پنجاب پولیس کے محکمہ ’’پولیس بینڈ‘‘ کے اہلکاروں کو نجانے کیا سوجھی کہ وہ بینڈ کے سربراہ کے خلاف ہائیکورٹ آن پہنچے ۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ پنجاب پولیس بینڈکے چند اہلکاروں نے لاہور ہائیکورٹ کو ایک درخواست ارسال کی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ بینڈ کے سربراہ ’’سر‘‘اور ’’لے ‘‘سے ناواقف ہیں لہذا انہیں ان کے منصب سے برخاست کیا جائے ۔ درخواست میں چالیس کے قریب گانوں کے نام لکھ کر دعویٰ کیا گیا ہے کہ بینڈ کے سربراہ ان گانوں کی دھن نہیں بجا سکتے ۔ معزز چیف جسٹس سے استدعا کی گئی ہے کہ بینڈ کے سربراہ کو عدالت میں بلا کر چالیس میںسے کسی بھی گانے کی دھن بجانے کو کہا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔
ہمارے درخواست گزار بھائی بڑے سادہ ہیں۔ ہائیکورٹ گئے بھی توآخر کس لئے ؟اگر وہ ذرا بھی تدبر سے کام لیتے اور پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کا مشاہدہ کر لیتے تو یقینی طور پر انہیں یہ درخواست لکھنے اور دائر کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی ۔راقم چونکہ ایک محب وطن پاکستانی ہے اور انسان دوست جذبات سے اٹا پڑا ہے ۔ لہذا میں متذکرہ درخواست گزاروں سے عرض کناں ہوں کہ میرے بھائی آپ اس درخواست کو واپس لیں اور گھوڑے یا گدھے جو بھی آپ کو میسر آئیں بیچ کر سو جائیں بلکہ اگر ممکن ہو سکے تو ابدی نیند سو جائیں کیونکہ وطن عزیز میں ایسی کسی رسم ،روایت،اصول،ضابطے اورقانون کا وجود ہی نہیں ہے جہاں کسی محکمے کی سربراہی کیلئے اس محکمے کی فنی تعلیم کا ہونا ناگزیر قرار پائے ۔سقراط نے ایتھنز کی گلیوں میں کھڑے ہو کر اس وقت کے معروف سیاستدان ’’اینی ٹاس‘‘سے کہا تھا ’’کیا کسی بھی شخص کو محض منتخب ہوجانے کی وجہ سے ہر قسم کے منصب کا اہل تصور کر لیا جائے گا؟‘‘
بینڈ باجے والے بھائیوں کا کیا خیال ہے پولیس بینڈ کے علاوہ جو یونین کونسل سے لے کر وفاقی محکموں کی وزارتوں تک ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد مختلف اداروں کی سربراہی کر رہے ہیں وہ اس فن یا شعبے میں کمال درجہ مہارت رکھتے ہیں ؟ اگر بینڈ باجے والے بھائیوں کے خیالات عالیہ ایسے ہی ہیں تو پھر واقعی ان کا بینڈ باجا بجا دینا چاہیے۔فی الحقیقت ایسا نہیں ہے ۔ہماری سابقہ حکومت نے تو پانچ سال تک ایک ایسے شخص کووفاقی وزیر قانون بنائے رکھا جسے اس کی مقامی عدالت کے لوگ بار میں داخل نہیں ہونے دیتے تھے ۔طرفہ تماشہ دیکھئے کہ یہی صاحب جب اپنی حکومت کی ترجمانی کے فریضے کا محاذ سنبھالتے تو وزیر قانون کم اوروزیر اطلاعات زیادہ لگتے ۔وہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کچھ بھی نہیں لگتے تھے بس زہر لگتے تھے ۔
اللہ کی پناہ ہے۔ہماری تابناک تاریخ بتا رہی ہے کہ ہمارے ہاں ایک ایسے صاحب وزیر اعظم کے منصب پر متمکن رہے ہیں جن کے شناختی کارڈ پر وزیر اعظم ہاؤس کا ایڈریس درج تھا ۔اور یہی نہیں یہ صاحب جو وزیراعظم کے منصب سے قبل وزیر خزانہ تھے، انہیں قومی اسمبلی کا ممبر منتخب ہونے سے قبل ہی وزیر اعظم کا پروٹو کول فراہم کر دیا گیا تھا۔ میانوالی کے بزرگ سیاستدان جناب شیر افگن نیازی بھی سابقہ حکومت میں وزارتی لطف سے محظوظ ہونے والوں میں شامل تھے۔ سرکاری طور پر وہ پارلیمانی امور کے وزیر تھے جبکہ’’غیر سرکاری‘‘طور پر وہ جنرل پرویز مشرف کے ’’وزیر دفاع‘‘تھے اس غیر سرکاری وزارت کی ادائیگی میں وہ وہاں تک آن پہنچے جہاں واپسی کا راستہ نہیں ہوا کرتا اور واپسی کیلئے جو ہوتا ہے وہ راستہ نہیں ہوتا بلکہ کچھ اور ہوتا ہے جس کا اظہار مزنگ لاہور کے وکلا نے کر دکھایا تھا۔ بینڈ باجے والوں کو اپنی پڑی ہوئی ہے جبکہ ماضی میں جنہیں امور شمالی علاقہ جات کی ذمہ داریاں تفویض کی گئی تھیں جناب فیصل صالح حیات یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے شمالی علاقہ جات کو پاکستانی نقشے کے سوا کہیں نہیں دیکھا ہوگا ۔اس کے باوجود وہ وزیر شمالی علاقہ جات تھے ۔
ماضی کی باتیں ہو رہی ہیں تو یاد آیاہمارے ایک وزیر تعلیم ببانگ دہل قرآن کے تیس پاروں کو چالیس قرار دیا کرتے تھے ۔وہ تو بھلا ہو ان کے ملازم جوزف مسیح کا جس نے انہیں بتایا کہ قرآن کے پارے چالیس نہیں تیس ہوتے ہیں ۔
چلیں یہ تو گزرے وقت کی باتیں ہیں موجودہ حکومت میں جو اصحاب وزارتوں اور ’’مشاورتوں‘‘میں شامل ہیں کیا یہ سب اپنی ذمہ داریوں پر مہارت رکھتے ہیں؟یقینا نہیں ، اب کوئی جناب راجہ پرویز اشرف کے متعلق پوچھے کہ یہ حضرت کب کے الیکٹریکل انجینئر بن بیٹھے ہیں جو انہیں بجلی کی وزارت سونپ دی گئی ہے اگر فیصل صالح حیات اس وزارت میں کچھ بد عنوانیوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں تو کچھ ایسا غلط بھی کرتے ۔اسی طرح جناب قمرالزمان کائرہ صاحب کو وزارت اطلاعات کا قلمدان سونپا گیا ہے جبکہ ان کہ تعلیم ماس کمیونیکشن کی ہرگز نہیں ہے اور نہ ہی وہ کبھی شعبہ صحافت سے وابستہ رہے ہیں ۔جناب ممتاز عالم گیلانی کو ہیومن رائٹس کی وزارت میسر ہے جبکہ انہیں پاکستان میں موجود انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی این جی اوز کی تعداد بھی معلوم نہیں ہوگی۔
پولیس بینڈ والے بھائیوں سے درخواست ہے کہ اس قدر دل گرفتہ نہ ہوں یہ محض ان کے محکمے کا ہی نہیں، تمام محکموں کا یہی حال ہے لہذا بینڈ کے سربراہ کو قسمت یا ملازمت کا لکھا سمجھ کر گوارا کر لیں بصورت دیگر بینڈ کا سربراہ تو شاید ان کی کوششوں سے تبدیل نہ ہو یہ خود تبدیل ہو جائیں گے۔
Source: Daily Jinnah, 4th September 2009
Recent Comments