پچھلے دنوں ٹی وی پرایک اشتہار آتاتھا ’’ایڈزسے بچاؤکے سلسلہ میں‘‘اس میں’’ترغیب بھی تھی تو ترکیب بھی‘‘ خاص اوقات کی تفاصیل بتانے کا موڈاشتہاروالوں کاتھا لیکن۔ ۔ ۔ مجبور ہیں اف اللہ کچھ کہہ بھی نہیںسکتے‘‘یہاں پاکستان میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کومذہب کی اخلاق کی شلوارتو پہنادی جاتی ہے بغیرانڈرویرکے۔ اہلیان ہندوستان کے چینلز پرچلنے والے پروگرام دیکھ کریہی محسوس ہوتاہے کہ وہاں چہارسو خوشیاں، قہقہے، مسکراہٹیں ہیں ادھرلاہوری سٹیج پربھی ایسی ایسی حرکات وسکنات واشارے ہوتے ہیں کہ محسوس یہی ہوتا ہے کہ یہاں ہنسی مذاق کانام محض’’مخصوص‘‘ فقرے یعنی جگت بازی ہے ایک دفعہ اس سلسلہ میں ایک کالم لکھاتھا تو ہوایوں کہ جگت بازی اورفشوعات انداز کی وجہ سے چھاپے پڑے فنکار اورفنکارائیں سب حوالات میں بندہوگئیں میں نے محترم مستانہ سے کہابولو اب کیاکہتے ہو؟ اپنے مخصوص انداز میں بولے’’بی بی کمال کرتی ہو یہی کچھ تو’’خواص وعوام‘‘ چاہتے ہیں کہ جہاں جس چیز کی کمی ہواسی کے لیے کوشش کی جاتی ہے یہودیوں کاایک قول ہے کہ’’حرام سے پیداشدہ اولاد حسین ہوتی ہے‘‘البتہ خوب سیرت نہیں۔ ۔ ۔
سیرت سے یاد آیا کہ ان دنوں تمام چینلز پرایم کیوایم،نوازلیگ، زرداری پارٹی اورریٹائرڈ فوجی افسران کے درمیان مقابلہ’’سابقہ کارکردگی‘‘ ہورہاہے یعنی ایک ایسا موضوع جس کامقصد محض وقت کاضیاع اورفضولیات کے علاوہ کچھ نہیں اس لیے میں اسلام آبادکوالزام آباد لکھتی ہوں مسئلہ جس کاتدارک وقت کی اہم ترین ضرورت ہے وہ یہ کہ نمبر 1کیا دسمبر تک بجلی بحال ہوجائے گی اورکیاکوئی عدالت اس کی قیمتوں پربھی کوئی ایکشن لے گی۔نمبر2۔ چینی کاخود ساختہ بحران حل ہوجائے گا اورسستا آٹا کے نام پرانسانیت کی جوتوہین کی جارہی ہے کہ ساری دنیامیں ہم مذاق بن چکے ہیں اس سلسلہ میں پیشہ ورسیاستدان ماسوائے بیان بازی کے عملی طورپر کچھ کرتے نظر نہیںآرہے ہیں؟کبھی پٹرول کومسئلہ بنادیاجاتاکبھی پیاز وٹماٹر جیسی سبزیوں پر کوڈی کوڈی کھیلی جاتی ہے اب جبکہ رمضان شریف کامقدس مہینہ ہمارے درمیان میں ہے توچینی نایاب، آٹے کیلئے مردوزن دھکے کھاتے زمین پرگرتے اخبارات کی زینت بن رہے ہیں کیاملک ہے یہ کیالیڈراورکیانام نہاد مسلمان ارے بھائی معلوم توکرو کہ چینی کہاں ہے اوروہ کن شرائط پرفروخت کرناچاہتے ہیں آٹا کدھرگیا لیکن قصور کسی کابھی تو نہیں کہ خدائے برتروپاک کی سزائیں ایسی ہی ہوتی ہیں یعنی غلط لوگوں سے غلط قیادت تک۔ کوئی بھی انسان دنیا میں اکیلا پیدا نہیں ہوتا وہ اپنے وجود کے اندر آئندہ آنے والی نسل کولے کرآتاہے یہی صلاحیت پرندوں،چرندوں ،درندوں کے علاوہ پھل وپھول واجناس دیگرکوبھی ہے یعنی نسل درنسل چلنے کاذریعہ البتہ عقل بدل سکتی ہے شکل بدل سکتی ہے نسل کبھی بدل نہیں سکتی اوریہ نسلیں ہی ہیں جو62سال سے شکلیں بدل بدل کرمملکت خداداد کواورعوام کولوٹ کھسوٹ کرکے کسی ایک ٹی وی چینل پر اگلے پچھلے پربہتان لگارہے ہوتے ہیں۔
فوج والے دین پرست توہوتے ہیں مولوی نہیں ہوتے انہوں نے ہرچیز کیلئے وقت مقرر کیاہوتاہے ۔یعنی ہرکام حالات کے مطابق پربدقسمتی سے وہ سیاسی طورپر نابلدہوتے ہیں لہٰذا پیشہ وروں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں اوراس سلسلہ میں اگر بغیرکسی شش وپنج کے دیکھاجائے تو جناب ایوب خان جنگ65ء کے غازی،اسلام آباد کوتشکیل دینے والے،یحییٰ خان جنہوں نے بہت کوشش کی کہ مشرقی پاکستان سازشی عناصر سے بچ جائے جناب مشرف جی جنہوں نے پاکستان میں لاتعداد سڑکیں بنوائیں کوہ مری جیسے علاقہ میں گیس کی فراہمی کویقینی بنایا۔حکومتی اداروں کی رٹ قائم کی اورابھی حال ہی میں انڈیا کے دورے میں انڈیامیڈیا کامنہ جس طرح بندکیایہ سیاستی وڈیرے نہیں کرسکتے۔
میراوجدان دیکھ رہاہے کہ جشن کی تیاری ہے،عشرت کدے آباد ہونے جارہے ہیں تاریخ دکھارہی ہے جشن کابل، روم و مصر،رتھوں کی دوڑ، لاٹریاں، جواء، رقص وموسیقی، چین کی پرانی افیون، ایران کی ٹھار، تھائی لینڈ کی تاڑی اورادھریہاں لکی ایرانی سرکس ہاتھی وشیرکھلے میدان میں۔ بندتو عرصہ دراز سے ’’مری بروری‘‘ ہے کہ پہلے مہ خانوں میںملتی تھی اب گھروں پردستیاب۔ ولی ہونامشکل نہیں کہ ولایت پرندوں،درندوں اوررینگنے والے کیڑوں میںبھی ہوتی ہے کہ آفت سے پہلے چیونٹیوں کاچھپ جانا پرندوں کااڑ جانا شیطانی قوتیں متحد ہیں اورروحانی؟ انڈین ٹھمکے، جنسانی حسن،چینی مساج،یونانی جسم،رشین سمارٹنس، ہالینڈ کی صحت، برطانوی اخلاق امریکی آزادی اور۔ ۔ ۔ پاکستان۔ ۔ ۔ انکساری، خاکساری جوحکم میرے آقا کہ نوکری کچی ہے۔ ۔ ۔ بات ہورہی ہے چینی اورآٹے کی لیکن حسب عادت اس گلی سے بازار تک جاپہنچی اوریہ الگ بات ہے کہ بازاروں میں ناکے لگے ہوئے ہیں اورناکوں پر، شاہراہوں پر دھوپ وبارش میں کھڑے تیہوری تیموری اس لیے کہ اسلام آباد کی ٹریفک پولیس کویہ لقب بہت سوٹ کرتاہے ان کااخلاق ان کی تربیت خاص کروہ عظیم لوگ جوخواتین کوڈرائیونگ سکھارہے ہیں ان کاریڈیو تفریحات کے علاوہ قانونیت کی تربیت جس انداز سے کررہاہے خداگواہ ہے کہ اس میں ملازمت نہیں محبت نظر آتی ہے یعنی عوام سے لافانی محبت ۔میں خاص طورپر محترم سلطان تیموری، محترم علی رضا ،انسپکٹر ماجد،انسپکٹرثمینہ، انسپکٹرنجمہ بھٹی وانسپکٹر نویدکوسلیوٹ کرتی ہوں کہ ان کے پاس سے پولیس کی مہک نہیں البتہ اپنائیت کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ کالم کچھ لمباہورہاہے لیکن دل چاہتاہے کہ صحافت والی راحیلہ کے انداز میں لکھوں کہ لوگ بھی اپنے ہیں اورپیرصاحب بھی موجودہیں پیرصاحب سے یاد آیا کہ داتا کی نگری،کانواں والی سرکار،امام بری سرکار ان کاعرس مناؤ،پاؤڈر، چرس اورافیون پیواوران کی ہدایات پرعمل نہ کرنا کہ دریا کامقصد یہ تونہیں کہ سمندرکے نام کاوظیفہ پڑھاجائے دریا اورچیزہے سمندراور دل دریاسمندروں ڈونگے شاید یہی بات ہے کہ دریاہرجگہ سمندرکہیں کہیں۔لوگ پریشان ہیں سکون قلب میسرنہیں بجلی کا رولا،بجلی کے بل (خودساختہ) آٹا،چینی، مہنگائی، غربت ۔جسم بے شک صاف ستھرے۔ ۔ ۔ نیت کاکیاکریں۔ ہم زمینی لوگ نہیںجانتے کہ آسمانوں پرکیاپروگرام چل رہاہے مگرحالات بتارہے ہیں کہ گڑبڑ ہے دسمبریافروری دماغ سے عاری مجنوں کہلاتے ہیں اورمجنوں سردی وگرمی سے عاری ہوتے ہیں بھوک وپیاس سے بھی کچھ ایساہی بنانے کی کامیاب کوشش جاری ہے کوشش کیاہے محض نصیب یاپھرغزل ونظم۔ ۔ ۔ حقائق کیا ہیں فیکس،موبائل، ٹی وی ، کمپیوٹریا پھرہرن کاگوشت،چشم آہو،کمرکاخم ،آنکھ کانشہ ،ناک کاتیکھاپن، سڈول جسم، ساری کوشش یہی بیت اللہ محسود، صوفی، ملاں عمر سب آتی جاتی چیزیں سب کوڈی کوڈی۔ ۔ ۔ بہرکیف۔ ۔ ۔ چینی۔ ۔ ۔ آٹا اوربجلی۔ ۔ ۔ کہ روٹی کپڑااورمکان توخواب وخیال ہوئے۔
http://www.dailyjinnah.com/?p=24428
Related posts:










Recent Comments