جدید دنیا بھارتی آئین میں freedom of expression اور سیکولرازم کے حوالے سے دئیے گئے تحفظات کی روشنی میں بھارت کو جنوبی ایشیا میں روشنی کا مینارہ سمجھتی ہے ۔بھارتی سیکولرازم کے بانی اور ہندوستان کی آزادی کے ایک اہم سیاسی رہنما جواہر لال نہرو خود اپنی کتاب ،،تلاشِ ہند ،، میں لکھتے ہیں کہ ،،ہندوستان کی وحدت کے دائرے کے اندر رسوم و عقائد کے معاملے میں انتہائی رواداری برتی جاتی اور اختلافِ رائے کو نہ صرف جائز بلکہ اچھا سمجھا جاتا ہے ’’لیکن 23 فروری 1956 میں ہندو انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کے پس منظر میں بھارتی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے جواہر لال نہرو کے یہ الفاظ بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں‘‘ہم ہندوستانیوں کی شخصیت شکستہ نظر آتی ہے ، ہم بات تو عدم تشدد کی کرتے ہیں۔اپنے عظیم کلچر اور تہذیب کی کرتے ہیں لیکن ہمارا روزمرہ کا رویہ اتنا نیچے آ چکا ہے جسے ہم کسی طرح بھی شائستہ نہیں کہہ سکتے ‘‘۔ بھارت کی اہم سیاسی جماعتوں ، خواہ وہ برسراقتدار کانگریس پارٹی ہو یا اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ہو ، میں قول و فعل کے اِسی تضاد کے باعث، آزادیء فکر و خیال کے حوالے سے جواہر لال نہرو کی بیان کردہ تقریباً یہی غیر شائستہ صورتحال آج کے بھارت میں بھی بدرجہ اُتم نظر آتی ہے ۔ بھارت کے ایک سابق وزیر خارجہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سرکردہ لیڈر جسونت سنگھ نے جب ہندوستان کی وحدت کے حوالے سے ” جناح ۔ بھارت ، تقسیم ، آزادی ” کے عنوان سے اپنی حالیہ کتاب میں ماضی کے مقتدر ہندوستانی سیاست دانوں کے قول و فعل کا جائزہ لینے کی کوشش کی تو بھارتی سیکولرازم نے ہندوستان کے طول و ارض میں جس طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے ، اُسے کسی طرح بھی ، شائستہ ، قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ بھارت میں یہ سب ہا ہا کار ، جسونت سنگھ کی جانب سے ایک بے مثال لیڈر کے طور پر قائداعظم کی تعریف کرنے اور تقسیم ہند کا ذمہ دار قائداعظم کی بجائے ماضی کی مقتدر بھارتی لیڈرشپ (نہرو ، گاندہی اور پٹیل ) کو قرار دینے کے باعث مچی ہے بھارت میں آزادی ء فکرو خیال اور سیکولرازم کے وچار کو اُس وقت بھی شدید چوٹ لگی جب ملک کی سب سے بڑی روشن خیال کانگریس پارٹی کے متحرک کارکنوں نے جسونت سنگھ کی کتاب کے مندرجات کو ماضی کی کانگریسی لیڈرشپ کے خلاف مہم گردانتے ہوئے ملک گیر احتجاج کیا اور کئی جگہ کتاب کو نذر آتش کیا گیا ۔ حیرانی کی بات ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جسے ہندو توا کی حامی متشدد عسکریت پسند فکر و نظر رکھنے والی ہندو انتہا پسند تنظیم ’’ راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ ‘‘ کے سیاسی ونگ سے تعبیر کیا جاتا ہے ، نے جسونت سنگھ کو یہ کتاب لکھنے کی پاداش میں نہ صرف پارٹی سے نکال باہر کیا ہے بلکہ پارٹی کے نام نہاد روشن خیال منشور کے برعکس بی جے پی کے انتہا پسند ہندوؤں نے کتاب میں درج قائداعظم کیلئے تہنیتی کلمات کو برداشت نہ کرتے ہوئے کتاب کو شدت پسندی کا نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کیا ہے ۔ یہ سب کچھ اِس کے باوجود کیا گیا ہے جبکہ بھارتی شہری اور قائداعظم محمد علی جناح کے نواسے نسلی واڈیا نے اِس اَمر کی پرزور تردید کہ اُنہوں نے ہندوستان کی آزادی کے حوالے سے جناح کی خدمات پر اِس کتاب کے شائع ہونے پر جسونت سنگھ کو کسی قسم کی مالی امداد فراہم کی تھی ۔
