آرمی جنرل ہیڈ کوارٹر راولپنڈی، پاکستانی جمہوریت کا دشمن نہیں یا یوں کہیں کہ سب سے بڑا دشمن نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کا سیاسی طبقہ ہی ہے جو خود اپنا سب سے بدترین دشمن ہے۔ اسکی نااہلی روز روشن کی طرح عیاں ہے اور ماضی سے سبق سیکھنا تو اس نے سیکھا ہی نہیں جبکہ ہمارے سیاسی طبقے میں ایک اور ناقابل اصلاح قسم کا جنوں بھی پایا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ طبقہ ہمیشہ سازشی منصوبوں کے تانے بانے بنتا رہتا ہے، سو ان عوامل کی موجودگی میں فوج اگر حکومت کا تختہ الٹتی ہے تو ظاہر ہے اس کے لئے میدان تو سیاسی طبقہ خود ہموار کرتا ہے۔ دور کیوں جائیے، ذرا موجودہ سیاسی منظر نامے پر ہی غور فرما لیں، سیاسی طبقہ اپنی ماضی کی بری عادتوں سے پیچھا نہیں چھڑا سکا ہے اور نہ ہی اسے مستقبل میں قدم رنجہ فرمانے کا قرینہ اور سلیقہ آیا ہے،سو اغلب گمان یہ ہے کہ ہمارا سیاسی طبقہ ایک نئے سیاسی کلچر کی تشکیل میں ناکام ہے۔مانا کہ فوجی مہم جوئی کا اپنا کردار ہے کیونکہ پاکستان میں آرمی چیف کی پوزیشن اتنی طاقتور ہے کہ کوئی بھی اس عہدے پر ہووہ اپنے آپ کو اس ”نجات دہندگی“ کے سینڈروم سے نہیں بچا سکتا اور یہی ہماری تاریخ پر لگا سیاہ دھبہ ہے۔ اس نجات دہندگی کے سینڈروم کو ابھارنے میں خودغرض صحافیوں اور سیاستدانوں کا اچھا خاصا عمل دخل ہے کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آرمی چیف کے کان میں یہ بات پھونکتے رہتے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے قوم کو بچانے کا ایک موقع دیا ہے۔ لیکن ایوب سے لیکر مشرف تک جتنی مرتبہ بھی قوم کو بچانے کی کوششیں کی گئیں، وہ سبھی کوششیں ہماری قوم کے لئے عظیم سانحے ثابت ہوئے۔
لیکن چلئے اس ایک نکتے پر تو اتفاق کرتے چلیں کہ صرف فوجی مہم جوئی کو قصور وار نہ ٹھہرایا جائے بلکہ یہ سیاستدان ہی ہیں جو فوج کو مداخلت کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ سیاستدان ہی ہیں جو جی ایچ کیو کے گھوڑوں کو باہر آنے کی شہ دیتے ہیں۔لیکن یوں لگتا ہے کہ پاکستان کے سیاسی گھوڑے کچھ نہ سیکھ سکے۔ وہ اپنی ماضی کی غلطیوں کو دہرائے چلے جاتے ہیں اور اپنی خالص حماقتوں سے سیاسی فضا میں ہلچل اور گرما گرمی مچائے رکھتے ہیں۔ اور جب بالآخر جمہوریت کا لاشہ کفن میں سجا کر جی ایچ کیو کے کاندھوں پر لاد دیا جاتا ہے تو طاقت کے ایوانوں میں ایک تازہ دم گھوڑا اقتدار کے مسند پر مضبوطی سے براجمان ہو جاتا ہے اور دوسری طرف جمہوریت کے سکہ بند حامی ایک طویل مدت کے لئے آہ وبکا اور گریہ و زاری میں لگ جاتے ہیں ، تاوقتیکہ ایک بار جمہوریت بحال نہ ہو جائے۔ اور جب ایک بار پھر جمہوریت بحا ل ہوتی ہے تو ازسرنو نئی سازشیں جنم لیتی ہیں اور پھر وہی سلسلہ چل پڑتا ہے ، سو یہ معاملات اسی دائرے میں چلتے رہتے ہیں۔
مشرفی دور میں فروری 2008کے انتخابات کا ہونا ایک عجوبہ ہی ہے، یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ مانا کہ وکلاء کی تحریک نے مشرف کو کمزور کیا لیکن یہ صرف وکلاء کی تحریک ہی نہیں تھی جس نے مشرف کو وردی اتارنے پر مجبور کیا بلکہ اس کے لئے کچھ اور بھی عوامل سزاوار ہیں۔ اور ان دیگر عوامل میں بیرونی دباؤ اور فوج کے ہائی کمان کے اندر پائی جانے والی بے چینی بھی شامل ہے۔ اور پھر بینظیر بھٹو کی وطن واپسی نے تو گویا اقتدار پر مشرف کی گرفت کو مزید ڈھیلا کر دیا۔اور اسکے بعد واقعات کا ایک لامتناہی سلسلہ چل پڑا۔ بینظیر بھٹو وطن واپس لوٹیں تو نواز شریف کے پاکستان آنے کی راہیں بھی کھل گئیں۔ وہ مشرف جس نے 10ستمبر 2007کو نواز شریف کو پاکستان سے واپس بھیج دیا تھا، اب سعودیوں کے آگے بے بس تھا کیونکہ سعودیوں نے یہ دلیل دی کہ جب بینظیر بھٹو واپس آچکی ہیں تو پھر نواز شریف کیوں وطن واپس نہیں لوٹ سکتے اور مشرف کوسعودی عرب کی بات ماننے پر مجبور ہونا پڑا۔مشرف کے دن گنے جا چکے تھے کیونکہ خود انکی تقدیر بھی ان سے روٹھ گئی تھی۔ بینظیر بھٹو کی ہلاکت مشرف کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی۔اس سانحے کے بعد عوامی غم و غصے کا وہ سیلاب آیا جس میں سب کچھ بہہ گیا اور مشرف اور انکی چنیدہ جماعت یعنی قاف لیگ بھی انتخابات میں خود کو بھی نہ سنبھال سکی۔ لیکن بینظیر بھٹو کے قتل کے پیچھے کونسے ہاتھ ملوث تھے؟ یہ ہم اب تک نہیں جان پائے ہیں اور شاید کبھی جان بھی نہ سکیں کیونکہ ہماری تاریخ ایسے سانحوں سے بھری پڑی ہے لیکن ہم ان میں سے کسی بھی سانحے کی حقیقت سے آج تک باخبر نہ ہو سکے۔ لیکن عوامی ذہن کچھ عجیب منطق پر کام کرتا ہے، عوام نے اپنی سوچ کے مطابق مشرف کو بینظیر بھٹو کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا اور انہیں اس کا خراج بھی دینا پڑا، 18فروری 2008کے انتخابات اسکی گواہی دیتے ہیں۔
لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہم ناشکروں پر مشتمل قوم ہیں۔ یا پھر یوں کہئے کہ ہمارے سیاسی طبقے کو ناشکری کا مرض نامراد لگ گیا ہے کیونکہ وہ کسی چیز پر قانع یا مطمئن ہوتا نظر نہیں آتا۔ جب مشرف کا دور تھا تو یہ جمہوریت کے لئے چلاتے تھے، آہیں بھرتے تھے لیکن جمہوریت کی بحالی کے بعد مطمئن ہونے کی بجائے یہ طبقہ ایک بار پھر عدم اطمینان کے بیج بونے میں مصروف نظر آتا ہے۔ پاکستان کے حقیقی مسائل کا دائرہ کافی سے زیادہ وسیع ہے، ہمارے سامنے معیشیت سے لیکر حکومت تک کے مسائل کا ایک انبار پڑا ہے لیکن یہ ہمارے سیاسی طبقے کا ہی خصوصی ٹیلنٹ ہے کہ وہ ان چیلنجوں پر قانع نہیں اور چاہتا ہے کہ مزید مسائل راہ میں آئیں، سو وہ اپنے لئے نت نئے جھوٹے مسائل خود ایجاد و اختراع کئے جا رہے ہیں۔
سردست قومی منظر نامے پر بریگیڈئیر (ر) امتیاز احمد جیسے چلے ہوئے کارتوس کے بیانات کے حوالے سے جو طوفان میڈیا میں اٹھایا جا رہا ہے، وہ خاصے سے زیادہ بے معنی و بے محل ہے۔بریگیڈئیر امتیاز ایک بھولی ہوئی داستان ہیں، وہ کیسے اور کیونکر اس موقع پر منظر عام پر آئے، اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ لیکن اصولی طور پر معاملات کا جائزہ لیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ بریگیڈئیر امتیاز کو انہی قوتوں نے دوبارہ زندہ کیا ہے جو ماضی میں بھی قومی سیاسی معاملات کو گدلانے کی ذمہ دار رہی ہیں اور یہ وہی قوتیں ہیں جو مائنس ون فارمولے کی بات کر رہی ہیں۔اسی سلسلے میں سپریم کورٹ میں گذشتہ چودہ سال سے ائیر مارشل اصغر خان کی زیر التواء درخواست کے مردے میں بھی جان ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ درخواست رقوم کی اس تقسیم کے حوالے سے ہے جو آئی ایس آئی نے پی پی پی مخالف سیاستدانوں کو 1990کی دہائی میں فراہم کی تھی۔ اس موقع پر اس مہم جوئی کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ جمہوری ڈھانچے کے خلاف ہوا کھڑا کیا جائے۔
موجودہ مہم جوئی کا پہلا نشانہ صدر آصف علی زرداری ہیں اور دوسرا نشانہ نواز شریف ہیں۔ آئی ایس آئی کی فہرست کے اجراء کا مقصد انہیں بدنام کرنا ہے۔ لیکن معاملات کا بنظر غائر جائزہ لینے سے یہ حقیقت صاف نظر آتی ہے کہ اصل ہدف ”جمہوریت “خود ہے۔ وہ عناصر جو ڈکٹیٹرشپ کے اندھیروں میں ہی پھلتے پھولتے رہے ہیں، انکے لئے جمہوریت کا تجربہ خاصا تلخ اور دشوار ہوا کرتا ہے۔ اسی لئے ہم 1988سے ہی تماشے ہوتے دیکھتے آرہے ہیں، حکومت خواہ پی پی پی کی ہو یا پاکستان مسلم لیگ (ن)کی، اس سے فرق نہیں پڑتا، بس جمہوری حکومتیں آتے ہی انہیں سازشوں کے ذریعے ہٹا دیا جاتا ہے اور انکے خلاف سرگوشیوں میں مہمیں چلائی جاتی ہیں۔اگر فوج یا انٹیلی جینس ادارے جمہوریت کے خلاف سازشیں کرتے ہیں تو یہ حقیقت سمجھنا خاصا آسان ہے کیونکہ انکا مقصد اپنی کھوئی ہوئی عظمت بحال کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ سمجھنے میں خاصی دقت ہوتی ہے کہ آخر جمہوری قوتیں کیوں اور کس لئے ان کا آلہء کار بننے پر تیار ہو جاتی ہیں کیونکہ انکی سازشوں کا مقصد سیاستدانوں کو نیچے گرانا اور جمہوریت کا جنازہ نکالنا ہوتا ہے۔ آخر سیاستدان خود اپنا بدترین دشمن بن جانے کے لئے کیسے اور کیونکرتیار ہو جاتے ہیں؟اگر ساجھے کی ہنڈیا کو بیچ چوراہے میں پھوڑنے کیلئے بریگیڈئیر امتیاز کی لایعنی یا آئی ایس آئی کے 1990کی کارگزاریوں کی رپورٹ کافی ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ 2009میں موجود سیاستدان ابھی میچورٹی یا عقل سلیم کی حد کو نہیں پہنچے۔(جاری ہے)
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=372492

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha