صدر آصف علی زرداری نے پچھلے 12ماہ میں اپنی گرمجوشی اور ولولہ ثابت کیا ہے ۔ انکی نمائندہ فرح اسفہانی کی ایسا ہی کہنا ہے ۔ فرح اسفہانی پر اعتبار کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ صدر زردار ی کی کامیابیاں اور ناکامیاں ان کا ماضی اور حال قابل غور ہے اور مستقبل میں ا س پر اہم نتائج مرتب ہونگے ۔ صدر زرداری کی ناکامیوں پر میڈیا میں بحث چلتی رہے گی۔
ان کی ناکامیوں میں اگرچہ انکا میثاق جمہوریت لاگو کرنے اور ججوں کو بحال کرنے کے وعدے کو توڑنا بھی آتا ہے لیکن معاشی انحطاط اور جنرل مشرف کو محفوظ راستہ دینے کا معاھدہ بھی انکے کھاتے میں ہی آتا ہے اگرچہ انہیں پوری دنیا میںبھی معاشی گراوٹ اور اندرونی دہشت گردی ورثے میں ملی جو ملک کو مزید نیچے لے گئیں۔ اسی طرح جنرل مشرف کو باحفاظت باہر نکالنے کا مطالبہ پاکستانی فوج اور عالمی برادری کا تھا جن کا پاکستانی سیاست میں اہم کردار ہے اور انکی رٹ کو چیلنج کرنا آسان بھی نہیں۔ یہ بات حقیقت ہے کہ زرداری ایک ’’گڈ گورننس‘‘قائم کرنے میں ناکام رہے لیکن جزوی طور پر حزب اختلاف کی جانب سے سیاسی چیلنجز کو ٹالنے میں مصروف ہونے کا نتیجہ ہے اور اسی طرح ذمہ دارکچھ وہ حالات بھی ہیں جن میں مایوس پارٹی ذمہ داران کو انتخابات میں شرکت کرنا پڑی اورآخر کار زرداری کو اپنے سیاسی منصوبے سے ہٹ کر وزیر مالیات چننا پڑا۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ انہوںنے اپنوں کو نوازنے کے شوق کے ہاتھو ں مغلوب ہو کر پبلک سیکٹرمیں مشکوک شہرت کے حامل افراد کے ہاتھو ں میں دے دیا اس چیز نے بھی ناقدین کو ان پر کیچڑ اچھالنے کا موقع دیا۔
بد قسمتی سے وہ کچھ ذاتی کامیابیاں حاصل کرنے میں بھی ناکام رہے ۔ مثال کے طورپر جب انہوں نے بے نظیر بھٹو سے شادی کی تو ان کے بارے میں یہ تاثر عام کیا گیا کہ انہوں نے ایسا ذاتی مفادات کے لئے کیا اورایک زمیندار اور اشرافیہ طبقے سے تعلق رکھنے والادخترمشرق سے بیاہ رچانے کا اہل نہیں۔ ان کی شہرت اس وقت زیادہ داغدارہوئی جب بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں انہوں نے مسٹر ٹین پرسنٹ کا خطاب حاصل کیا۔
انکی شکایت جو کہ اتنی مناسب نہیں ہے کہ وہ دو حکومتوں کے دوران کمیشن کے سامنے کسی جرم کا اقرارکیے بغیر 8سال جیل میں رہے لیکن پھر بھی ان کی شہرت میں بہتری نہ آسکی دوسری طرف ان سے بڑے سیاسی پنڈتوں کے پاس اندرون ملک اور سکاٹ لینڈ سمیت باہر کے ملکوں میں بے شمار دولت اور جائیدادیں ہیں لیکن وہ پھر بھی میڈیا کے منظورنظر ہیں ۔ ان پر کوئی انگلی نہیں اٹھاتا۔
اس کے باوجود زرداری کی کامیابیاں بھی بڑی اہم ہیں۔ ان کی کامیابیوں میں ایک تو یہ ہے کہ انہوں نے میڈیا کی پیدا کردہ عوام کے طالبان بارے امریکہ مخالف ہیرو کے تصور کو خون کے پیاسے ، جاہل بدمعاشوں کے تصور میں تبدیل کرنے میں مدد کی۔ انکی دوسری کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے پاکستانی فوج کو بھارت کو ’’بیرونی دشمن ‘‘ کے طور پر پیش کرتے رہنے کے بجائے ’’اندرونی دشمنوں ‘‘کے طور پر طالبان کے خلاف کھڑا کردیا۔ انکی تیسری کامیابی یہ ہے کہ انہوںنے امریکہ کو یہ باور کرایا کہ کابل کا راستہ اسلام آباد سے ہو کرگزرتا ہے اور اسے اس بات کے لئے تیار کیا کہ طالبان کو پچھاڑنے کے لئے وہ طالبان کو پچھاڑنے کے لئے پاکستانی فوج کو نیا اسلحہ دے ۔صحت ، تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لئے معیشت میں فنڈز ڈالے جائیں اور کیسے بھی مشتعل انگیز حالات میں بھارت کو کسی قسم کی مہم جوئی سے باز رکھنے کی پالیسی بنانے اور اسے جاری رکھنے میں پاکستان کی مدد کی جائے ۔ یہ تینو ں چھوٹی کامیابیاں نہیں ۔
