میرا ایک دوست بہت ذہین ہے تاہم اس کا ذہن کاروباری معاملات میں زیادہ فعال نظر آتا ہے، اسے ہرروز نت نئے کاروبار سوجھتے ہیں لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے مار کھاجاتا ہے اور یوں اس کا کوئی خواب شرمندہ ٴ تعبیر نہیں ہوتا۔ گزشتہ روز وہ دو تین نئے آئیڈیاز کے ساتھ میرے پاس آیا اور کچھ کاروباری ”پروپوزلز“ میرے ساتھ ”ڈسکس“ کیں۔ میں اس معاملے میں بالکل پھسڈی واقع ہوا ہوں چنانچہ اس کا ”مصرعہ“ تو اٹھاتا رہا لیکن کوئی حتمی بات نہیں کی۔
ایک تجویز جو اس نے میرے سامنے پیش کی اس کا تعلق سیاسی جماعتوں پر لگائے جانے والے الزامات سے تھا۔اس کا کہنا تھا کہ ہماری سیاسی جماعتیں ساری عمر الزامات کی کالک منہ پرلگائے شرمندہ شرمندہ سی پھرتی نظر آتی ہیں۔ حالانکہ میں انہیں بچوں کی طرح معصوم ثابت کرسکتا ہوں اس نے بتایاکہ اس کا اردہ ایک کاروباری ادارہ ”سیاسی ڈرائی کلینرز“ کے نام سے کھولنے کا ہے۔جس کی شاخیں پاکستان کے چاروں صوبوں میں ہوں گی اور جہاں سیاسی جماعتوں کی داغ دھبوں سے بھری ہوئی پوشاکیں ڈرائی کلین کی جائیں گی چنانچہ جب وہ نئی پوشاک کے ساتھ عوام کے سامنے آئیں گی تو عوام سو جان سے ان پر فدا ہوجائیں گے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم یہ کام کیسے کروں گے؟ اس نے جواب دیا ”یہ ایک بڑا پروجیکٹ ہے اس میں قوم کے تمام طبقوں سے تعاون حاصل کرنا پڑے گا۔ اگر کوئی خوشدلی سے تعاون کرے گا تو اس سے ہمارا کام آسان ہو جائے گا اور Costبھی کم ہو جائے گی۔ بصورت ِ دیگر تمام حربے استعمال کئے جائیں گے۔“ میں نے پوچھا کہ ان ”تمام حربوں“ کے لئے سرمایہ کہاں سے آئے گا؟ بولا میں یہ کام کوئی خدمت ِ خلق کے جذبے سے نہیں کر رہا بلکہ میرا یہ کاروبارہے چنانچہ میں سیاسی جماعتوں سے ان کی ڈرائی کلیننگ کا پورا پورا معاوضہ وصول کروں گا۔
اس حوالے سے ایک بات اور بھی میرے ذہن میں تھی او ر وہ یہ کہ کچھ جماعتیں عمومی طورپر صاف ستھری ہیں لیکن ایک آدھا داغ دھبہ تو ان کے دامن پربھی نظر آتا ہے چنانچہ دوست سے میرا سوال تھا کہ ان کا کیا کرو گے؟ دوست نے جواب دیا ”ویسے تو یہ داغ اچھے ہوتے ہیں تاہم ان کے لئے بھی میں ایک سیاسی ڈیٹرجنٹ پاؤڈر مارکیٹ میں لاؤں گا، جو اپنا کام چند بیانات اور چند دکھاوے کے اقدامات کے ذریعے فوری طورپر دکھائے گا۔ اسی طرح چہرے کے داغ دھبے دورکرنے کے لئے ایک سیاسی کریم کی تیاری بھی میرے پروگرام میں شامل ہے جسے چہرے پر لگاتے ہی متعلقہ سیاست دانوں کے چہروں کے داغ دھبے عوام کی نظرں سے غائب ہو جائیں گے اور انہیں ان کے چہرے نورانی نظرآنے لگیں گے۔ متذکرہ ڈیٹرجنٹ پاؤڈر اور کریم وہ لوٹے سیاستدان بھی استعمال کرسکیں گے جو کسی لالچ نہیں بلکہ محض اپنی بزدلی کی وجہ سے لوٹا بننے پر مجبور ہوگئے تھے، انہیں یہ پروڈکس رعایتی نرخوں پرفراہم کی جائیں گی۔
میرا ایک سوال یہ بھی تھا کہ سیاسی جماعتوں کو گندہ کرنے کا کام توخفیہ ادارے کیاکرتے ہیں چنانچہ جب تم انہیں صاف ستھرا بنا کر پیش کرو گے تو کیا وہ تمہارے منصوبوں میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے؟ بولا ”میں جتنا بے وقوف نظر آتا ہوں، اتنا ہوں نہیں ۔ خفیہ اداروں کی ضرورتیں مختلف ادوار میں بدلتی رہتی ہیں، ممکن ہے ان دنوں ان کی ضرورت یہی ہو کہ بدنام سیاسی جماعتوں کی ڈرائی کلیننگ کرکے انہیں عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ان سے ایک بار پھر کوئی کام لیا جاسکے۔ نیز یہ بھی یاد رکھو کہ اب ہمارے ہاں غیرملکی خفیہ ادارے بھی سرگرم عمل ہیں اور ان کی بھی کچھ ضرورتیں ہیں جس کے مطابق انہوں نے کچھ چہرے مسخ کرنے اور کچھ کی پلاسٹک سرجری کا پلان بنا رکھا ہے لہٰذا فکر نہ کرو، میں جو کام بھی کروں گا ”وسیع مشاورت“ کے بعد ہی کروں گا، میرا پراجیکٹ جتنا بڑا ہے اس کے لئے صرف سیاسی جماعتوں کے”عطیات“ کافی نہیں ہوں گے ادھر ادھر سے بھی فنڈز اکٹھا کرنا پڑیں گے!“
میں نے اس سے ایک آخری سوال کیا ”ملک میں جو جماعتیں بظاہر نسبتاًاچھا کام کر رہی ہیں ان کے متعلق تم نے کیا سوچا ہے؟“ بولا ”ان کے بارے میں میں کنفیوزڈ ہوں تاہم میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ان کے منہ پر بھی کالک مل ہی دینا چاہئے اور کبھی یہ کہ انہیں زیادہ سے زیادہ خوبصورت بنا کر پیش کیاجائے تاہم اس کا فیصلہ ان جماعتوں کے بڑوں سے بات کرنے کے بعد ہی ہوسکے گاکہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ میں نے ہنستے ہوئے کہا ”وہ تو یہی چاہیں گے کہ ان کی کردار کشی کی بجائے ان کی امیج بلڈنگ کی جائے!“ یہ سن کر اس کا چہرہ ایک دم خوفناک سا ہو گیا۔ مجھے ایسے لگا جیسے ڈریکولا میرے سامنے بیٹھا ہے۔ اس نے مجھے گھور کر دیکھااور بولا”ان کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے؟ جو ہونا ہے وہ میرے چاہنے سے ہوتاہے۔“ یہ کہتے ہوئے وہ پھر واپس نارمل موڈ میں آ گیا اور ایک آنکھ میچتے ہوئے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا ”تم میرے کاروباری منصوبوں میں میرے پارٹنر کیوں نہیں بن جاتے؟میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا ”بن توجاتا لیکن مجھے یہ گھاٹے کا سودا لگتا ہے کیونکہ عوام اب باشعورہوگئے ہیں، انہوں نے اپنی آنکھیں کھلی رکھی ہوئی ہیں چنانچہ مجھے یقین ہے کہ تم اس کاروبار میں بہت نقصان اٹھاؤں گے۔ د روازے تک پہنچ کر وہ ایک لمحے کے لئے رکا اور مجھے مخاطب کرکے کہا ”ایک بات یاد رکھو عوام چاہے امریکہ کے ہوں یا پاکستان کے اور وہ چاہے کتنے ہی باشعورہوجائیں انہیں ہر دور میں بہرحال بیوقوف بنایا جاسکتا ہے اگر تمہار ے پاس پڑھنے کے لئے وقت ہو تو پاکستان سمیت مختلف ملکوں کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ ضرور کرنا، تمہیں اندازہ ہو جائے گا کہ عوام کو کن کن مواقع پر کیسے کیسے بے وقوف بنایا گیا تھا… خدا حافظ“ اس کے جانے کے بعد میں سوچتا رہ گیا کہ کسی بھی شخص کے ڈریکولا بننے میں کتنی دیر لگتی ہے؟ کبھی دس بیس سال اور کبھی ایک لمحہ! یہ غالباً اس کی استعداد پرمنحصر ہے
Source: http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=373569
Related posts:








Recent Comments