محترمہ ارتضیٰ رباب المعروف فلمسٹار میر انے اپنے شوہر نامدار کو قتل کی دھمکیاں دینے اور اس کا قیمتی سامان چرانے کے مقدمے میں عدالت سے عبوری ضمانت کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے ’’شوبز میں میرا بڑا نام ہے ۔ جب بھی کوئی کام کروں گی وہ میرے نام کی طرح بڑا ہو گا‘‘۔ ۔ ۔ ان بڑے لوگوں کی یہی خوبی یا خامی ہے کہ ستم ظریف اپنے بڑے بڑے کارہائے نمایاں کو بھی چھوٹے کام سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ میرا نے کام یہ بھی کوئی ایسا معمولی نہیں کیا تھا ۔ اس نے عتیق الرحمن سے کوٹھی اور تین کروڑ روپے کے بدلے نکاح کیا۔ ایک لاکھ روپے ماہانہ خرچ اور طلاق کی صورت میں دو کروڑ روپے لینے کا حق حاصل کیا۔ پھر کسی دوسرے شخص سے تعلقات استوار کئے اور اپنے خاوند کا داخلہ اسی گھر میں ممنوع قرار دے دیا۔ یہی نہیں بلکہ عتیق الرحمن کے مطابق میرا نے اسے قتل کی دھمکیاں دینے کے علاوہ گھر سے اس کا قیمتی سامان بھی چوری کرلیا۔ اخبارات میں وہ تصاویر شائع ہوئی ہیں جن میں میرا دلہن بنی بیٹھی ہے اور ایک مولانا عتیق الرحمن کے ساتھ اس کا نکاح پڑھا رہے ہیں ۔ مسماۃ ارتضیٰ رباب نے ایک اور ’چھوٹا سا‘ کام یہ کیا کہ نکاح مذکور کی تردید کرتے ہوئے گل افشانی کی ’’ایسی تو میری سینکڑوں تصاویر پرستاروں کے ساتھ موجود ہیں ‘‘ اس پر ہمیں ایک اداکارہ کا وہی پرانا قول پھر سے یاد آیا کہ جب اس سے انٹرویو کے دوران پوچھا گیا ’’شادی شدہ ؟‘‘ جواب آیا’’کبھی کبھی ‘‘ ۔ ۔ ۔ ہمارے شوبز کی ہستیاں ایسے کام اکثر کرتی رہتی ہیں لیکن اپنی روایتی منکسرالمزاجی کی بدولت انہیں کوئی بڑا کام ہر گز نہیں سمجھتیں۔
بڑے لوگوں کے ایک ’چھوٹے سے ‘ کام سے وزیر خزانہ شوکت ترین نے پردہ اٹھایا ہے کہ ’’با اثر چینی مافیا نے 25ارب روپے سے زائد خالص منافع کما لیا‘‘ انہوں نے کہا ’’ حکومت اور اپوزیشن میں بیٹھے چینی مافیا کے اثرو رسوخ کے باعث ملک میں چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر پر ہاتھ ڈالنا ممکن نہیں ‘‘ نیز یہ کہ ’’ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے بے تحاشا چینی موجود ہے ۔ تاہم شوگر ملز مالکان ٹی سی پی کو حکومت کی خریدی ہوئی چینی اٹھانے کی اجازت نہیں دے رہے‘‘ ۔ ۔ ۔ کسر نفسی اچھی چیز ہے ، لیکن اتنی بھی اچھی نہیں کہ بقول وزیر خزانہ ’’حکومت اور اپوزیشن میں بیٹھا چینی مافیا‘‘ عوام کی جڑوں میں بیٹھ کر بھی میرا کی طرح اپنے اس کارنامے کو بڑا کام نہ سمجھے ۔
ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات میں حالیہ اضافے سے حکومت صارفین سے 15ارب روپے ماہانہ حاصل کرے گی ۔ حکومت نے جس طرح شوگر مافیا کے دباؤ میں آ کر چینی پر جی ایس ٹی نصف کیا ہے اسی طرح اسے پٹرولیم مصنوعات پر پہلے سے عائد دوہرے ٹیکس یعنی پٹرولیم لیوی اور جنرل سیلز ٹیکس میں کمی کرنی چاہیے تھی ۔ عوام پر ان دونوں ٹیکسوں کا ماہانہ بوجھ تقریباً18ارب روپے ہے جو آگے چل کر سالانہ 224ارب روپے بنے گا۔ اس میں پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا 114ار ب روپے اور جی ایس ٹی کی مد میں 100ارب روپے کا بارگراں رواں سال عوام کو اٹھانا پڑے گا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ’’متذکرہ دونوں ٹیکسوں کے علاوہ حکومت ڈیزل پر کسٹم ڈیوٹی بھی وصول کر رہی ہے جس سے سالانہ 15ارب روپے کے لگ بھگ ٹیکس جمع ہو رہا ہے ۔ تاہم اس ٹیکس کی تشہیر نہیں کی جاتی ‘‘۔ ۔ ۔ تشہیر کی ضرورت بھی نہیں ۔ عوامی تولیئے کو نچوڑ کر اس سے15اور 224ارب جیسی حقیر رقمیں پٹرولیم ٹیکس کی صورت ایسے وقت میں حاصل کرنا جب کہ اس تولیئے کے پھٹنے کا بھی کوئی خطرہ نہیں کوئی ’بڑا‘ کام تو ہے نہیں کہ اس کی تشہیر کی جائے ۔