اگرچہ ان کے کچھ فیصلے جلد بازی میں اور منفی انداز میں کیے گئے ۔اسی طرح ان کی کچھ تعیناتیاں اور ترقیاں زیادہ قابل بھروسہ نہیں لیکن خارجہ پالیسی میں ان کی عملیت اور حقیقت پسندی اورملکی سیاست میں اپنے پاؤں جمائے رکھنے نے انکا ، انکی پارٹی اور حکومت کا مستقبل محفوظ کردیا ہے ۔ انکا اگلا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے؟
ان کے مد مقابل چار قوتیں ہیں ۔پہلی قوت نواز شریف کی زیر سرپرستی اپوزیشن ہے ۔ نوازشریف اونچی آواز والے مقبول سیاستدان ہیں ۔ زرداری کو انہیں کسی دوسرے بڑے ’’لانگ مارچ ‘‘کامسئلہ پیدا کرنے کی دعوت دیے بغیر فاصلے پر رکھنا ہے ۔
اسکا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے آئین میںترمیم اور اسے مزید جمہوری بنانے کے جائزمطالبے کو تسلیم کر لیا جائے ۔ انہیں بروقت مفاہمت کا فن استعمال کرنے کی ضرورت ہے ۔
دوسری طاقت فوج کی ہے ۔ فوج کے اختیارات کو انتہائی محدودکرنے کی فوری کوشش احمقانہ ثابت ہوگی۔ لیکن قومی سیکیورٹی کے معاملات میں اسے غیر عقلی اقدامات کی اجازت دینے سے بھی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔لہدا نرمی سے مگر قطعی طور پراسے تعاون کرنے والا بنانا ہوگا۔
تیسری قوت امریکہ ہے جو حکومت کے بجٹ اور فوج دونوں کو روٹی اور مکھن فراہم کررہا ہے اگر پاکستان ’’Do More‘‘ سے اتفاق کرتا ہے تو امریکہ اپنی امداد بھی جاری رکھے گا ورنہ نہیں۔
ایک طرف سے اعتبار کی کمی اور دوسری طرف سے امریکہ مخالف طرز عمل کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے زرداری کو چاہیے کہ وہ ہمہ پہلو غیر جذباتی اور عملی طریقہ کار اختیار کریں۔
چوتھی طاقت انقلابی سیاسی اسلام کا چیلنج ہے ۔ اس کی تاریخ ریاست کے زیر حمایت عنصر کے طور پر 30سال پرانی ہے۔ اس طوفان کا رخ موڑنے کے لئے معاشرے اور ریاست میں ایک اتفاق پیداکرنے کی ضرورت ہے ۔ بلاشبہ یہ مقصد صبر ، دو راندیشی اور حوصلے سے ہی حاصل ہو سکتا ہے ۔کیا زردار ی درست طور پر کام کر رہے ہیں؟
ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے پہلے سال کے اپنا صرف ایک تہائی وقت اپنے آفس میں گزارا ہے۔ اگر انہوں نے اپنے کثیر طرفہ مقاصد میں سے کوئی بھی قابل ستائش کامیابی حاصل کی ہوتی تو کسی کو بھی ان کے ان اسفارپر اعتراض نہ ہوتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ لہذا انہیں زیادہ وقت اپنے ملک میں رہ کر اپنی پارٹی، حکومت اورملک کو درپیش مسائل کا سامنا کرنے میں گزارنا چاہیے ۔ایک رہنما اپنی اس ٹیم سے پہچانا جاتا ہے جسے وہ بناتا ہے اورجس کی وہ راہنمائی کرتا ہے ۔ اور آخر میں نیک ارادوں نہیں بلکہ بھرپور کارکردگی کی ہی اہمیت ہوتی ہے۔ اس پہلو سے ان کی کارکردگی بظاہر قابل اطمینان ہے ۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی 5سالہ مدت پوری کریں اور دوبارہ کامیابی حاصل کرکے اپنا سفرجاری رکھیں تو اگلے سال انہیں اپنی کارکردگی میں نمایا ں بہتری لانا ہو گی۔
Source: Daily Jinnah
Related posts:








Recent Comments