دراصل جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں جس موضوع پر قلم اُٹھایا ہے ، اُسے تقسیم ہند سے قبل برطانوی حکومت ہند کی جانب سے ہندوستان کی وحدت کو ممکن بنانے کیلئے کیبنٹ مشن پلان کے حوالے سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے ۔ یہ کوئی نیا موضوع نہیں بلکہ اِس سے قبل اِسی نوعیت کے موضوعات پر مہاتما گاندہی کے پوتے راج موہن گاندہی ، مولانا ابوالکلام آزاد ، عائشہ جلال اور ایچ ایم سیروائی کے علاوہ کچھ انگریز مورخین بھی اپنی کتابوں میں سیر حاصل گفتگو کر چکے ہیں ۔ جسونت سنگھ شاید اِس صورتحال سے ایک قدم آگے نکل گئے کیونکہ اُنہوں نے بھارتی مزاج کے خلاف آزادی کی تحریک کے مختلف ادوار میں قائداعظم کی خدمات کو بلا کسی تامل کے بیان کر دیا ۔ اُنہوں نے کانگریس اور مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے تحفظات کیلئے قائداعظم کی کوششوں کے پس منظر میں کرپس تجاویز پر قائداعظم کے مثبت موقف کی تعریف کی بلکہ نہرو ، گاندہی اور پٹیل کو تقسیم ہندوستان کا ذمہ دار بھی قرار دے دیا ۔بہرحال جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں قائداعظم کے حوالے سے جو بھی موقف اختیار کیا ہے ، اُسے ہندوستانی سیاست کیلئے تو موزوں قرار دیا جا سکتا ہے لیکن پاکستان میں ایسے کسی بھی موقف پر غیرضروری جوش دکھانے سے اِس لئے بھی پرہیز کیا جانا چاہئیے کیونکہ پاکستان میں اِس نوعیت کی بحث کو بھارت میں اکھنڈ بھارت کی نئی کوششوں کے پس منظر میں ہی دیکھا جائیگا جبکہ ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک علیحدہ مملکت کے حصول کیلئے قائداعظم کی جدوجہد کو درست پیرائے میں سمجھنے کی ضرورت اپنی جگہ مسلمہ ہے ۔
بلاشبہ ہندو کانگریس کی طرح برطانوی حکومت ہند بھی وحدت ہندوستان میں ہی یقین رکھتی تھی اور کیبنٹ مشن پلان کو اِسی مقصد کو آگے بڑھانے کا ایک ذریعہ سمجھا گیا تھا ۔ جولائی 1945 میں شملہ کانفرنس کے ناکام ہونے کے بعد برطانوی حکومت ہند نے ہندوستان کی دونوں بڑی جماعتوں کانگریس اور مسلم لیگ کی نمائندہ حیثیت جاننے کیلئے دسمبر 1945 میں مرکزی اسمبلی اور مارچ 1946 میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرائے ۔ مرکز میں مسلم لیگ نے تمام مسلم نششتوں پر کامیابی حاصل کی اور صوبائی اسمبلیوں کی تقریباً نوے فی صد نششتوں پر مسلم لیگی اُمیدوار کامیاب ہوئے لہذا حصول پاکستان کے حوالے سے مسلم لیگ کی نمائندہ حیثیت وضاحت سے سامنے آگئی لیکن تاج برطانیہ کی حکومت پھر بھی ہندو اکثریت کی حمایت سے وحدتِ ہندوستان کو کسی نہ کسی شکل میں قائم رہنے پر ہی مُصر رہی اور اِس مشن کی تکمیل کیلئے برطانوی پارلیمنٹ کی جانب سے مضبوط ترین تین رکنی وزارتی مشن ہندوستان بھیجا گیا ۔ مشن کے تینوں ارکان سٹیفورڈ کرپس ، پیتھک لارنس اور اے۔ وی۔ الیگژنڈر، کانگریسی لیڈروں نہرو اور گاندہی سے خصوصی مذاکرات میں مصروف رہے ۔ مہاتما گاندہی نے کابینہ مشن پلان کے سامنے آنے کے بعد مولانا ابوالکلام آزاد کو کانگریس کی صدارت سے سبکدوش کرا دیا اور جواہر لال نہرو کو صدارت پر لایا گیا لیکن اِس کے باوجود مولانا آزاد مختلف مواقع پر صوبوں کی گروپ بندی کے حوالے سے خصوصاً سٹیفورڈ کرپس سے گفت و شنید میں مصروف رہے جبکہ کابینہ مشن نے ہندوستان میں اپنی آمد کے بعد ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ کے تقسیم ہند کے مطالبہ کو رد کر دیا اور 16 مئی 1946 کو اعلان کیا گیا کہ ہندوستان کی وحدت کو قائم رکھا جائے گا لیکن صوبوں کو residuary powers دینے کیساتھ ساتھ خارجہ امور، دفاع اور مواصلات کے سوا تمام محکمے بھی دے دئیے جائیں گے۔ صوبوں کو A, B, C, گروپوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ لارڈ پیتھک لارنس نے 17 مئی کو ایک اہم پریس کانفرنس میں کہا کہ بی اور سی گروپ کے صوبے دس سال تک بھارتی یونین میں رہنے کے بعد اپنی دستوری حیثیت پر نظر ثانی کر سکیں گے یعنی اسمبلی میں اکثریتی ووٹ کی بنیاد پر خودمختار ملک بن سکیں گے ۔ اے گروپ میں ہندو اکثریتی صوبے شامل تھے جبکہ بی گروپ میںپنجاب ، صوبہ سرحد ، صوبہ سندھ اور برٹش بلوچستان جبکہ سی گروپ میں بنگال اور آسام شامل تھے ۔ قائداعظم کیلئے یہ ایک بہت ہی مشکل فیصلہ تھا ۔ اُنہوں نے 6 جون 1946 کو مسلم لیگ کونسل کا اجلاس طلب کیا جس میں دو دن تک غور و فکر اور مشاورت کے بعد قائداعظم نے مسلمانان ہند کے حقوق کے تحفظ کیلئے مستقبل کے حوالے سے ABC اسکیم میں ایک وسیع تر پاکستان کو اُبھرتا ہوا محسوس کرتے ہوئے مسلم لیگ سے کابینہ مشن پلان کے حق میں قرارداد منظور کرائی لیکن کیبنٹ مشن پلان کی منظوری کو ایک جامع شرط کے تابع رکھا جس کے مطابق پلان میں شامل فریقین کی جانب سے منصوبے میں ردوبدل کی صورت میں مسلم لیگ بھی اپنی حکمت عملی میں ترمیم و نظر ثانی کر سکتی تھی چنانچہ نہرو نے 20جولائی 1946 کو صوبوں کی گروپنگ اور دس برس کے بعد صوبوں کی آزادی کے حق کو ماننے سے انکار کر دیا ، لہذا قائداعظم کی ہدایت پر 25 جولائی 1946 کو مسلم لیگ کونسل نے کابینہ مشن پلان کی منظوری کی درخواست واپس لے لی ۔ حقائق یہی ہیں کہ قائداعظم نے کابینہ مشن پلان میں ایک وسیع تر پاکستان کو اُبھرتا ہوا دیکھا تھاجسے جواہر لال نہرو ، گاندہی اور سردار پٹیل نے تسلیم کرنے ے انکار کردیا ۔
وحدت ہندوستان کے حوالے سے جسونت سنگھ قائداعظم کی سیاسی بصیرت میں جو کچھ دیکھتے ہیں وہ جذبہ اپنی جگہ قابل قدر سہی لیکن قائداعظم اکھنڈ بھارت یا وحدت ہندوستان کی سوچ کے کبھی حامی نہیں رہے ۔ ایک اچھے سیاست دان کی طرح اُنہوں نے مشکل حالات میں مسلمانانِ ہند کو یکجہتی کی لڑی میں پرویا اور ہندو انگریز گٹھ جوڑ کے باوجود جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی تقدیر بنانے کیلئے موقع کے منتظر رہے ۔ قائد اعظم اعتدال پسند اسلامی اصولوں پر یقین رکھتے تھے ۔ اپریل 1946 میں جب کانگریس انگریز سازش اپنے عروج پر تھی ا ور بظاہر ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ کانگریس ، انگریز اتحاد پاکستان نہیں بننے دیگا تو قائد اعظم نے مجالس قانون ساز کے تمام لیگی ممبران کا ایک ہنگامی کنونشن دہلی میں طلب کیا۔ اس کنونشن میں حصول پاکستان کے لئے تن ، من ، دھن نچھاور کرنیکی بات کی گئی اور تمام مشکلات کا پامردی سے مقابلہ کرنے کے لئے بشمول قائد اعظم تمام لیگی ممبران نے ایک تاریخی حلف نامے پر دستخط کئے جس سے قرون وسطی کی اسلامی روح تازہ ہو گئی۔ اس حلف نامے کی ابتدا اس قرآنی آیتء کریمہ سے کی گئی۔ کہہ دو کہ میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا ، سب اللہ رب العا لمین کے لئے ہے جبکہ اس حلف نامے کا اختتام اس آیت ء کریمہ سے کیا گیا۔ اے پروردگار ، ہمیں صبر و استقامت دے ، ہمیں ثابت قدم رکھ اور قوم ء کفّار پر ہمیں فتح و نصرت عطا فرما،آمین ! ۔ اِس حلف نامے پر سب سے پہلے قائداعظم نے دستخط کئے ۔ چنانچہ جسونت سنگھ یا دیگر سیاسی دانشور اپنی کتابوں میں قائداعظم کو چاہے کسی بھی نام سے پکاریں، چاہے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک اور لیڈر ، کے ایل ایڈوانی قائد اعظم کے اعتدال پسند اسلامی نظریات کو سیکولر نظریات سے تعبیر کرنے کی تکرار کرتے رہیں لیکن مندرجہ بالا حلف نامے کی روشنی میںقائداعظم کی حصول پاکستان کی جدوجہد تاریخ میں نمایاں رہے گی کیونکہ قائداعظم کی قیادت میں مسلمانان ہند نے وحدت ہندوستان کے نظریات کو مسترد کر تے ہوئے اگست 1947 میں مسلمانوں کے لئے جنوبی ایشیا میں ایک علیحدہ مملکت پاکستان حاصل کی تھی اور یہی ایک مستند حقیقت ہے کہ آج قائداعظم کا پاکستان اسلامی دنیا میں وہ واحد ملک ہے جو ایٹمی قوت بن گیا ہے۔ قائداعظم زندہ باد ، پاکستان پائندہ باد
Source: Daily Jinnah
Recent Comments