فوج اور فضائیہ نے طالبان کے چھکے چھڑا دئیے ہیں اور اسکا ہم پر اجتماعی نفسیاتی اثر یہ ہوا ہے کہ طالبان کا خوف ہمارے ذہنوں سے محو ہوتا جا رہا ہے۔ گو کہ دہشت گردی سے متعلق خطرات ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، تاہم یہ ضرور ہے کہ ان خطرات میں کسی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ طالبان اور دہشت گردی کی حد تک تو حکومت کی کارروائی درست ہے لیکن بھلا یہ تو بتائیے کہ صنعت و تجارت اور بینکوں سے متلعق بڑے بڑے استحصالی جھتوں سے کون نمٹے گا کیونکہ حکومت اپنی تمام تر طاقت کے باوجود ان کے سامنے بالکل بے بس اور لاچار ہے؟
لیکن واضح رہے کہ چینی کا بحران اس کثیر الجہت استحصالی مافیا کا صرف ایک ہی رخ ہے۔ پاکستان کے عوام کو اس وقت چینی کی جو قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے ، اسکا تعین مارکیٹ سے متعلق قوتوں نے نہیں کیا بلکہ یہ اس طاقتور لابی کے بائیں ہاتھ کے کمالات میں سے ایک کمال ہے۔ بہرکیف اور بالآخر حکومت نے کسی حد تک دور اندیشی ( جس کا موجودہ حالات میں ہونا غنیمت ہے) کا مظاہرہ کرتے ہوئے چینی کی درآمد کا فیصلہ کیا تاکہ مقامی سطح پر قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے لیکن پھر خدا جانے کیا ہوا کہ اس فیصلے پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ آخر کس کے دباؤ میں آکر اس فیصلے کو موخر کیا گیا؟
ضیاء الحق کے عروج کے دنوں میں شوگر مل کا مالک ہونے کا مطلب یہ تھا کہ آپ مقتدر حلقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ سو جس جس کو موقع ملا ، اس نے اپنے لئے شوگر ملز کا لائسنس لے لیا۔ آج انہی شوگر ملوں کے مالکان سیاسی منظر نامے پر چھائے ہوئے ہیں اور جب ملک کے مقتدر حلقے میں خون یا قومی جذبات کی بجائے چینی دوڑ رہی ہو تو بھلا آپ ہی بتائیے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ یہ مقتدر حلقے چینی بحران کے موقع پر خود اپنے ہی خلاف اٹھ کھڑے ہوں؟
پارلیمانی خودمختاری جمہوریت کے اہم ترین اصولوں میں سے ایک ہے لیکن ذرا ایک لمحے کو سوچئیے کہ کیا ہماری پارلیمان سیمنٹ کی قیمتوں کے تعین میں کچھ مداخلت کر سکتی ہے؟ سیمنٹ مافیا بھی ملک کا طاقتور ترین مافیا ہے۔ سیمنٹ انڈسٹری کے بڑے بڑے نام آپس میں ہی سیمنٹ کی قیمت کا تعین کر لیتے ہیں اور کوئی انکا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔
ہمیں اس حقیقت کے اظہار میں کوئی خوشی محسوس نہیں ہو رہی لیکن بہرحال یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس گناہ کے ڈانڈے 1990کی دہائی میں قائم ہونے والی حکومت سے جا ملتے ہیں جب سٹیٹ سیمنٹ کارپوریشن کو ڈی نیشنلائیز کیا گیا (ہم اس تفصیل میں نہیں جانا چاہیں گے کہ اس وقت کس کی حکومت تھی)۔ اور اس کے بعد سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور اس میں کبھی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ یہ درست ہے کہ حکومت کا کام انڈسٹری چلانا نہیں لیکن ڈی نیشنلائیزیشن کی آڑ میں کامل ڈی ریگولیشن بھی تو کوئی مناسب اقدام نہیں، کسی بھی طرح کا چیک اینڈ بیلنس نظام رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی اوریوں سیمنٹ مافیا پاکستانی عوام سے من مانی قیمتیں وصول کر کے انہیں لوٹتا رہا۔ ہمارا ضلع چکوال سیمنٹ انڈسٹری کے طاقت و اختیار کا بہترین مظہر ہے۔ جب ڈی جی خان سیمنٹ اور ملکہ ایلزبتھ کے ایک چہیتے (ہم مذاق قطعی طور پر نہیں کر رہے) نے چکوال کی تحصیل چوآ سیداں شاہ میں ایک سیمنٹ پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا تو مشرف حکومت کی پوری مشینری انکی مدد اور اعانت کے لئے بے چین ہو گئی، مشرف سے لیکر شوکت عزیز تک اور پنجاب کے چیف منسٹر پرویز الہیٰ سے لیکر ضلعی انتظامیہ تک، سبھی انکی خدمت میں جت گئے۔
ڈی جی خان سیمنٹ نے اپنے پراجیکٹ کے لئے زمین کے حصول کے سلسلے میں اچھی خاصی ہوشیاری دکھائی لیکن ملکہ عالیہ کے چہیتوں کی کمپنی نے تو مقتدر حلقوں کی اعانت و آشیر واد کے ساتھ تمام حدیں پھلانگ ڈالیں۔ پنجاب لینڈ ایکوزیشن ایکٹ جو قانونی اعتبار سے انتہائی فرسودہ ہے، اسکی مدد سے ٹھٹرال گاؤں کے قریب زمین پر زبردستی قبضہ کر لیا گیا، یہ زمین ہندوؤں کے معروف تاریخی مقام کھتاس راج کے قریب واقع ہے۔
سیمنٹ انڈسٹری کو دی جانیوالی اس بہیمانہ چھوٹ کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج پاکستان اپنی ضرورت سے زیادہ سمینٹ پیدا کر رہا ہے اور اسکا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے قدرتی ماحول کی قربانی دیکر سیمنٹ برآمد کر رہے ہیں کیونکہ موجودہ صنعتی دور میں سیمنٹ انڈسٹری زمین اور ماحول کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
جب مارگلہ کی پہاڑیوں پر چونے کے پتھروں کو نکالنے اوراسکے1300ایکڑ رقبے پر سیمنٹ پلانٹ کے قیام کا آغاز ہوا (یہ جنرل ضیاء کا تحفہ تھا) تو ہر طرف سے شور و غوغا کی آوازیں بلند ہوئیں لیکن آج چکوال کے چوآسیداں شاہ (یعنی وادی کاہون جسکی تخلیق کے وقت خالق کائنات نے بھی چند لمحوں کے لئے توقف کیا ہو گا) کے ماحول کی تباہی کا عمل مارگلہ کی پہاڑیوں سے بھی زیادہ وسیع پیمانے پر جاری ہے لیکن کسی کو کوئی فرق نہیں پڑا اور نہ ہی کسی طرف سے شورو غوغا کی آوازیں آئی ہیں۔
ہاں اس موقع پر ہم کمپیٹیشن کمیشن کے چیرمین خالد مرزا کو مبارکباد دینا چاہیں گے جنہوں نے سیمنٹ انڈسٹری کے کرتا دھرتاؤں پر بھاری جرمانے عائد کئے۔ ہم انکے لئے دعا گو رہیں گے اور ساتھ ہی یہ دعا بھی کریں گے کہ اللہ عز و جل اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بنجر سرزمین میں ان جیسے اور سپوت بھی پیدا فرمائے۔
اب ہم روئے سخن موڑتے ہیں بینکنگ مافیا کی جانب جو بلا جھجک اور بلا خوف و خطر بیچارے عوام کے ساتھ سانپ اور سیڑھی والا کھیل، کھیل رہا ہے ۔مشرف دور میں اس مافیا کے سرپرست اعلیٰ یا یوں کہیں مربی و پشت پناہ شوکت عزیز تھے جو خود بھی خاصے سے زیادہ ہوشیار بینکار تھے (آخر ہماری اقتصادی بدحالی کے تذکرے میں شوکت عزیز کا نام نامی ہی کیوں بار بار چلا آرہا ہے؟) سو شوکت عزیز صاحب کے دور میں بینکنگ سیکٹر کوکافی سے زیادہ شاہانہ مراعات سے نوازا گیا اور یوں بینکوں کے خزانے تو بھرتے رہے لیکن بیچارے عوام لٹتے رہے ۔
بینکوں کے ذریعے لوٹ مار کے اس سلسلے کے لئے بہت سادہ سا میکنزم استعمال کیا گیا۔ ہم نے ابھی ابھی اپنے بینک کو فون کیا کہ ہمیں ہمارے اکاؤنٹ کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ پتہ چلا کہ ہمارے ڈیپازٹ پر ہمیں 5فیصد منافع ملے گا جبکہ قرضوں پر شرح سود تقریباً 19فیصد ہے۔ مشرف کے دور میں تو ڈیپازٹ پر منافع کی شرح دو فیصد ہو گئی تھی، سو دن دہاڑے لوٹ مار کی گھناؤنی واردات اس سے بڑھ کر بھلا اور کیا ہو گی۔
اب اس سلسلہ واردات میں اہم نکتہ یہ ہے کہ امیروں کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا، وہ ہر قسم کے حالات میں اپنے لئے محفوظ راستے تلاش کر لیتے ہیں۔ قرضوں پر شرح سود میں اضافہ ہو یا ڈیپازٹ میں کمی، انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ذرا بھی طاقت واقتدار پاس ہو تو قرضے معاف کروانا کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔
ہمارے بینک جس طرح سے قرضے معاف کرتے ہیں، وہ کسی اور ملک میں ہوتا تو سکینڈل بن جاتے لیکن یہاں یہ ایک نارمل سی بات ہے اور شاید اس پر کوئی بات کرنا پسند بھی نہیں کرتا۔ یہ مشرف کے اوائل دنوں کا قصہ ہے کہ ہم نے اپنے کسی کالم میں چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہیٰ کی تجارتی صلاحیتوں پر کچھ تبصرہ کیا تھا، جس پر ان صاحبان نے ہمارے اعزاز میں ایک ظہرانہ دے دیا اور اس ظہرانے کے موقع پر اپنی طرف سے معاملات کی وضاحت کرتے رہے۔ چوہدری شجاعت حسین نے اپنے چہرے پر انتہائی سنجیدگی طاری کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے بینکوں کے ساتھ معاملات باقاعدگی سے طے کئے ہیں اور ہم نے اپنی طرف سے انہیں یقین دلایا کہ ہمیں انکے ارشاد پر ذرا بھر بھی شک نہیں۔ سو انکے جتنے بھی قرضے معاف ہوئے اور یقین مانیں کہ یہ اچھے خاصے بھاری قرضے تھے، یہ سبھی رجسٹروں اور بہی کھاتوں میں درج ہوکر معاف ہوئے۔
یہ دونوں چوہدری صاحبان اپنی مہمان نوازی کے لئے بہت مشہور ہیں۔ لیکن انکی مہمان نوازی کے متعلق بس اتنا ہی کہیں گے کہ اگر ہمیں اس قرضے کا سواں حصہ بھی مل جاتا اور ہمیں اسے واپس نہ کرنا پڑتا تو ہمارا دسترخوان ہمالیہ سے بحیرہ عرب تک پھیلا ہوتا اور جناب جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہمارے تو ایک ہی بینکار دوست ہیں جن کا نام نامی علی رضا ہے، موصوف نیشنل بنک سے تعلق رکھتے ہیں اور ہم سے اتنا تعلق ہے کہ ہم اب تک ان سے صرف کمپلیمنٹس ہی وصول کر پائے ہیں اور یہ ایسا قرضہ نہیں جسے ہم لوٹا نہ سکیں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہاں تو قرضے لیکر کر نہ لوٹانا ایک سٹیٹس سمبل بن چکا ہے۔
پاکستان میں سیاستدان ایک عجیب مخمصے کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں اور گویا ملک تو انہی کے دم قدم سے آباد ہے لیکن صاحبان حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کو صنعتکار، تاجر، بینکار اور رئیل پراپرٹی بزنس مین چلا رہے ہیں، جنرل ہیڈ کوارٹر میں موجود سرخ فیتے پہننے والے بھی ان کے آگے بے بس و لاچار ہیں، سو حقیقی اقتدار تو ان تاجروں، صنعتکاروں، بینکاروں کے پاس ہے اور سیاستدان تو صرف انکا ایک چہرہ ہیں، یہاں باگ ڈور تو کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔

http://www.dailyjinnah.com/?p=25175

  One Response to “کون زیادہ طاقتور ہے، طالبان یا شوگر ملز مالکان۔۔۔۔ ایاز میر”

  1. Great article, it is true the blood of this country is being sucked by such parasites, indeed Pakistan is governed by these white collar parasites.

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha