شہزاد ملک
گزشتہ دو سال کے دوران معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت اعلی عدالتوں کے ججوں کی بحالی اور آزاد عدلیہ کے لیے چلائی جانے والی وکلاء کی تحریک بلاشبہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی تحریک ہے۔
اس تحریک میں نشیب و فراز آتے رہے موجودہ اور سابق حکومت کی طرف سے اس تحریک میں شامل وکلاء کو مختلف نوکریاں دی گئیں جن میں ہائی کورٹ کے جج بنانا بھی شامل تھا لیکن اس کے باوجود یہ تحریک چلتی رہی۔
نو مارچ سنہ دو ہزار سات کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا جسے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوا دیا گیا۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے بینچ نے حکومتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اُنہیں بیس جولائی سنہ دوہزار سات کو بحال کردیا۔
افتخار محمد چودھری اور اُس وقت کی حکومت کے درمیان تعلقات بہتر نظر نہیں ائے اور اُس وقت کے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے تین نومبر سنہ دوہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے اُن سمیت ساٹھ ججوں کو معزول کرکے اُنہیں گھروں میں نظر بند کردیا۔ اُس وقت کے صدر پرویز مشرف کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں زیر سماعت تھیں جو اُن کے بطور آرمی چیف صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے خلاف دائر کی گئیں تھیں۔
اگرچہ سپریم کورٹ نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو چھ اکتوبر سنہ دوہزار سات کو صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت تو دے دی تھی لیکن الیکشن کمشن کو ہدایت کی گئی کہ وہ اُس وقت تک کسی بھی اُمیدوار کی کامیابی کا نوٹیفکشین جاری نہ کریں جب تک ان درخواستوں پر فیصلہ نہیں ہوجاتا۔ پرویز مشرف کو ان انتخابات میں کامیابی تو ضرور ملی لیکن چونکہ الیکشن کیشن نے اس کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا تھا اس لیے اُنہیں خطرہ تھا کہ سپریم کورٹ اُن کے خلاف کوئی فیصلہ نہ دے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے تین نومبر سنہ دوہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے بعد عبدالحمید ڈوگر کو پی سی او کے تحت سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بنا دیا گیا جنہوں نےنظریہ ضروت کے تحت پرویز مشرف کو وردی میں انتخابات میں حصہ لینے کو جائز قرار دیتے ہوئے الیکشن کمشن کو اُن کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے احکامات دیئے۔
پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور حلف اُٹھانے والے دیگر جج وکلاء برادری میں متنازعہ رہے اور وکلاء کی ایک بڑی تعداد اُن کو تسلیم نہ کرتے ہوئے اعلی عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔
پندرہ دسمبر سنہ دو ہزار سات کو ملک میں آئین بحال کردیا گیا اور پی سی او کے ججوں نے ائین کے مطابق دوبارہ حلف لیا۔ اگرچہ معزول ججوں میں سے متعدد ججوں نے حلف اُٹھا لیا لیکن افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے حلف نہیں اُٹھایا۔
ججوں کی بحالی کی تحریک جو ایک وقت میں دم تورتی ہوئی دیکھائی دیتی تھی لیکن اس سال سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بییٹی کو اضافی نمبر دینے کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد اس تحریک میں ایک مرتبہ پھر جان آگئی۔وکلاء کے علاوہ سیاسی جماعتوں نے بھی اس واقعہ کو آڑھے ہاتھوں لیا اور وہ عبدالحمید ڈوگر کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے رہے جبکہ اس معاملے میں حکومت میں شامل وزراء جو پہلے افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی تحریک میں شامل ہوتے تھے اس معاملے میں عبدالحمید ڈوگر کا دفاع کرتے ہوئے نظر آتے تھے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد جو سب سے پہلا کام کیا تھا اُن میں اُن ججوں کو فوری طور پر رہا کرنے کے احکامات جاری کیے گئے جنہیں پرویز مشرف کی حکومت نے نظر بند کردیا تھا۔افتخار محمدچودھری دنیا کے واحد چیف جسٹس ہیں جنہیں دو دفعہ معزول کیا گیا اور پھر دوبارہ اُنہیں بحال کیا گیا۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/03/090315_lawyers_movement.shtml
Related posts:








Recent Comments