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے ’’آئی ایس آئی ہمیشہ سے سیاست میں ملوث رہی ہے ‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ آئی جے آئی بنانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں جو پیپلز پارٹی کے خوف سے بنائی گئی تھی ۔ ادھر اصغر خان نے مطالبہ کیا ہے کہ چیف جسٹس 1996ء میں ان کی طرف سے فائل کی گئی درخواست /کیس کو ری اوپن کریں ۔ اس کیس میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) اسلم بیگ نے تسلیم کیا تھا کہ 1990ء میں ’رقوم‘ کی تقسیم کی ہدایت غلام اسحق خان کے الیکشن سیل نے دی تھی ۔ بعد ازاں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسد درانی نے ایف آئی اے کو دیئے گئے ایک حلف نامے میں تسلیم کیا کہ اس سیل نے یونس حبیب سے 140ملین روپے حاصل کئے تاکہ اسلم بیگ کی ایماء پر ان کو پی پی پی مخالف سیاست دانوں میں تقسیم کیا جائے ۔ ۔ ۔ آج بریگیڈیئر (ر) امتیاز نے ایک نجی ٹی وی پر کہا ہے کہ انہیں بے نظیر حکومت کے خلاف آپریشن مڈ نائٹ جیکال پر ندامت ہے ۔ ادھر سید منور حسن نے مطالبہ کیا ہے کہ ’’سیاستدانوں کو بریف کیس دینے کا اعتراف کرنے والوں کو کٹہرے میں لایا جائے ‘‘ ۔ ۔ ۔ جہاں تک کٹہرے میں لانے کا سوال ہے تو یقینا بریف دینے اور لینے والی دونوں ’پارٹیوں‘ کو یہاں لانا چاہیے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وطن لذیذ میں عوامی مینڈیٹ اور رائے کو بلڈوز کرکے ’جماعتیں‘ اور ’اتحاد‘ بنانا، ان مقاصد اولیٰ کے لئے رقوم تقسیم کرنا اور منتخب حکومتوں کے خلاف آپریشن مڈ نائٹ جیکال کرنا یا ان پر شب خون مارنا وغیرہ ’بڑے‘ لوگوں کے ایسے کام ہر گز نہیں کہ جن کو وہ ’بڑے کام‘ سمجھتے ہوں۔ انشاء اللہ جونہی کسی بڑے آدمی نے کوئی بڑا کام کیا، سید منور حسن کی خواہش پوری ہو جائے گی۔
ان ’چھوٹے چھوٹے‘ کاموں کے درمیان پنجاب حکومت نے واقعی ایک بڑا کام کیا ہے ۔ صوبائی کابینہ نے اپنے اجلاس میں لاہور ہائی کورٹ کے چینی 40روپے کلو فروخت کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے اور اس فیصلے پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔ انتظامیہ شوگر ملز پر چھاپوں کے دوران اب تک 20 لاکھ بوریاں چینی قبضے میں لے چکی ہے ۔ میاں شہباز شریف ’مروجہ روایات‘ سے ہٹ کر بڑے کام کر رہے ہیں(جس کی وجہ سے ڈر ہے کہ کہیں انہیں کٹہرے میں نہ لا کھڑ اکیا جائے ) ورنہ تو حالت یہ ہے کہ اس راز کی تہہ تک پہنچنا محال ہے کہ بڑے لوگ چھوٹے کام کر رہے ہیں یا چھوٹے لوگ بڑے کارنامے؟ ۔ ۔ ۔ ایسا لگتاہے کہ ہر شاخ پر ایک ’نابالغ‘ بیٹھا ہے اور میرا کی ہمنوائی میں پورے عزم کے ساتھ قوالی کر رہا ہے کہ ؂
میں لڑکاہوں اک چھوٹا سا ، پر کام کروں گا بڑے بڑے

http://www.dailyjinnah.com/?p=24842

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha