ایک تو ہم سیدھے سادے بہت ہیں اوپر سے حافظہ نہایت کمزور، ضروری کام تک بھول جاتے ہیں کہ کرنا کیا تھا، مثلاً کل ہی ہم سوچ رہے تھے کہ افطاری کے لئے بیگم سے فرمائش کیا کرنی ہے، بہت سوچا مگر یاد کچھ نہ آیا ادھر بیگم صورت سوال بنی کھڑی تھیں، جب وہ سامنے ہوں اور ہمیں کچھ نہ یاد آئے تو اور بھی نروس ہو جاتے ہیں چنانچہ ہم نے یوں ہی عرض کردیا … ”بھئی آج تو افطاری میں دہی پھلکیاں بنا لیجئے!“ انہوں نے غصے سے ہماری طرف دیکھا اور بولیں … ”تو اتنے دنوں سے کیا بن رہا ہے؟ روز روز ایک سی افطاری اچھی نہیں لگتی“ مگر پھر ہمارے چہرے پر مایوسی کے سائے گہرے ہوتے دیکھ کر کہنے لگیں ”چلئے آپ کہتے ہیں تو آج پھر بنائے دیتی ہوں مگر دہی ختم ہوگیا ہے“ چنانچہ انہوں نے دہی کے لئے ہمیں کثیر رقم دی اور ہم گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہم نے خود کو فروٹ منڈی میں پایا ذرا سی حیرت ہوئی کہ یہاں کیوں ہیں؟ پھر یاد آیا کہ کئی دن ہوئے بیگم نے ہم سے تربوز لانے کی فرمائش کی تھی اس لئے یقین کامل ہوگیا کہ تربوز ہی لانا تھا چنانچہ کئی دکانیں گھوم پھر کر کوئی بڑا سا تربوز ڈھونڈتے رہے۔ بالآخر کامیاب ہوئے اور شام کو گھر واپس آئے تو بیگم پریشان تو پہلے ہی تھیں اب سخت حیران بھی ہوئیں اور بولیں ”یہ آپ سے گول کدو کس نے منگایا تھا“۔
اب اس بھول سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم صرف کام ہی میں کمزور ہیں ناموں کا بھی یہی حال ہے کہ اکثر ذیشان کو ریحان اور ریحان کو فرقان کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ ہماری بھانجیاں اور بھتیجیاں ہم سے سخت نالاں ہیں کیونکہ اگر کسی شادی وغیرہ میں کسی خاتون سے ان کا تعارف کرانے کی نوبت آجائے تو بھانجی کو بھتیجی اور بھتیجی کو دور کی عزیزہ بتا دیتے ہیں۔ ان کے بچوں کے نام بھی ہمیں آج تک یاد نہیں ہوسکے کئی بار ہم لمبو کو چھوٹو اور چھوٹو کو موٹو کہہ کر پکار چکے ہیں ہماری ایک بھتیجی جس کی ابھی کوئی اولاد نہیں ہے اس وقت سخت ناراض ہوتی ہے جب ہم اس کی کسی پڑوسن کے بھونڈے سے بچے کو گود میں اٹھا کر پیار کرتے ہوئے کہتے ہیں، تمہارا یہ والا بچہ ہو بہو تم پر گیا ہے۔ بات صرف یہی نہیں ہے کہ ہمیں قریب ترین عزیزوں کے بچوں کے نام یاد نہیں رہتے بلکہ اپنے بچے بھی کون سے یاد رہتے ہیں اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ ہمارے بچے کتنے ہیں تو صحیح تعداد یاد کرنے کے لئے جھنجھٹ سے بچنے کیلئے اندازاً دو چار زیادہ ہی بتا دیتے ہیں کہ اس میں فال نیک پوشیدہ ہے۔
ہمارے اکثر پرانے دوست ہم سے سخت ناراض رہتے ہیں کہ اگر وہ سرراہ مل جائیں تو ہم انہیں پہچانتے کیوں نہیں، اس مشکل کا توڑ ہم نے یہ نکالا کہ راستے میں کوئی بھی اپنے طرف دیکھتا نظر آجائے تو رفع شر کی خاطر دوڑ کر اس سے لپٹ جاتے ہیں اچھل کر زور سے بھینچتے ہیں اور پرانی بے تکلفی ظاہر کرنے کے لئے ایک آدھ زور دار گھونسہ بھی ٹکا دیتے ہیں پھر کہتے ہیں ابے تم تو ملتے ہی نہیں ہو یار تفضل حسین“ وہ صاحب ناراض ہو کر کہتے ہیں ” کون تفضل حسین، میں تو عبدالمجید ہوں“ اب ہمارے لئے یہ بتانا مشکل ہوتا ہے کہ چہرے پہچاننے میں بھی ہماری یادداشت ساتھ نہیں دیتی لہٰذا اصلاح احوال کے لئے فوراً تمیز سے کہتے ہیں ”ہمارے ایک دوست کی صورت بھی ایسی ہی بھدی اور بے ڈھنگی تھی، آنکھیں بھی ہو بہو ایسی چندھی تھیں، ناک بھی یونہی پکوڑے جیسی تھی اور کان تو آپ کی طرح بالکل ہی بن مانس جیسے تھے“ بس اس کے بعد نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ جاتی ہے جس کی ہولناک تفصیل ضروری نہیں۔
محلے کے اکثر دکانداروں اور ٹھیلے والوں کو ہمارے حافظے کی کمی کا اچھی طرح اندازہ ہے اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو ہم سے ناجائز فائدہ اٹھانے سے نہیں چوکتے، مثلاً ابھی چند روز پہلے ہم بیگم کی فرمائش پر فروٹ چاٹ کیلئے سیب لینے نکلے تھے اور ایک سبزی والے کے ٹھیلے پر چقندر کا بھاؤ پوچھ رہے تھے کہ اس نے ذرا سخت لہجے میں کہا ”چقندر لیجئے گا بعد میں فی الحال تو آپ یہ بتائیے کہ وہ جوآپ پچھلے ہفتے تین کلو بینگن لے گئے تھے اور پیسے دینا بھول گئے تھے تو وہ کب ادا کریں گے؟؟“ ہم گھبرا گئے، ذہن پر بہت زور دیا مگر کچھ یاد نہ آیا ایسے ہی مواقع کیلئے ہمارے بعض مفسد احباب یہ نصیحت کرتے ہیں کہ ایسی چیز پر زور دینا کار عبث ہے جو موجود ہی نہ ہو لہٰذا ہم نے اس خلاء کو جھٹک دیا جہاں ذہن یا حافظہ موجود ہونا چاہئے تھا اور ٹھیلے والے سے ان تین کلو بینگن کی قیمت پوچھی جو ہم نے کبھی نہیں خریدے تھے۔ اس خبیث شخص نے ہمیں مزید پکا کرنے کیلئے کہا ”شکر ہے آپ کو یاد آگیا“ ہم بلا وجہ ایک قہقہہ لگا کر بولے ”ارے ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا!“ اس نے مسکرا کر جو قیمت بتائی وہ ہم نے فوراً ادا کر دی پھراس اظہار ممنونیت کے طور پر کہ اس نے قرض کی ادائیگی کے لئے غیر مہذب لہجہ اختیار نہیں کیا تھا ہم نے ٹھیلے پر موجود تمام بینگن خرید لئے جو ساڑھے چار کلو نکلے۔گھر پہنچ کر جب بیگم نے فروٹ چاٹ کیلئے ساڑھے چار کلو بینگن دیکھے تو ان کے ارشادات عالیہ کا ذکر یوں غیر ضروری ہے کہ گھر کی باتیں باہر کرنا شرفاء کا دستور نہیں ہے۔ (جاری ہے)
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=373042

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha