کے خاتمے کے لئے تمام چھوٹی بڑی جماعتوں کے ساتھ بارگیننگ ضروری ہے لیکن اس جماعت نے اے این پی کے ساتھ بلاجواز پختونخوا کے مسئلے پر تنازعہ کا آغاز کردیا۔ اے این پی جیسی بھی ہے لیکن پختونخوا کے حوالے سے اس کا موقف سو فی صد درست ہے اور کسی بھی جمہوریت پسند کو اس کی مخالفت زیب نہیں دیتا۔ جمہوریت میں فیصلے کثرت رائے سے ہوتے ہے اور سرحد اسمبلی کی اکثریت پختونخوا کے حق میں رائے دے چکی ہے ۔بظاہر تو نون لیگ کی قیادت زرداری حکومت کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہیں بن رہی لیکن درون خانہ وہ زرداری صاحب اور زرداری صاحب ان سے کھیل رہے ہیں۔اسی طرح اسٹیبلشمنٹ سے متعلق جمہوری نظام کے اس دوسرے اہم ستون کا رویہ بھی مصالحانہ سے زیادہ جارحانہ ہے۔
حسب توقع ”ویلکم ایم کیوایم“کے زیرعنوان گذشتہ کالم کوپنجاب ، سرحد اور اندرون سندھ کے قارئین نے ویلکم نہیں کیا ۔ حالانکہ میں نے ایم کیوایم کو فرشتوں کی جماعت گردانا تھا اور نہ اسے تشدد کے عنصر سے پاک قرار دیا تھا بلکہ کالم کا آغاز ایم کیوایم کے ہاں تشدد کی موجودگی کے ذکر سے ہوا تھا۔ کالم کا مدعا یہ تھا کہ ایم کیو ایم کو تشدد سے دور کرنے اور اس کے مخالفین کو اس کی تشدد سے بچانے کے لئے اسے مین اسٹریم میں لایا جائے لیکن افسوس کہ کسی نے بھی اس تجویز کی مدلل تنقیح نہیں کی ۔ سب سے حیرت انگیز ردعمل اپنے آپ کو اے این پی سندھ کا ترجمان قرار دینے والے قادر خان صاحب کا تھا جو انہوں نے ایک طویل خط کی صورت میں مجھے اور دیگر کالم نگاروں کو ای میل کیا۔ اے این پی کو درپیش المیوں میں سے ایک المیہ یہ ہے کہ اس کی ترجمانی اب ایسے لوگوں کو سونپ دی گئی ہے جو دوسرے کی بات سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ اپنی بات کرنے کا سلیقہ جانتے ہیں ۔ اس صاحب نے ایم کیو ایم کے مظالم کی تفصیل بیان کرکے مجھ پر پختون قوم سے بے وفائی کا الزام لگایا ہے حالانکہ ایسا لکھتے وقت انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ اگر نائن زیرو کا دورہ پختون فروشی ہے تو اس جرم کے مرتکب سب سے پہلے ہم سب کے قابل احترام خان عبدالولی خان ٹھہرے ہیں اور ایک نہیں بلکہ بار بار ٹھہرے ہیں ۔ اپنے لیڈران کی چاپلوسی کے جذبے میں وہ یہ بھول رہے ہیں کہ ہم جیسے پختونوں نے ایم کیو ایم کے قائدین کو پہلی بار میں پختونخوا میں اے این پی کی تقاریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت میں دیکھا اور سنا ہے ۔ بارہ مئی کے واقعے کے بعد جب پراسرار طور پر اے این پی کی قیادت نے ایم کیو ایم کے ساتھ صلح کا اعلان کیا تو مجھے کراچی سے پختون صحافیوں کے فون آئے کہ بارہ مئی کو شہید ہونے والے پختونوں کو فروخت کردیا گیا لیکن میں ایک لمحے کے لئے بھی اے این پی کی قیادت کے حوالے سے اس بدگمانی میں نہیں پڑا تاہم اب جب کہ اس جماعت کے ترجمان کے ذریعے یہ پتہ چلا ہے کہ ایم کیو ایم کی کسی تقریب میں جانے والے ہر بندے کو خرید لیا جاتا ہے تو اس وجہ سے شک ہونے لگا ہے کہ خلوت میں ہونے والی اس ملاقات ‘ جس کے بعد اے این پی نے بارہ مئی کے شہداء کو بھلا دیا ‘ میں شاید اس طرح کی کوئی حرکت ہوئی ہوگی۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اے این پی سندھ اور مرکز میں پختونوں کی اس قاتل جماعت کی پارٹنر ہے۔ سندھ میں جو بھی حکومتی فیصلہ ہوتا ہے اس میں اے این پی اور ایم کیوایم یکساں حصہ دار ہے ۔ مرکز میں یوسف رضاگیلانی کے ایک طرف فاروق ستار اور دوسری طرف غلام بلور بیٹھے ہوتے ہیں۔ کبھی ان لوگوں کو یہ جرأت نہیں ہوئی کہ حکومت سے الگ ہوکر یہ اعلان کردیں کہ ہم پختونوں کے قاتلوں کے ساتھ نہیں بیٹھتے لیکن اگر کوئی صحافی ایم کیو ایم کو قومی دھارے میں لانے کی تجویز پیش کردیں تو اسے قوم فروش کے القابات سے یاد کیاجاتا ہے

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=374919

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha