گرمیوں کے آخری ایام کے ساتھ ہی ماحول میں اداسی کی لہر چھاجاتی ہے لیکن زندگی اپنے سفر پر رواں دواں رہتی ہے ۔ گرمیوں کی رخصتی اور خزاں کی آمد کی باتیں چل رہی ہیں۔ا سکولوں کی پیلی بسیں بچوں کو گھروں سے اٹھانے کے لئے سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ کالجز میں بھی نئے طلباء کی آمد سے چہل پہل بڑھ گئی ہے۔ گرمیوں کے مختصر لباس طے کر کے رکھ دیے گئے ہیں۔ لوگوں نے دھوپ سے بچاؤ کی اشیاکو بھی خیرآباد کہہ دیاہے ۔
ستمبر کی آمد ٹینس کے دیوانوں کے لئے بڑی خوشگوارہوتی ہے کیونکہ اس ماہ نیو یارک کے قریب فلشنگ میڈو میں یو ایس اوپن کا میلہ منعقدہوتاہے ۔ آج کل ٹینس کے شوقین حضرات نے گرینڈ چیمپینز کے لباس زیب تن کیے ہوئے ہیں۔ ٹوئنز کا بادشاہ اور دنیا کے بہترین کھلاڑی راجر فیڈرر سرخ اور کالے رنگ کے لباس کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں۔خواتین کھلاڑیوں میں اول نمبر سرینا ولیمز کا مختصرلباس سرخی مائل ارغوانی رنگ کاہوتاہے ۔ آسٹریلین اوپن کے فاتح اور راجر فیڈرر کے لئے ایک مستقل خطرے کی پہچان والے نادل ٹیکسی نے عموما پیلے رنگ کی پولو شرٹ پہن رکھی ہوتی ہے۔ ٹینس کے اس بخار کے ساتھ ساتھ امریکہ میں آجکل شادیوں کی تقریبات بھی عروج پر پہنچ چکی ہیں۔شادیوں کا سیزن جون تا اکتوبر ہے ۔ مرد اور عورت، مرد اومرد اور عورت اور عورت کے چمکتے دمکتے جوڑے اپنے دوستوں او ر رشتے داروں کی موجودگی میں دائمی محبت کے اظہار کے لئے ایک دوسرے کو قیمتی انگوٹھیاں پہناتے ہیں۔ شادی کے اس مقدس موقع پر عہد وپیمان باندھے جاتے ہیں اورخاندان کے بڑے بزرگ ان نو بیاہتا افراد کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔لیکن ان خوشیوں بھری شادیوں میں سے نصف شادیاں ہی کامیاب ٹھہریں گی ۔ باقی آدھی طلاق پر منتج ہوتی ہیں۔
امریکہ معاشرے کے یہ تکلیف دہ پہلو کی تصویر ہر جگہ دیکھی جا سکتی ہے ۔ایک پارک میں ایک شخص اپنے تین بچوں کو لیکر بیٹھا تھا اس نے بتایا کہ’’ ایک دن میری بیوی مجھے چھوڑ کر چلی گئی مجھے ابھی تک معلوم نہیں کہ اس نے مجھے کیو ں چھوڑا ۔ وہ اپنے ساتھ میرا گھر اور میری سالوں کی کمائی بھی لے گئی ہے۔ میرے بچے مجھے یاد کرتے ہیں میں نے نان نفقہ مہیا کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی میں ایک اچھا شوہر اوراچھا باپ تھا۔‘‘ اپنے والد کے تکلیف سے بے خبر اس کے دو بڑے لڑکے اپنی بہن کو پر اپنا غصہ اتار رہے تھے وہ اسے چھیڑتے رہے یہاں تک کہ لڑکی نے رونا شروع کردیا۔ غم میں ڈوبے باپ نے انہیںایسا کرنے سے منع کیا ۔ تھوڑی دیر میں وہ تینوں اپنے باپ کے دیے ہوئے کھلونوں سے بھرے بیگ سے اپنی مطلوبہ اشیا نکال کر کھیل میں مصروف تھے ۔ اگر سب درست ہے تو یہ کیا ہے ؟ کیا والدین کی طلاق کے غصے نے ان ننھے منے بچوں کے دلو ں کو ہمیشہ کے لئے توڑ کرنہیں رکھ دیا۔
ادھر ہگ ہیفنز کی کہانی بھی ہے ۔ کیا یہ سب اب عام نہیں ہوگیا؟ اگر نہیںتوکیا پلے بوائے میگزین اس طرح کے بے چارے قسم کے افراد کی تصاویر شائع نہیںکرتا ؟ کوئی کب تک حقیقت سے آنکھیں چرا سکتاہے ۔ اس شخص کو دیکھ لیں۔ ۔ ۔ جی ہاں ۔ ۔ ۔ اس کی بیوی بھی اس سے طلاق مانگ رہی ہے اور ساتھ ہی اس کے مشہور گھر کے ساتھ کروڑوں کی دولت کا مطالبہ بھی کررہی ہے ۔
83سالہ کروڑپتی ہیفنز نے 43سالہ ’کانریڈ‘ سے 1989ء میں شادی کی’کانریڈ ‘نے اس سال بہترین کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ان کے دو لڑکے ہیں ۔ ڈیوٹ ڈاٹ کام کے مطابق ان کے درمیان تنازع کی وجہ یہ ہے کہ یہ 83سالہ کروڑپتی ہیفنزحالیہ دنوںدوبالکل ایک جیسے دکھنے والے 19سالہ جوڑے کریسہ اور کرسٹینا شینن سے دل لگا بیٹھا ہے۔
بھارتی جوڈوکراٹے ماسٹر روی کی داستان بھی سنتے چلئے۔ روی نے اپنی معمولی سی آمدنی سے لا سکول کی ایک لڑکی سے شادی کرکے اپنے ساتھ امریکہ لے آیا۔ طلاق حاصل کرنے کے بعدشکستہ دل روی کا کہناتھا۔ ’’میں نے اسے ہر چیز مہیا کی ۔ میں برونکس میں واقع اپنے گھر سے کالج تک روز خود کار میں چھوڑ کرآتا تھا، میں نے اسے ہرچیز مہیاکی اور جب وہ ایک خود اختیار وکیل بن گئی تو اس نے مجھے طلاق دے دی‘‘۔ بیوی کے ظلم کا شکار روی مایو س ہو کر اپنا تعلق دوبارہ بھارت سے جوڑناچاہتاہے تاہم اس کا کہناہے ’’لیکن میں اپنے لڑکے سے بڑا پیارکرتاہوں وہ جب تک کالج جاتا رہے گا میں یہیں رہنے پر مجبور ہوں‘‘ایک ہوم ڈپو میں مجھ سے ملنے والی فلور موریلو کی کہانی بھی ایک ایسی ہی کربناک صورتحال سے آگاہ کرتی ہے ۔مجھے کچن کے فرش ، ٹوائلٹس اور گھر کے کونوں کو صاف رکھنے کی ہدایت کرنے کے دوران اس نے بتایا’’میں صرف اپنے بیٹے کو اسکول بھیجنے کے لئے 17سال سے نیو یارک میں کلیننگ لیڈی کے طور پر کام کررہی ہوں‘‘ ۔ جنوبی امریکہ سے امریکہ آنے کے کچھ عرصے بعد اس کا شوہراسے چھوڑ کرچلا گیا تھا۔ اس نے میرے سامنے ڈیٹرجنٹ کی ایک بوتل رکھتے ہوئے مزید کہا ’’میرے بیٹے نے کالج کی تعلیم مکمل کرلی ہے لیکن ابھی تک اسے نوکری نہیں ملی ‘‘ پھر اس نے اعتماد سے کہا ’’یہ سٹف آپکے صفائی کے تمام مسائل کا حل ہے یہ آپکی زندگی کو نہایت آسان کردے گا‘‘ صفائی کی یہ ساری تراکیب فلورا مجھے فری دے رہی تھی جس پر مجھے حیرت ہوئی لیکن جلد ہی میری حیرت ختم ہو گئی جب فلورا نے کہا ’’ میرے باس کو ضرور بتائیے گا کی میری ٹپس بہت مفید ہیںتاکہ میری تنخواہ میں اضافہ ہو سکے‘‘ایک طرف لاطینی فلورا کے ہاتھ اور ناخن اسکے بلیو کالر اسٹیٹس سے دغا کھا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب برٹ اینا ونٹر کے خاص قسم کے گہرے رنگ کے گلاسز اس کے بلا مقابلہ فیشن کے ملکہ کے اسٹیٹس کے نمائندہ ہیں۔معاشرے کے اس تضاد کی اصل وجہ لوگوں کا فیشن کے لئے پاگل پن ہے حال ہی میں فیشن میگزین Vogueکے ظالم ایڈیٹر پر ایک فلم بنائی گئی جس کانام Devil Wears ہے اس فلم میں Maryl Streep نے بھی اداکاری کی ہے ۔Vogueکا ستمبر کا ایشو خاص ہوتا ہے اس سال 4پاؤنڈ 9اونس قیمت کے 840صفحات ہیںجن میں سے 727صفحات پر صرف اشتہارات دیے گئے ہیں۔اسی لئے ڈاؤڈ نے Vogue کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ’’یہ ایشو اب گولڈن ایج کے بے تحاشہ فضول خرچیوں کی نشانی بن گیا ہے ‘‘ غریب ہو یا امیر، شادی شدہ ہو یا اکیلا ہو یا طلاق یافتہ، ہم جنس پرست ہو یا درست مزاج ٹینس کی نمائش اور فیشن شوز کے پس منظرمیںسب اپنے غم بھلا کر گھل مل جاتے ہیں ۔
Recent Comments