چند برس قبل مجھے لاہور کے مشہور امراض قلب کے ہسپتال (پی آئی سی) میں جانا پڑا۔ کہیں یہ نہ سمجھ لیجئے گا کہ میں دل کا مریض ہوں۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں نہایت نرم دل رکھنے کے باوجود ابھی تک امراض سے محفوظ ہوں۔ ایک مریض کے معائنے کے لئے ہارٹ سپیشلسٹ سے وقت لے رکھا تھا اور ہم دونوں اس ڈاکٹر کے انتظار میں بیٹھے تھے کہ اتنے میں سپریم کورٹ کے دو جج صاحبان تشریف لے آئے۔ ان میں سے ایک حاضر سروس تھے اور دوسرے سابق جج حالانکہ میرا مشاہدہ ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے آتے ہی ڈاکٹر صاحب کے بارے میں دریافت کیا تو انہیں بتایا گیا کہ وہ آپریشن کر رہے ہیں اور تھوڑی دیر میں آنے والے ہیں۔ حاضر سروس جج صاحب کی انجو گرافی ہونی تھی اور انہوں نے ڈاکٹر صاحب سے وقت لے رکھا تھا۔ چنانچہ انہیں غصہ آ گیا اور انہوں نے اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے درشت لہجے میں کہا کہ ڈاکٹر نے مجھے صبح 9 بجے کا وقت دیا تھا لیکن خود موجود نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے اسسٹنٹ نے جج صاحب کے غصے کو بھانپتے ہوئے التجا کی کہ بس وہ آنے ہی والے ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد ڈاکٹر صاحب آپریشن سے فارغ ہو کر آ گئے اور انہوں نے جج صاحب کا گرمجوشی سے استقبال کرتے ہوئے تاخیر پر معذرت کی۔ اس موقع پر جج صاحب نے ایک ایسا تاریخی فقرہ کہا جو میرے ذہن پر نقش ہو گیا۔ مجھے جب بھی وہ فقرہ یاد آتا ہے میں مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جج صاحب نے غصے سے ڈاکٹر صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی جج ہسپتال میں قدم رکھتا ہے تو سارا ہسپتال اس کی ڈسپوزل (رحم و کرم) پر ہوتا ہے۔ جج صاحب سے میرا معمولی سا تعارف تھا۔ میں مسکرایا تو وہ جھینپ گئے اور ان کے ساتھی سابق جج صاحب وضاحتیں کرنے لگے۔ ڈاکٹر صاحب نے میرے ساتھی مریض کی جانب توجہ کرنی چاہی تو میں نے نہایت سنجیدگی سے عرض کیا کہ ڈاکٹر صاحب! اب سارا ہسپتال جج صاحب کی ڈسپوزل پر ہے۔ براہ کرم ان کی انجو گرافی کر لیں۔ ہم انتظار کرتے ہیں ورنہ خطرہ ہے کہ ہمیں توہین عدالت میں جیل بھجوا دیا جائے گا۔ اس پر مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا اور بات آئی گئی ہو گئی۔
میں تو اس واقعے کو بھول گیا تھا اگرچہ یہ اپنی جگہ دیوان سنگھ مفتون کی کتاب ناقابل فراموش کا حصہ ہے لیکن آج جناب علی احمد کرد کا ایک بیان پڑھ کر اس واقعے کی یاد تازہ ہو گئی۔ آپ جانتے ہیں کہ علی احمد کرد ہماری وکلاء تحریک کے ناقابل فراموش کردار ہیں۔ وہ معزول ججوں کی بحالی کی تحریک میں نہ ہی صرف پیش پیش رہے بلکہ پولیس کی لاٹھیاں بھی کھاتے رہے اور حوالات کے مزے بھی لیتے رہے۔ وہ جب اپنی پتلی کمریا کو بل دے کر اور باغی بالوں کی لٹ کو جھٹک کر نوکدار انگلی لہراتے اور زبان سے شعلے برساتے تو ان کے سامنے بیٹھے ہوئے وکلاء جوش میں ہوش سے محروم ہو کر اس قدر نعرے بازی کرتے کہ یوں لگتا جیسے آسمان پھٹ پڑے گا۔ ویسے دوستو! جوش میں ہوش کو کھونا اور وفا داری کی لہر میں بہہ کر بردباری کو کھو دینا قدرتی بات لگتی ہے ورنہ عزیزی صدیق الفاروق میاں نواز شرف پر آئی ایس آئی سے پینتیس لاکھ (ساڑھے تین ملین) روپے لینے کے الزام میں اس راز سے ہرگز پردہ نہ اٹھاتا کہ میاں صاحب کا تو یومیہ خرچ پینتیس لاکھ روپے ہے کیونکہ پاکستان جیسے غریب ملک میں جہاں عوام صرف پنتیس روپوں کے لئے دن بھر ذلیل و خوار ہوتے رہتے ہیں وہاں کسی عوامی لیڈر کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کا یومیہ خرچ پنتیس لاکھ روپے ہے اس لیڈر کے حق میں نہیں جاتا۔ یہ کہہ دینا کافی تھا کہ میاں صاحب اس وقت وزیر اعلیٰ پنجاب تھے اور ان کے وسائل کے مطابق اس رقم کی کوئی حیثیت نہیں۔ بہرحال جوش میں ہوش کا گم ہو جانا قدرتی بات ہے اسی لئے جب عزیزم احسن اقبال اپنے پیارے مخالفین کو الٹی میٹم دیتے ہیں اور ادھر سے چودھری قمر الزمان کائرہ جواب دیتے ہیں کہ اپنا شوق پورا کر لیجئے تو لوگ اس سیاسی اداکاری پر اسی طرح لوٹ پوٹ ہو جاتے ہیں جس طرح وہ کسی مزاحیہ اداکار کی اداکاری پر لوٹ پوٹ ہوتے ہیں۔ یارو معاف کیجئے گا بات پھر سیاست کی طرف نکل گئی حالانکہ میں اپنی سیاست کے مردہ گھوڑے کو چابک مارنے پر وقت ضائع نہیں کرتا کیونکہ میں صبح سے رات تک اخبارات میں بے جان سیاسی تجزیئے پڑھ پڑھ کر اور ٹی وی چینلوں پر گھسی پٹی باتیں سن سن کر تنگ آ چکا ہوں۔ ہاں تو ذکر ہو رہا تھا علی احمد کرد صاحب کا جو آج کل سپریم کورٹ بار کے صدر ہیں اور جنہوں نے وکلاء تحریک میں بڑا نمایاں کردار سرانجام دیا تھا۔ کرد صاحب نے نہایت سے کہا ہے کہ ججوں کی بحالی کے باوجود کچھ بھی نہیں بدلا، نہ ہی ہماری جدوجہد کا کوئی نتیجہ نکلا ہے۔ اسی طرح اندر فرعون بیٹھے ہوئے ہیں۔ ججوں کو انصاف دینے کی بجائے مقدمات نپٹانے سے غرض ہے وغیرہ وغیرہ۔
کرد صاحب کا بیان پڑھ کر مجھے سعادت حسن منٹو کا شاہکار افسانہ نیا قانون یاد آ گیا۔ اگر آپ نے نہیں پڑھا تو اب پڑھ لیں۔ اس افسانے کا ہیرو ایک ٹانگے والا ہے جو سمجھتا ہے کہ چودہ اگست 1947ء کو آزادی ملنے کے بعد دنیا بدل چکی ہے، وہ آزاد ہو چکا ہے اور انگریز جا چکے ہیں۔ جب پولیس کا سپاہی اسے روکتا اور چالان کرتا ہے تو اس کے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں کچھ اسی طرح کی قیامت کرد صاحب پر بھی گزری ہے ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ بہت کچھ بدلا ہے اور مختلف عدالتوں کے جج صاحبان ہر روز اعلان کر رہے ہیں کہ وہ مکمل طور پر آزاد ہیں اور وہ انتظامیہ کو نکیل ڈالیں گے۔ اگرچہ لوگوں کو افسوس ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے 31 جولائی کے فیصلے میں نومبر 2007ء کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دینے کے باوجود مشرف کو کھلا چھوڑ دیا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کسی ڈیل یا دباؤ کا نتیجہ ہو سکتا ہے لیکن اس کے باوجود عوام خوش ہیں کہ آئندہ کوئی جج پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھائے گا اور نہ ہی کسی آمر کی حمائت کرے گا۔ بہرحال وقت بتائے گا کہ کیا ہوتا ہے کیونکہ اگر آئین کا سیکشن چھ بے اثر اور بے معنی ہو سکتا ہے تو ان وعدوں کا کیا اعتبار؟ کرد صاحب کا یہ گلہ درست نہیں کہ کچھ نہیں بدلا کیونکہ میں کل سٹور سے چینی لینے گیا تو چینی پچاس روپے کلو بک رہی تھی۔ میں نے دکاندار کو ہائیکورٹ کا فیصلہ یاد دلایا تو وہ مسکرا کر کہنے لگا کہ عدالتوں سے کہیں کہ وہ اپنے سٹور کھول لیں، ہمارے ہاں تو یہ اسی ریٹ پر ملے گی کیونکہ ہم خسارے پر کیسے فروخت کریں۔ پھر کہنے لگا کہ اب پشاور ہائیکورٹ نے صوبے بھر میں چینی کی تقسیم کو کنٹرول کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اب سول جج چینی بیچا کریں گے۔ میں دکان سے نکل رہا تھا تو اس نے آواز دے کر کہا کہ ڈاکٹر صاحب گزشتہ دنوں عدلیہ نے پی آئی اے میں سفر کیا تھا اور تاخیر کا نوٹس لے کر ہلچل مچا دی تھی۔ جہاز بدستور لیٹ ہو رہے ہیں۔ چینی کے علاوہ دودھ سبزی پھل اور دیگر اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ ہمیں انتظار ہے کہ عدلیہ کب ان کی قیمتیں طے کرتی ہے۔ میں اس کی باتیں سن کر راستہ بھر سوچتا رہا کہ علی احمد کرد یہ کیسے کہتے ہیں کہ کچھ نہیں بدلا۔؟؟

Source: Daily Jang, 12-09-09

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. یہ نفرت نہیں، ہماری تاریخ ہے ….…ڈاکٹر صفدر محمود
  2. ڈراؤنے خواب؟-ڈاکٹر صفدر محمود
  3. رونے سے لے کر ہنسنے تک – ڈاکٹر صفدر محمود
  4. صوبائی خود مختاری اور میرے پیارے دانشور- ڈاکٹر صفدر محمود
  5. عیشی پٹھا-ڈاکٹر صفدر محمود

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha