پاکستان کے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز ایک زمانے میں لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں بڑے مصروف دن گزارا کرتے تھے۔ ان کے کئی پرانے دوست بڑی بڑی باتیں بتاتے ہیں۔ اس طرح ایک زمانے میں سٹی بنک میں شوکت ترین اور شوکت عزیز سٹار بنکار سمجھے جاتے تھے۔ بعد میں حالات بدلتے گئے اور پھر شوکت ترین ایک سے دوسرے بنک کا صدر بنتے گئے تو دوسری طرف شوکت عزیز بنکار سے زیادہ سیاستدان بنتے بنتے وزیر اعظم کے عہدے تک جاے پہنچے، تو اس کے بعد حالات نے پھر پلٹا کھایا۔ اس کے بعد شوکت ترین سیاسی حکومت کے وزیر خزانہ تو بن گئے لیکن انہوں نے اپنا کام ایک ٹیکنو کریٹ کے طور پر جاری رکھا، جبکہ شوکت عزیز اس معاملہ میں زیادہ سرگرم نکلے اور وزیر خزانہ سے وزیر اعظم بنے اور پھر حالات بدلتے ہی وہ پاکستان سے چلے گئے لیکن اب وہ پاکستان سے زیادہ باہر سرگر م نظر آرہے ہیں۔ سنگا پور ہو یا لندن، چین ہو یا کوئی ا ور ترقی یافتہ ملک شوکت عزیز ساٹھ سال کی عمر کے باوجود جوانوں کی طرح ایک جہاز سے اترتے اور دوسرے میں چڑھتے نظر آرہے ہیں۔ پاکستان میں عوام کی اکثریت موجودہ مہنگائی اوردیگر کئی اقتصادی مسائل کا ذمہ دار انہیں قرار دے رہی ہے لیکن وہ ان سب چیزوں سے بے نیاز اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔آج کل وہ آسیان ممالک کے سربراہوں اور اقتصادی لیڈرز کو اپنی مہارت کا قائل کرنے کے بعد امریکی صدر باراک اوباما اور دیگر عالمی لیڈروں سے براہ راست رابطہ اور ان کے ذریعے عالمی سطح پر ”پاور پالیٹکس “ میں نمایاں نظر آنے کے لئے سرگرم ہیں۔
سنگا پور میں ہر سال دنیا بھر کی بڑی بڑی کمپنیوں کی سالانہ کانفرنس منعقد ہوتی ہے۔ اس سال یہ کانفرنس 12 سے14نومبر کو سنگا پور میںApec Ceo Summit کے نام سے منعقد ہورہی ہے جس میں شرکت کرنے والے عالمی لیڈروں میں امریکی صدر باراک اوباما کا نام آخر میں دیا گیا ہے۔ اس کانفرنس کا ا فتتاح سنگا پور کے وزیر اعظم لی ہین لونگ کریں گے، جبکہ اس میں آسٹریلیا کے وزیر اعظم کیون رڈ، چلی کے صدر مائیکل بیچلٹ، چبن کے صدر ہو جنتو، انڈونیشیا کے صدر سیلم بم بانگ، کوریا کے صدر لی ہونگ باک، ملائیشیا کے صدر واتو سررنجیب، میکسیکو کے صدر فلپ کلدرن، نیوزی لینڈ کے صدر جان کے، روس کے صدر دمتری میدوف اور امریکی باراک اوباما شریک ہوں گے۔ اس کانفرنس کے رول پلیئرمیں پاکستان کے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے علاوہ دنیا کی آٹھ دس بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سربراہوں کے نام دئیے گئے ہیں۔ اس کانفرنس کا موضوع ”عالمی معیشت کی بحالی، بحران اور حل کے مواقع“ رکھا گیا ہے جس میں یقینی طور پر ترقی یافتہ ، ترقی پذیر ممالک میں غربت اور دیگر مسائل کا نام لے کر اپنے اپنے اقتصادی بحران کو حل کرنے کے لئے نہ صرف تبادلہ خیال کریں گے بلکہ اس سے” اکنامک ڈپلومیسی “ کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ اس کانفرنس کی تفصیلات دینے کا مقصد یہی ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ پاکستان میں شوکت عزیز صاحب کے خلاف جتنے مرضی الزامات اور کارروائیاں جاری رہیں انہیں اس کی کوئی پروا نہیں، وہ مزے میں اپنے اچھے بلکہ مزید اچھے مستقبل کے لئے سرگرم ہیں۔ اس لئے کہ پاکستان موجودہ حکومت اور خاص کر پوری سیاسی قیادت کی مہربانی سے عملاً امریکہ کا غلام بنتا جارہا ہے اور یہاں ہماری معیشت کو عالمی مالیاتی ادارے اور عالمی طاقتیں اپنے اپنے ایجنڈے کے تحت گروی رکھنے اور پوری قوم کو بھکاری بنانے میں مصروف ہیں۔ ایسے حالات میں یقینا ان طاقتوں کو پاکستانی شناختی کارڈ رکھنے والے کسی ماہر کی ضرورت دوبارہ پڑے گی جو ہوگا پاکستانی مگر اس کا ایجنڈا ان کا دیا ہوا ہوگا۔ اس وقت یہ امکان ہے کہ کسی غیر جمہوری یا جمہوری سیٹ اپ میں دوبارہ شوکت عزیز کی واپسی ہوجائے اور پھر ان کے خلاف سب فائلیں بند ہو کر دوبارہ انہیں اعلیٰ ترین پروٹو کول ملنا شروع ہوجائے۔
ہمیں تو چند سال قبل جیو کی بندش کے آخری دنوں میں 15 دسمبر کو ایوان صدر میں ملکی معاشی حالات کے بارے میں اس وقت کے صدر مشرف کی بریفنگ اور سوال و جواب کی نشست یاد ہے ۔ اس وقت ایک طرف جیو بند تھا اور دوسری طرف خود صدرمشرف کی حکومت بھی کچھ زیادہ مستحکم نہیں تھی ،مگر معاملات حکومت چل رہے تھے۔ اس نشست کے اختتام پر صدر مشرف سے ایک نوجوان نے سوال کیا کہ” سر شوکت عزیز صاحب کا مستقبل کیا ہے؟“
صدر مشرف نے برجستہ جواب دیا، میں نے کوئی ”دفتر روزگار“ (ایمپلائنٹ آفس) کھول رکھا ہے ۔ یہ بات آپ ان سے پوچھیں!اس پر وہاں پر موجود اس حکومت کے مشیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ، وفاقی سیکرٹری اطلاعات سید انور محمود، وزارت خزانہ کے مشیر ڈاکٹر اشفاق حسن خان ، صدر کے پریس سیکرٹری میجر جنرل (ر) راشد قریشی، چیئرمین سی بی آر عبد اللہ یوسف سمیت کئی حکام موجود تھے۔ اس کے بعد ہم نے جنگ میں کالم لکھا” ایوان میں پانچ گھنٹے“ اس پر ہمارے دوست شوکت عزیز صاحب بڑے خفا ہوئے۔ ان کی حمایت میں زاہد ملک صاحب کا فون آیا۔ اس کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ جس نوجوان نے صدر مشرف سے شوکت عزیز صاحب کے مستقبل کے بارے میں سوال کیا تھا وہ زاہد ملک صاحب ہی کے اخبار کارپورٹر تھا، بہرحال اس وقت کے حالات اور آج کے حالات میں بڑا فرق ہے۔ اس وقت شوکت عزیز جارہے تھے اور اب ان کے آنے کی باتیں کچھ عرصہ بعد شروع ہوسکتی ہیں۔ اس لئے کہ پاکستان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ اب امریکہ اور دیگرعالمی اقتصادی اور سیاسی طاقتیں ہی کیا کریں گی۔ یہ ہمار ے سیاسی قائدین اور حکومتوں کی سب سے بڑی زیادتی اور ظلم ہے۔ اس سے پاکستان میں دوبارہ” ا یسٹ انڈیا کمپنی “کادور سامنے آسکتا ہے، یعنی بجلی کے بدترین بحران ،سیکورٹی کی پریشان کن صورتحال اور دیگر کئی وجوہ کی بناء پر جب مقامی انڈسٹری یا تو بند ہوجائے گی یا عالمی مسابقت کے قابل نہیں رہے گی تو پھر انہی عالمی طاقتوں کی سرکردہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے اپنے برانڈ کو بآسانی فروخت کرسکیں گی، پھر دو وقت کی روٹی کے لئے مجبور قوم کی اکثریت مجبوری میں درآمدی اشیاء خریدنے اور کھانے پر مجبور ہوجائے گی۔ ایسے حالات میں درآمدی وزرائے اعظم اور وزراء اور پالیسی میکرز پاکستانی جیکٹ پہن کر قوم کی خدمت کا دعویٰ کریں گے۔ اس کے بعد پاکستان عالمی سطح پر نئے انداز اور نئے طرز عمل کے ساتھ ابھرے گا جس میں قوم تو پاکستانی ہی ہوگی مگر اس کے لیڈر درآمدی ہوں گے، پھر ہمارے سیاستدان اپنی اپنی غلطیوں پر پچھتارہے ہوں گے ،مگر بات کافی آگے جاچکی ہوگی اور قوم عالمی اقتصادی پالیسی ایجنڈے کی تابع ہو کر رہ جائے گی۔ یہ بہترین وقت ہے کہ پاکستان میں سیاسی قیادت اپنی قومی ذمہ داریاں پورے کرے۔ قوم کے مسائل کا احساس کرے، بجلی اور پانی کے بحران کو حل کرے۔ سارے اقتصادی ،معاشی اور سماجی مسائل کی جڑ یہی چیز ہے، اس وجہ سے صنعت اور تجارت ختم ہورہی ہے ،اس وجہ سے بے روزگاری اور دیگر سماجی مسائل بڑھ رہے ہیں اور اس وجہ سے پاکستان عالمی مالیاتی اداروں کا محتاج اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی گرفت میں آتا جارہا ہے۔ قومی مسائل حل کرنے کے لئے سیاسی قیادت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا ایک دوسرے پر سکور کرنے کی بجائے قومی سلامتی اور خوشحالی کے ایجنڈے پر کام کرے۔ خدا کرے مایوسی کے سائے گہرے نہ ہوں بلکہ روشنی کی کرنیں ابھرتی ہوئی نظر آئیں۔
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=371706

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha